اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 21 ستمبر 2020

ای میل

اپوزیشن نے پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیے اور قرارداد کا اعلان کیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر
اپوزیشن نے پریس کانفرنس میں مشترکہ اعلامیے اور قرارداد کا اعلان کیا— فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔

اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی میزبانی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پڑھ کر سنایا اور حکومت کے خلاف بھرپور عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ آئین پر یقین رکھنے والی اپوزیشن کی جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کی اور تحریک کو 'پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ' کا نام دیا گیا ہے۔

آج ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، قومی وطن پارٹی (کیو ڈبلیو پی)، پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ)، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم)، جمعیت اہلحدیث اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما شریک ہوئے۔

اس آل پارٹیز کانفرنس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کیونکہ اس میں علاج کے غرص سے لندن میں موجود مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کا بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔

بعدازاں کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں وزیر اعظم عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کے لیے ایکشن پلان بھی جاری کیا۔

  • آل پارٹیز کانفرنس سلیکٹڈ وزیر اعظم عمران احمد نیازی سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی ہے۔

  • متحدہ اپوزیشن ملک گیر تحریک کے آغاز کا اعلان کرتی ہے

  • وکلا، تاجر، کسان، مزدور، طالبعلم، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام کو اس تحریک کی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے گا۔

  • اکتوبر 2020 کے پہلے مرحلے میں سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں مشترکہ جلسے منعقد اور ریلیاں نکالی جائیں گی۔

  • دسمبر 2020 سے دوسرے مرحلے میں بڑے احتجاجی عوامی مظاہرے ہوں گے اور عوام کے ساتھ مل کر بھرپور ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

  • جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن لانگ مارچ ہو گا۔

  • سلیکٹڈ حکومت کی تبدیلی کے لیے متحدہ حزب اختلاف پارلیمان کے اندر اور باہر تمام جمہوری، سیاسی اور آئینی آپشنز استعمال کرے گی جن میں عدم اعتماد کی تحاریک اور مناسب وقت پر اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا آپشن بھی شامل ہے۔

اجلاس میں 27نکاتی قرارداد منظور

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں منظور کردہ قراردادیں پڑھ کر سنائیں جس کے نکات درج ذیل ہیں۔

1 - آئین اور وفاقی پارلیمانی نظام پر یقین رکھنے والی قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد 'پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ' کے نام سے تشکیل دیا گیا ہے، یہ اتحادی ڈھانچہ عوام اور غریب دشمن حکومت سے نجات دلانے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم انداز میں چلائے گا اور رہنمائی کرے گا۔

2 - اجلاس نے قرار دیا کہ موجودہ سلیکٹڈ حکومت کو مصنوعی استحکام اس اسٹیبلشمنٹ نے بخشا جس نے اسے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے اسے عوام پر مسلط کیا، اجلاس نے اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں بڑھتے ہوئے عمل دخل پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسے ملک کی سلامتی اور قومی اداروں کے لیے خطرہ قرار دیا، اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں ہر قسم کی مداخلت فوری طور پر بند کرے، اسٹیبلشمنٹ کے تمام ادارے آئین کے تحت لیے گئے حلف اور اس کی متعین کردہ حدود کی پابندی و پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔

3 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں شفاف، آزادانہ، غیرجانبدار اور شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے، اس مقصد کے حصول کے لیے فی الفور انتخابی اصلاحات کی جائیں جس میں مسلح فوج اور ایجنسیز کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔

4 ۔ سلیکٹڈ حکومت نے ریکارڈ توڑ مہنگائی، بیروزگاری، ٹیکسوں کی بھرمار سے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے،، یہ اجلاس آٹے، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو فوری کم کر کے اعتدال پر لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

5 - سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیز کے نتیجے میں تباہ حال معیشت پاکستان کے دفاع، ایٹمی صلاحیت اور ملک کی باوقار خودمختاری کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

6 - اجلاس اعادہ کرتا ہے کہ 1973 کا آئین، 18ویں ترمیم اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ قومی اتفاق رائے کا مظہر ہیں، ان پر حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

7 - اجلاس ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مذموم ادارے کو رد کرتا ہے اور وفاقی پارلیمانی جمہوریت کو پاکستان کے تحفظ کا ضامن سمجھتا ہے، اجلاس دوٹوک انداز میں واضح کرتا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی پر کوئی آنچ نہیں آںے دی جائے گی اور نہ ہی اس پر کوئی سمجھوتا کیا جائے گا۔

