گوجرانوالہ میں ریپ کے الزام پر اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج

اپ ڈیٹ 22 ستمبر 2020

ای میل

ریجنل پولیس افسر  ریاض نذیر گراہ نے ڈان کو بتایا کہ اس واقعے کی رپورٹ متضاد ہیں—فائل فوٹو: ڈان
ریجنل پولیس افسر ریاض نذیر گراہ نے ڈان کو بتایا کہ اس واقعے کی رپورٹ متضاد ہیں—فائل فوٹو: ڈان

لاہور: گوجرانوالہ پولیس نے ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، ویڈیو میں ایک 23 سالہ خاتون نے پولیس اہلکار کے خلاف الزامات لگائے تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں خاتون نے الزام عائد کیا کہ 9 ستمبر کو ایک نوجوان نے گھر میں گھس کر انہیں مارا پیٹا اور دھمکیاں دیں، جس پر انہوں نے پولیس کو شکایت کے لیے ایمرجنسی کال کی، چنانچہ تفتیش کے بہانے اے ایس آئی ان کے گھر آیا اور ان کا ریپ کردیا۔

خاتون کے والد کی مدعیت میں اروپ پولیس تھانے میں درج کروائی گئی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق اے ایس آئی نے اہلِ خانہ کو بتایا کہ اسے نوجوان کے خلاف تفتیش کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اوکاڑہ: گھر میں ڈکیتی کے دوران خاتون کا 'گینگ ریپ'

ایف آئی آر میں خاتون کے والد نے الزام عائد کیا کہ اے ایس آئی ان کی بیٹی کو انکوائری کے نام پر گھر کے ایک کمرے میں لے کر گیا اور اندر سے لاک کرنے کے بعد اس کا ریپ کردیا۔

بعدازاں ملزم نے خاتون کو دھمکیاں دیں کہ اگر یہ معاملہ پولیس میں رپورٹ کیا تو وہ انہیں اور ان کے اہلِ خانہ کو جعلی مقدمے میں نامزد کردے گا۔

یہ ریپ کیس ایسے وقت سامنے آیا کہ جب پنجاب پولیس موٹروے گینگ ریپ کے 2 ملزمان میں سے ایک کو پکڑنے میں تاحال ناکام ہونے کی وجہ سے خبروں میں ہے۔

گوجرانوالہ ریجنل پولیس افسر (آر پی او) ریاض نذیر گراہ نے ڈان کو بتایا کہ اس واقعے کی رپورٹ متضاد ہیں۔

مزید پڑھیں: ریپ کی کوشش پر ملزم کیخلاف کارروائی میں تاخیر، لڑکی نے 'خودکشی' کرلی

انہوں نے کہا کہ خاتون نے ایک ویڈیو کلپ میں اے ایس آئی پر ریپ کا الزام عائد کیا جبکہ پولیس کے سامنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والے تیسرے بیان میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے ان پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا بیان دلوایا۔

آر پی او نے کہا کہ خاتون کے متضاد بیان پر انہوں نے 2 سینئر پولیس افسران کو ان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تعینات کردیا تھا۔

انکوائری رپورٹ کے بعد گوجرانوالہ پولیس نے اے ایس آئی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی جو عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کرچکا ہے۔

پولیس عہدیدار نے مزید بتایا کہ خاتون کی جانب سے ریپ کے الزامات کے حقائق جاننے کے لیے انہیں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور پولیس نے خاتون اور اے ایس آئی سے حاصل کردہ نمونے ڈی این اے کے تجزیے کے لیے پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:تونسہ کے گاؤں میں گھر میں خاتون کا 'گینگ ریپ'

دوسری جانب سٹی پولیس افسر (سی پی او) رائے بابر سعید نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ خاتون کا طبی ٹیسٹ کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سپرنٹنٹڈنٹ پولیس (ایس پی) کی سربراہی میں 4 رکنی ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دے دی گئی ہے، ملزم نے اپنے بیان میں الزامات کی تردید کی اور تفتیش میں پیش ہونے کی پیشکش کی۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں ملک میں بالخصوص پنجاب میں ریپ کے واقعات میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سب سے اہم واقعہ موٹروے گینگ ریپ کا تھا جس پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی جبکہ پولیس تاحال اس کیس کے مرکزی ملزم کو گرفتار نہ کرسکی۔