'ہنگامی بنیادوں' پر تدریسی اداروں کی بندش سے تعلیم پر منفی اثر پڑے گا، شفقت محمود

اپ ڈیٹ 20 ستمبر 2020

ای میل

—فوٹو: رائٹرز
—فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تدریسی اداروں کو 'جلد بازی میں بند کرنے کے فیصلے' کے خلاف انتباہ دیا جبکہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی اور کورونا کے کیسز منظر عام پر آنے کے بعد متعدد تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کے فورا بعد ہی بند کردیے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بعض طلبہ، اساتذہ اور دیگر عملے میں کورونا کیسز کے بعد سندھ نے مڈل اسکولوں کے دوبارہ کھولنے میں مزید ایک ہفتے کی تاخیر کا فیصلہ کیا ہے۔

مزیدپڑھیں: ملک بھر میں تعلیمی ادارے 6 ماہ بعد دوبارہ کھل گئے

وفاقی وزیر تعلیم نے اپنے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ 'بین الصوبائی اجلاس کے بعد اعلان کردہ ٹائم ٹیبل میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، ہم 22 اپریل کو این سی او سی میں ملاقات کریں گے اور فیصلہ کریں گے لیکن اگر موجودہ رجحان باقی رہا تو 23 ستمبر سے 6 سے 8 کلاسز کی اوپننگ کا کوئی جواز نہیں بنتا'۔

اس سے قبل وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا تھا کہ 'طلبہ کی صحت ہماری پہلی ترجیح ہے اور ہم جو بھی فیصلہ کریں گے وہ وزارت صحت کے مشورے کے بعد کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 6 ماہ تدریسی اداروں کی بندش سے طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہوئی جبکہ اداروں کو کھولنے کا فیصلہ بہت احتیاط کے ساتھ کیا گیا تھا اور کسی بھی عجلت میں تدریسی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ تعلیم کو تباہ کردے گا۔

دوسری جانب بلوچستان میں ایک یونیورسٹی کو بند کردیا گیا جبکہ کورونا کے کیسز کے دوران ایک اور التوا کلاسز دوبارہ شروع کردی۔

صوبائی حکومت نے دعوی کیا کہ 15 ستمبر کو ان کے دوبارہ کھلنے کے بعد سے تعلیمی اداروں میں 67 کیسز کے سامنے آئے علاوہ ازیں کوئٹہ، ژوب اور دیگر علاقوں میں کم سے کم 10 سرکاری اسکولوں میں بھی کورونا کے کیسز آنے کے بعد بند کردیے گئے۔

مزیدپڑھیں: سندھ میں دوسرے مرحلے میں 21ستمبر سے اسکولز نہ کھولنے کا فیصلہ

ایک احتیاطتی اقدام کے طور پر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے تجویز پیش کی کہ سندھ کی طرح وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھی مڈل اسکولوں کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کرنی چاہیے۔

صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کی تنظیم پی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کے کیسز کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

پی ایم اے نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کو درجہ حرارت میں کمی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی پر غور کرتے ہوئے ایسے فیصلے کرنے چاہیے۔

صحت سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی (ایس اے پی ایم) ڈاکٹر فیصل سلطان نے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ کیسز میں 'معمولی اضافہ' تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے سے منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم کے معاون نے کہا کہ کیسز میں 'عالمی سطح پر اضافے کا رجحان' ہے لیکن پاکستان میں حالیہ کیسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ غیرمعمولی ٹیسٹنگ تھی۔

مزیدپڑھیں: وفاقی حکومت کا تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے پر غور

گزشتہ کچھ دنوں سے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

پی ایم اے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے ڈان کو بتایا کہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں بھی وائرس کا مختلف رویہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اگرچہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں تعداد کم ہونا شروع ہوگئی اور اگست میں صرف 200 سے 300 کیسز رپورٹ ہوئے لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ لوگوں میں قوت پیدا ہوگئی یا کوئی اور وجہ ہے۔

ڈاکٹر سجاد نے کہا کہ یہ دیکھا جارہا ہے کہ امریکا، برطانیہ، برازیل اور کینیڈا وغیرہ میں ایک مرتبہ پھر کیسز میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 90 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ وائرس ختم ہوچکا ہے اس لیے انہوں نے ایس او پیز پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے یہاں تک کہ تعلیم یافتہ لوگوں نے بھی پھر سے مصافحہ کرنا شروع کردیا ہے اور یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔

پی ایم اے کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ 'مجھے یقین ہے کہ درجہ حرارت میں کمی بھی کیسز میں اضافے کی ایک وجہ ہے کیونکہ انفلوئنزا اور کورونا خاندان کے وائرس کم درجہ حرارت میں زیادہ فعال ہوجاتے ہیں'۔

مزید پڑھیں: حکومت نے 15ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کر دیا

خیال رہے کہ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے صوبائی وزرائے تعلیم سے مشاورت کے بعد 15 ستمبر سے مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد 15 ستمبر سے اسکولوں (صرف نویں اور دسویں جماعت)، کالجز اور جامعات کو مرحلہ وار دوبارہ کھول دیا تھا جس کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل در آمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔

مزید یہ کہ سندھ میں 21 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں کلاسز کے لیے اسکولز کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا جبکہ پرائمری اور پری پرائمری کو 28 ستمبر سے کھلنا تھا۔