8 - یہ سلیکٹڈ حکومت 'سقوط کشمیر' کی ذمے دار ہے، مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور عالمی قانون کے منافی مودی سرکار کا عمل، پاکستان کی موجودہ کٹھ پتلی حکمرانوں کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہے۔

9 - اجلاس سلیکٹڈ حکومت کی افغان پالیسی پر مکمل ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

10 - اجلاس میڈیا پر تاریخ کی بدترین پابندیاں لگانے، دباؤ اور سینسرشپ کے ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ میر شکیل الرحمٰن سمیت تمام دیگر گرفتار صحافیوں، میڈیا پرسنز کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف غداری اور درج دیگر بے بنیاد مقدمات خارج کیے جائیں، اجلاس نے عزم ظاہر کیا کہ شہریوں اور میڈیا کی آزادیوں کو چھیننے کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

11 - اجلاس سیاسی قائدین، رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی بے بنیاد اور جھوٹے مقدمات قائم کرنے، ان کی گرفتاریوں اور قید و بند کی صعوبتوں کی شدید مذمت اور ان کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے، اجلاس سید خورشید شاہ اور حمزہ شہباز سمیت سیاسی انتقام کا سامنا کرنے والے تمام قائدین اور کارکنان کی جرات، بہادری اور استقامت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

12 - اجلاس نے قرار دیا کہ نیشن ایکشن پلان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، اجلاس ملک میں امن و امان کی بگڑتی اور سنگین ہوتی صورت حال پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیتا ہے کہ موجودہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بنیادی آئینی ذمے داری ادا کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، اجلاس اسلام آباد سمیت ملک کے دیگر حصوں میں حالیہ فرقہ ورانہ تناؤ میں اضافے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر حکومت کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کی شدید مذمت اور گہری تشویش ظاہر کرتا ہے، اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کیا جائے۔

13 - سی پیک قومی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، نااہل، کرپٹ اور ناتجربہ کار حکمرانوں نے سی پیک کو رول بیک کر کے اس کا وجود خطرے میں ڈال دیا ہے، اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کی رفتار فی الفور تیز کی جائے، مغربی روٹ پر موٹر وے اور ریلوے پنگامی بنیادوں پر تعمیر کی جائے۔

14- سلیکٹڈ حکومت نے پارلیمان کو بے توقیر اور بے وقعت کر کے مفلوج کر دیا ہے، عوام کے آئینی، بنیادی، قانونی اور انسانی حقوق کے منافی قانون سازی بلڈوز کی جارہی ہے اور اپوزیشن کی آواز دبائی جا رہی ہے، آج کے بعد ربر اسٹیمپ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کرے گی، اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ غیرآئینی، غیرجمہوری، غیرقانونی اور شہری آزادیوں کے منافی قوانین کو کالعدم قرار دیا جائے، میڈیکل کمیشن سمیت بلڈوز کر کے جو قانون سازی کی گئی ہے اسے واپس لیا جائے۔

15 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف، شفاف اور بغیر کسی مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں، انتخابات کے بعد قومی اتفاق رائے سے گلگت بلتستان کو قومی سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں، اجلاس قرار دیتا ہے کہ گلگت بلتستان کا علاقہ بہت حساس ہے، وہاں انتخابات میں ایجنسیوں کی مداخلت ختم کی جائےتاکہ کوئی بھی ان انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ اٹھا سکے، اجلاس نے فیصلہ کیا کہ گلگت بلتستان کے انتخابی عمل پر گہری نظر رکھی جائے گی۔

16 - اجلاس نے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقہ جات کو نوگوایریاز بنا دیا گیا ہے، یہ سلسلہ ختم کیا جائے، اجلاس نے خیبر پختونخوا میں نجی جیلوں کے قیام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ ان غیرقانونی نجی جیلوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے۔

17 - اجلاس نے منصف مزاج، غیرجانبدار ججوں کو ریفرنسز اور بے بنیاد مقدمات کے ذریعے جکڑنے اور آئین، قانون اور انصاف کے منافی فیصلے کرانے کے لیے دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذمت کی، اجلاس نے قرار دیا کہ یہ تمام واقعات آئین کے تحت غیرجانبدار اور آزاد عدلیہ کے تصور کے لیے سنگین دھچکا اور ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔

