فارن فنڈنگ کیس: الیکشن کمیشن نے اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ مسترد کردی

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

اپنے حکم میں ای سی پی نے کہا کہ رپورٹ نہ تو مکمل تھی اور نہ ہی تفصیلی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی
اپنے حکم میں ای سی پی نے کہا کہ رپورٹ نہ تو مکمل تھی اور نہ ہی تفصیلی تھی—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں اسکروٹنی کمیٹی کی جانب سے جمع کروائی گئی 'نا مکمل' رپورٹ مسترد کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنے حکم میں ای سی پی نے کہا کہ رپورٹ نہ تو مکمل تھی اور نہ ہی تفصیلی تھی۔

ای سی پی کا کہنا تھا کہ 'اسکروٹنی کمیٹی نے دونوں جماعتوں کے فراہم کردہ اور اسٹیٹ بینک سے حاصل کردہ دستاویزات کی بنیاد پر نہ تو ریکارڈ کی جانچ پڑتال کی نہ ہی دستاویزات سے شواہد کا جائزہ لیا اور ٹھوس رائے قائم کرنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کو 17 اگست تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

کمیٹی کی سرزنش کرتے ہوئے ای سی پی نے کہا کہ کمیٹی کا یہ فرض اور ذمہ داری تھی کہ اس کے پاس دونوں جماعتوں کے جمع کروائی گئی ہر دستاویز کی صداقت، حقیقت اور ساکھ کی جانچ پڑتال کرے۔

ای سی پی نے مزید کہا کہ کمیٹی کے پاس دستاویز کی تصدیق اور دیگر چیزوں کے لیے مناسب فورم، ذرائع اور افراد سے رابطہ کرنے کا اختیار تھا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہا کہ اعترافی طور پر قانون دستاویزات کی جانچ پڑتال کے لیے صداقت اور ساکھ کا معیار فراہم کرتا ہے لیکن کمیٹی نے اس سلسلے میں مناسب طریقہ کار کو اختیار نہیں کیا۔

اپنے سخت حکم نامے میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: فارن فنڈنگ کیس: اسکروٹنی کمیٹی کے اسٹیٹس پر رپورٹ ایک ہفتے میں جمع کروانے کی ہدایت

ای سی پی کا کہنا تھا کہ 'یہ کہنا تکلیف دہ ہے کہ 28 سے 29 گزر جانے کے باجود ہدایات پر سختی سے عمل نہیں کیا گیا'۔

ساتھ ہی کمیشن نے کمیٹی کو تازہ جانچ پڑتال کرنے اور اسے جتنی جلد ممکن ہو جمع کروانے کا حکم دیا لیکن اس میں 6 ہفتوں سے زائد کا وقت نہ لگے۔

27 اگست کو اپنی رپورٹ مسترد ہونے کے بعد اسکروٹنی کمیٹی نے پیر کے روز اپنا پہلا اجلاس کیا جس میں اس کی رپورٹ پر الیکشن کمیشن کا متفقہ طور پر جاری کردہ حکم پڑھا گیا۔

چونکہ الیکشن کمیشن یہ فیصلہ ساڑھے 3 ہفتے پہلے سنایا تھا اس لیے کمیٹی کے پاس اب وہ کام مکمل کرنے کے لیے 3 ہفتوں سے بھی کم وقت ہے جو وہ 2 سال سے زائد عرصے میں نہیں کر پائی۔

دوسری جانب درخواست گزار اور پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے اسکروٹنی رپورٹ مسترد ہونے کی روشنی میں آگے بڑھنے کی غرض سے اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے لیے وقت طلب کیا بعدازاں ای سی پی نے اجلاس 24 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کے 23 بینک کھاتوں کی تفصیلات اکبر ایس بابر کو فراہم کرنے سے انکار

کمیٹی کا پیر کے روز ہونے والا اجلاس ایک متنازع نکتے پر ختم ہوا، اکبر ایس بابر نے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کی اسکروٹنی کی ساکھ کے خلاف نوٹ جمع کروایا جبکہ کمیٹی نے اسٹیٹ بینک کی ہدایت پر بینکوں سے موصول ہونے ولی پی ٹی آئی کی بینک اسٹیٹمنٹس کی تصدیق فراہم کرنے سے انکار کیا۔

جس پر اکبر ایس بابر نے نوٹ میں اس قسم کی جانچ پڑتال کو نظر کا دھوکا اور پی ٹی آئی کے جمع کروائے گئے غیر مصدقہ اور جعلی دستاویزات پر ربر اسٹمپ لگانے کی کوشش قرار دیا۔

درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ کمیٹی کی واضح ہدایات کے باوجود پی ٹی آئی کی فراہم کردہ 6 بینکس اسٹیٹمنٹس میں سے ایک کو بھی جانچ پڑتال نے کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔

اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کی جانب سے اسکروٹنی کے عمل سے سال 2013 کو نکالنے کے اقدام کو چیلنج کیااور دعویٰ کیا کہ کمیٹی نے ڈھائی سال کے عرصے میں ان کے جمع کروائے گئے ثبوتوں کی تیزی سے تصدیق کرنے کی کوشش نہیں کی۔

فارن فنڈنگ کیس

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔

کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے 'ہنڈی' کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔

ان کا یہ بھی الزام تھا کہ جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔

بعد ازاں ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

جس کے بعد فروری 2017 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دائرہ اختیار پر جائزہ لینے کے لیے کیس کو دوبارہ ای سی پی کو بھیج دیا تھا، اسی سال 8 مئی کو ای سی پی کے فل بینچ نے اس کیس پر اپنے مکمل اختیار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پی ٹی آئی اس طرح کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ درخواست گزار کو پارٹی سے نکال دیا گیا اور وہ پی ٹی آئی اکاؤنٹس پر سوالات اٹھانے کا حق کھو بیٹھے۔

علاوہ ازیں مارچ 2018 میں پی ٹی آئی کے فارن فنڈنگ اکاؤنٹس کے معاملات کو دیکھنے کے لیے ایک اسکروٹنی کمیٹی قائم کی گئی تھی جو اب تک فارن فنڈنگ کی تحقیقات کررہی تھی اور گزشتہ ماہ ہی الیکشن کمیشن میں اپنی رپورٹ جمع کروائی جسے ای سی پی نے مسترد کرکے تازہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