سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس: کب کیا ہوا؟

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

آتشزدگی کے نتیجے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
آتشزدگی کے نتیجے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کا فیصلہ 8 سال بعد سنا دیا۔

سینٹرل جیل کے جوڈیشل کمپلیکس میں مقدمے کی سماعت کرنے والے انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 7 کے جج کی جانب سے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے شواہد کی ریکارڈنگ، پروسیکیوشن کے گواہوں کے بیانات، ملزمان کے بیانات، اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے حتمی دلائل اور ملزمان کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے فیصلے میں دو مجرموں عبدالرحمٰن عرف بھولا اور زبیر عرف چریا کو سزائے موت سنادی جبکہ ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کردیا۔

واضح رہے کہ 11 ستمبر 2012 یعنی کے 8 سال قبل کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں وہاں کام کرنے والے مرد و خواتین سمیت 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

ابتدائی طور پر فیکٹری مالکان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، بعدازاں ان پر غفلت کے الزامات عائد کردیے گئے، پھر اس المناک واقعے پر کئی سوالات اٹھے کہ آگ لگی یا لگائی گئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: 7 سال بعد زمینی حقائق اب بھی وہی ہیں

مزید یہ کہ ملزمان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا، اس کیس کی ابتدائی چارج شیٹ میں مبینہ غفلت پر فیکٹری مالک عبدالعزیز بھیلا، ان کے دو بیٹوں ارشد بھیلا اور شاہد بھیلا، ایک جنرل منیجر اور چار چوکیداروں کو نامزد کیا گیا تھا۔

البتہ فروری 2015 میں کیس نے اس وقت نیا موڑ لیا جب پاکستان رینجرز نے سندھ ہائی کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ جمع کرائی جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 25 کروڑ روپے بھتے کی عدم ادائیگی پر فیکٹری میں آگ لگائی اور اسی جے آئی ٹی کی بنیاد پر دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا گیا۔

مارچ 2016 میں پولیس نے ٹرائل کورٹ کو بتایا کہ فیکٹری میں منظم منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی گئی اور یہ دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

پولیس نے اپنی جے آئی ٹی میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی اور حماد صدیقی، مبینہ فرنٹ مین عبدالرحمٰن عرف بھولا، کاروباری بھائیوں علی حسن قادری اور عمر حسن قادری، ڈاکٹر عبدالستار، اقبال ادیب خانم، زبیر عرف چریا اور دیگر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔

البتہ طویل تفتیش کے بعد پولیس نے اگست 2016 میں ضمنی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے حماد صدیقی، عبدالرحمٰن دیگر 3 نامعلوم ساتھیوں کے خلاف چارج شیٹ فائل کی تھی اور دیگر 13 افراد کو ٹرائل میں نامزد نہیں کیا تھا۔

لیکن عدالت نے جن افراد کے نام نئی چارج شیٹ میں شامل نہیں کیے تھے ان کو بھی ملزم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالکان نے فیکٹری کے دروازے بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ دیگر افراد نے بھی جرم کا ارتکاب کیا۔

دسمبر 2016 میں عبدالرحمٰن عرف بھولا کو انٹرپول کے ذریعے بنکاک سے گرفتار کیا گیا اور انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے بیان ریکارڈ کرایا، اپریل 2017 میں پولیس نے بھولا کے خلاف ضمنی چارج شیٹ فائل کی تھی۔

مذکورہ ضمنی چارج شیٹ میں عبدالرحمٰن نے اعترافی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے زبیر عرف چریا اور دیگر کو حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری میں آگ لگانے کی ہدایت کی تھی کیونکہ فیکٹری مالکان مانگی گئی بھتے کی رقم یا فیکٹری میں شراکت داری سے انکار کر چکے تھے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد اس وقت کے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی نے مبینہ طور پر فیکٹری کے مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا اور بعد میں انہیں پتا چلا تھا کہ رؤف صدیقی اور حماد صدیقی کو مقدمہ ختم کرنے کے لیے فیکٹری مالکان سے 4 سے 5 کروڑ روپے کی رقم ملی تھی لیکن پولیس نے اپنی ضمنی رپورٹ میں رکن صوبائی اسمبلی کو معصوم قرار دیا تھا۔

اس کے بعد پبلک پراسیکیوٹر نے مقدمے میں رؤف صدیقی کو نامزد نہ کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف اتنے ثبوت موجود ہیں کہ انہیں چارج شیٹ میں نامزد کیا جا سکتا ہے۔

جنوری 2018 میں عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے رؤف صدیقی کو بھی ملزم قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری: ایم کیو ایم کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا، مالک

علاوہ ازیں اپریل 2019 میں کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور واقعے میں ملوث ایک ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کیا تھا۔

اسی ماہ میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما رؤف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحٰمن عرف بھولا پر فردِ جرم عائد کی۔

مزید یہ کہ مذکورہ کیس میں حیدرآباد کی کاروباری شخصیت عبدالستار خان، عمر حسن قادری، اقبال ادیب خانم اور فیکٹری کے چار چوکیداروں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل ہیں۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اس وقت ایم کیو ایم کراچی کی تنظیمی کمیٹی کے سربراہ حماد صدیقی کی ہدایت پر فیکٹری کے مالک کی جانب سے 25 کروڑ روپے کا بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی تھی، حماد صدیقی اور کاروباری شخصیت علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے کیونکہ یہ دونوں بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔

ستمبر 2019 میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے مالک ارشد بھیلا نے بیان دیا کہ ہمیں متحدہ قومی موومنٹ کو کروڑوں روپے بھتہ دینے کا کہا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ رحمٰن بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ روپے بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا تھا جبکہ اس آتشزدگی کے بعد 12 ستمبر 2012 کو واقعے کا مقدمہ ایم کیو ایم اور رؤف صدیقی کے دباؤ پر ہمارے خلاف ہی درج کردیا گیا تھا اور 24 گھنٹوں میں ہمارے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کردیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: حماد صدیقی نے 20 کروڑ روپے بھتہ نہ ملنے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگوائی، جے آئی ٹی رپورٹ

بعد ازاں رواں سال 2 ستمبر کو اس کیس میں عدالت نے بلدیہ فیکٹری کیس میں پراسیکیوٹر اور ملزمان کے دفاعی وکلا کے حتمی دلائل کے لیے 17 ستمبر کی تاریخ مقرر کی تھی، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ فیصلہ بھی 17 ستمبر کو ممکن ہے۔

تاہم عدالت کی جانب سے مذکورہ کیس کی سماعت کو 22 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا کیونکہ اسٹیٹ پراسیکیوٹر (سرکاری وکیل) نے متاثرین سے متعلق اضافی دستاویزات پیش کیں جنہیں حکومت اور غیرملکی خریدار کمپنی کی جانب سے معاوضہ ملا۔

خیال رہے کہ اس کیس میں پروسیکیوشن نے فرانزک، بیلسٹک اور کیمیکل تجزیاتی رپورٹس اور ملزمان کے خلاف 400 افراد کی گواہی سمیت مقدمے کو مکمل کیا، تاہم اس کے برعکس نامزد ملزمان نے تمام تر الزامات کو مسترد کردیا۔