18 - اجلاس نے پاکستان بار کونسل کی مورخہ 17ستمبر 2020 کو منعقدہ اے پی سی منظور کردہ قرارداد کی توثیق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری کا موجودہ طریقہ کار ایک آزاد عدلیہ کی راہ میں رکاوٹ ہے ، اس ضمن میں پاکستان بار کونسل کی اے پی سی میں منظور کردہ متفقہ قرارداد کے نکات پر عمل کیا جائے۔

19 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کی روشنی میں احتساب کا نیا قانون بنایا جائے اور ملک کے تمام اداروں اور افراد کا خواہ ان کا تعلق عدلیہ یا ڈیفنس سروسز، یا بیورو کریسی یا پارلیمان سے ہو ، ایک ہی قانون اور ادارے کے تحت احتساب کیا جائے۔

20 - اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی اطلاعات و چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ کے بارے میں سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ کی مکمل اور شفاف تحقیقات اسی طریقہ کار کے مطابق کی جائے جو ملک کے دیگر سیاست دانوں سے متعلق اپنایا گیا ہے، تحقیقات جب تک مکمل نہیں ہو جاتیں، انہیں عہدہ سے برطرف کیا جائے۔

21 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستانی شہریوں کو مسنگ پرسنز بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور پہلے سے مسنگ پرسنز کو قانون کے مطابق عدلیہ کے سامنے پیش کیا جائے۔

22 - اجلاس نے پنجاب میں آئینی و قانونی مدت کی تکمیل سے قبل بلدیاتی ادارے ختم کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انہیں فی الفور بحال کیا جائے، اجلاس ملک میں غیرجماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات مسترد کرتا ہے۔

23 - اجلاس حکومت کی اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی مذمت کرتا ہے، مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی جامعات کی مالی مدد کی جائے اور فیسوں میں اضافہ واپس لیا جائے۔

24 - اجلاس آغاز حقوق بلوچستان کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

25 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان میں سول حکمرانی کا احترام 'ایف سی' کی جگہ سول اتھارٹی کو بحال کیا جائے، ہر ضلع میں ایف سی کی قائم کردہ رکاوٹیں ختم کی جائیں۔

26 - اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ ہر ضلع میں 'ٹروتھ کمیشن' بنایا جائے جو 1947 سے اب تک کی پاکستان کی حقیقی تاریخ کو دستاویز کی شکل دے۔

27 - اجلاس نے فیصلہ کیا کہ چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کے لیے کمیٹی بنائی جائے جسے یہ ذمے داری سونپی جائے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے ایسی ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے جس میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ارشادات اور 1973 کے دستور کی روشنی میں پاکستان کی جدید اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کے طور پر واضح سمت متعین ہو۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ 'پوری مشاورت اور اتفاق کے ساتھ یہ فیصلے کیے گئے ہیں جس کا پس منظر یہی ہے کہ موجودہ حکومت سلیکٹڈ ہے، دھاندلی کے ذریعے معرض وجود میں آئی اور سوا دو سال میں قوم کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'سلیکٹڈ وزیراعظم نہ تو معاملہ فہم ہیں اور پارلیمان میں موجود جماعتوں کو مسئلہ کشمیر، کووڈ سمیت دیگر پاکستان کے مفادات کے لیے ساتھ لے کر چلنے کا قطعاً شعور نہیں ہے'۔

شہباز شریف نے کہا کہ 'ہم نے پوری مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ اس حکومت کا قائم رہنا پاکستان کے وجود کے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے'۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیمو کوریٹک موومنٹ کل سے اپنا کام شروع کردیں گی اور ہم ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انہی جماعتوں نے جس طرح ایم آر ڈی اور اے آر ڈی کی موومنٹ چلائی تھی، اسی طرح ہم اس سلیکٹڈ حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف تحریک کے لیے نکل رہے ہیں اور امید ہے پاکستان کے عوام ہمارا ساتھ دیں گے تاکہ ہم پاکستان میں حقیقی جمہوریت دیکھیں۔

