'ملک میں گندم کا پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا'

23 ستمبر 2020

ای میل

پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز
پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کی مختلف وجوہات ہیں—فائل فوٹو: رائٹرز

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی تحفظ خوراک اور تحقیق کو بتایا گیا ہے کہ سال 20-2019 میں ملک گندم کی پیداوار کا ہدف حاصل نہیں کرسکا اور گندم کا خالص شارٹ فال 14 لاکھ 11 ہزار ٹن تک لگایا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 20-2019 کے لیے گندم کی پیداوار کا ہدف 2 کروڑ 54 لاکھ 50 ہزار ٹنز رکھا گیا تھا۔

تاہم قومی تحفظ خوراک کے سیکریٹری عمر حمید خان نے کمیٹی کو گندم کے پیدواری ہدف حاصل ہونے میں ناکامی کی وجوہات کے بارے میں بتایا۔

مزید پڑھیں: حکومت نے نجی شعبے کو گندم کی لامحدود درآمد کی اجازت دیدی

ان وجوہات میں اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، مقامی بازاروں میں زائد قیمتیں، عالمی سطح پر گندم کی قیمتی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شامل تھے۔

مزید یہ ان کا کہنا تھا کہ گندم کی خریداری میں صوبائی حکومتوں کے تعاون کا فقدان رہا اور گندم کی بین الصوبائی نقل و حرکت میں رکاوٹیں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گندم کے بحران کی ایک وجہ 40 کلو کے لیے 1400 روپے کی کم سے کم سپورٹ قیمت تھی جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمت زیادہ تھی، جس کے نتیجے میں کسانوں نے زیادہ قیمت وصول کرنے کے لیے پروڈکٹ کو اوپن مارکیٹ میں فروخت کرنے کو ترجیح دی۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت پیداواری لاگت پر غور کرتے ہوئے سپورٹ قیمت کا جائزہ لے رہی ہے اور گندم کی کٹائی کے اگلے سیزن سے قبل پالیسی فیصلہ کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مظفر شاہ نے وزارت سے کمیٹی کی جانب سے حتمی شکل دی گئی اور عمل درآمد کے لی وزارت کو بھیجی 18 تجاویز سے متعلق جواب مانگا اور کہا کہ آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں انہوں نے کہا کہ ان سفاشارت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے ساتھ گندم پالیسی تشکیل دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی نے کم مقدار میں گندم درآمد کرنے کا حکم دے دیا

دریں اثنا کمیٹی میں سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی جانب سے عوام کی اہمیت کا معاملے پر توجہ دلانے پر ملک بھر خاص طور پر بلوچستان میں ٹڈی دل کے خلاف جاری آپریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ چینی حکومت نے پاکستان کو 50 اعلیٰ کارکردگی والے ایئر بلاسٹ اسپریئر عطیہ کیے، جس میں سے 12 بلوچستان کے محکمہ زراعت کو فراہم کیے گئے، اس کے علاوہ 10 موٹرائزڈ اسپریئر بھی عطیہ کیے گئے اور صوبے میں 8 لاکھ 35 ہزار ایکڑ اراضی پر ٹڈیوں سے نمٹا گیا۔