ایک سوال کے جواب میں بلاول نے کہا کہ ہم میں سے کوئی غیرجموہری آپشن استعمال کرنے کو تیار نہیں ہے، جمہوری آپشن میں احتجاج، پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد اور پارلیمان سے استعفیٰ شامل ہے اور اہم انہیں استعمال کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا موقف جمہوری ہونا چاہیے اور ہمیں کسی سلیکٹڈ وزیر اعظم کو ایک اور سلکٹڈ وزیر اعظم کے ساتھ ایکسچینج نہیں کرنا جبکہ فوجی قیادت کے ساتھ سیاسی بات آئین خود کہنا ہے کہ ہو ہی نہیں سکتی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ماضی کی غلطیوں نہیں دہرانا چاہتے اور اگر ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسٹیبلسمنٹ کا سیاست میں عمل دخل نہیں ہونا چاہیے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مدد نہ حکمرانوں کے ساتھ ہونی چاہیے اور نہ اپوزیشن کے ساتھ، ہم غیر سیاسی اسٹیبلسمنٹ چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں قانون سازی کے موقع پر اپوزیشن کے 36 اراکین کی غیرموجودگی سازش نہیں ہے، ان میں خورشید شاہ صاحب نہیں تھے، مینگل صاحب بیرون ملک ہیں، کچھ اراکین کو کورونا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو اپوزیشن کی شکست کے بجائے دھاندلی کا ذکر کرنا چاہیے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سب سے بڑا فورم ہے جس میں دھاندلی ہوئی، شہزاد اکبر معاون خصوصی ہیں لیکن انہیں گنا گیا اور یہ دھاندلی سرعام کی گئی۔

خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس سے سابق صدر آصف علی زرداری ابتدائی خطاب کیا جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا۔

نواز شریف نے کہا تھا کہ 'اگر ہم آج فیصلے نہیں کریں گے تو کب کریں گے، میں مولانا فضل الرحمٰن کی سوچ سے پوری طرح متفق ہوں کہ ہمیں رسمی اور روایتی طریقوں سے ہٹ کر اس کانفرنس کو بامقصد بنانا ہوگا ورنہ قوم کو بہت مایوسی ہوگی'۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ابھی آصف زرداری نے جو ٹرینڈ سیٹ کیا ہے اسی کو آگے لیکر چلنا ہے، آپ سب جانتے ہیں 73 برس سے پاکستان کو کن مسائل کا سامنا ہے اور اس کی وجہ صرف ایک ہے۔

علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ 'میری نظر میں یہ اے پی سی بہت پہلے ہونی چاہیے تھی، مولانا نے اگر مجھے جیلوں میں نہ بھیجا ہوتا تو شاید میں پہلے آجاتا، مولانا کا کام ہی یہی ہے کہ کسی کو آسرا دے کر کہنا کہ چل میں آرہا'۔

مزیدپڑھیں: 'ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ اس کو لانے والوں سے ہے'

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اے پی سی کے خلاف حکومت جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے وہی آپ کی کامیابی ہے، یہ کیا ہے کہ نواز شریف کو براہ راست نہیں دکھا سکتے لیکن جنرل (ر) پرویز مشرف کو دکھا سکتے ہیں، میرا انٹرویو پارلیمنٹ سے بند کیا جاسکتا ہے لیکن وہ آمر جو بھاگا ہوا ہے اس کا انٹرویو دکھانا ان کے لیے ناپاک نہیں ہے۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ 'یہ جو قوتیں اور اسٹیبشلمنٹ ہیں جنہوں نے عوام سے جمہوریت چھینی ہے، کٹھ پتلی نظام مسلط کیا ہے انہیں سمجھنا پڑے گا'۔

انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں ان کے سامنے عوام کا مطالبہ پیش کرنے پڑے گا، 'ہمیں ان کے سامنے مطالبہ پیش کرنا پڑے گا کہ ہمیں، اس ملک کو اور اس ملک کے عوام کو آزادی دیں'۔

علاوہ ازیں بلاول بھٹو زرداری جو اس کانفرنس کے میزبان بھی ہیں انہوں نے خطاب میں کہا کہ جب جمہوریت نہیں ہوتی تو معاشرے کو ہر طرف سے کمزور کیا جاتا ہے اور ہماری کوشش تھی کہ بجٹ سے پہلے اے پی سی کروائیں۔

آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا دو سال میں ہمارے معاشرے اور معیشت کو بہت نقصان پہنچا اور جرائم میں اضافہ ہوا۔