آزاد کشمیر:10 سالہ بچی کا ریپ کرنے والے 2 قریبی رشتے دار گرفتار

23 ستمبر 2020

ای میل

پولیس کے مطابق دونوں ملزمان متاثرہ بچی کے سوتیلی بھائیوں کے بیٹے تھے3فائل/فوٹو:ڈان
پولیس کے مطابق دونوں ملزمان متاثرہ بچی کے سوتیلی بھائیوں کے بیٹے تھے3فائل/فوٹو:ڈان

آزاد جموں و کشمیر کی پولیس نے دو کزنز کو 10 سالہ رشتہ دار اور یتیم لڑکی کو مبینہ طور پر الگ الگ ریپ کا نشانہ بنانے پر گرفتار کرلیا۔

ہٹیاں بالا تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) راجا انصار سجاد کے مطابق واقعہ ضلع کے گاؤں کنیری لانگلا میں دوہفتے قبل پیش آیا تھا لیکن مقامی جرگے میں معاملے کو حل کردیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی جرگے میں ملزمان پر جرمانہ عائد کیا گیا اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں گاؤں بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: کراچی: پی آئی بی کالونی میں کمسن بچی کا ریپ کے بعد قتل

ایس ایچ او نے کہا کہ 'جب ہمیں مقامی ذرائع سے اس واقعے کا علم ہوا تو حقائق معلوم کرنے کے لیے پولیس کی ایک ٹیم بھیج دی' جو متاثرہ لڑکی اور ان کی بڑی بہن کو اپنے ساتھ لے کر آئی تاکہ تھانے میں ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

بیان کے مطابق ان کے سوتیلی بھائیوں کے بیٹوں نے دو ہفتے قبل کم از کم 4 مرتبہ 10 سالہ بچی کو الگ الگ ریپ کا نشانہ بنایا۔

ایس ایچ او راجا انصار سجاد کے مطابق ایک ملزم شادی شدہ ہے اور ان کی عمر 20 سال زائد ہے، ان کا دوسرا کزن 18 سالہ نوجوان ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل ہٹیاں بالا ہسپتال میں اسی شام کو کیا گیا جس میں ان کے ساتھ ریپ کی تصدیق ہوئی اور اس کے بعد زنابالجبر ایکٹ 1985 کی دفعہ 10 کے تحت فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرادی گئی۔

دوسری جانب جرگے میں شرکت کرنے والے تمام افراد کو بھی تھانے میں بلایا گیا اور انہیں واضح کیا گیا کہ ملزمان کو حوالے کریں یا پھر جیل جانے کو تیار ہوں۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ جرگے نے ملزمان پر فی کس 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا تھا اور اس کی تعمیل میں ناکامی پر انہیں گاؤں چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں دونوں ملزمان جرمانہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے جبکہ عوام اور پولیس کے شدید ردعمل سے خوف زدہ تھے، اسی لیے میرپور خاص اور راولاکوٹ جیسے شہروں کو بھاگ گئے جہاں وہ ملازمت کررہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: کلفٹن میں خاتون کا اغوا کے بعد گینگ ریپ

جہلم ویلی کے سپرینٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) ریاض مغل کا کہنا تھا کہ پولیس نےمیڈیکل کی رپورٹ اور ایف آئی آر درج کرنے سے متعلق خبر عام کرنے سے گریز کیا جو ملزمان کو گرفتار کرنے کی حکمت عملی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم چاہتے تھے کہ وہ دونوں ایف آئی آر درج ہونے کا علم ہوتے ہی حالیہ مقامات سے غائب نہ ہوں' اور پولیس ممکنہ طور پر دونوں کو24 گھنٹے کے اندر گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

ایس ایچ او ایس راجا انصار سجاد کا کہنا تھا کہ ایک ملزم کو راولاکوٹ سے جبکہ دوسرے کو گزشتہ روز میرپور سے گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے ہٹیاں بالا منتقل کیا گیا جبکہ دوسرے کو بدھ کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ 'تفتیش کے دوران مزید حقائق حاصل کیے جائیں گے'۔

خیال رہے کہ ملک میں اغوا، ریپ اور بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ دیکھا جارہا ہے اور رواں ماہ کراچی میں 6 سالہ بچی مروہ کو ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی اور گرفتار ملزمان میں سے 2 کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے نمونے میچ کر گئے۔

ڈی آئی جی شرقی محمد نعمان صدیق نے دعویٰ کیا تھا کہ مروہ قتل کیس میں گرفتار دونوں ملزمان کے ڈی این اے نمونے میچ کر گئے ہیں، ان کے فنگر پرنٹس پہلے ہی متاثرہ لڑکی کے کپڑوں سے میچ کر گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس اندوہناک حادثے کی تحقیقات تکنیکی اور فارنزک ثبوتوں کی بنیاد پر کی گئی جس کے نتیجے میں تیسرا گرفتار مشتبہ شخص معصوم اور بے قصور ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: اتحاد ٹاؤن میں ذہنی، جسمانی معذور خاتون کا ریپ، ایک ملزم گرفتار

ان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں کوئی سرا نہیں نظر آرہا تھا لیکن تکنیکی ثبوتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کے استعمال کی بدولت تفتیش کار ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہے، ہمارے پاس دو گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

نعمان صدیقی نے بتایا تھا کہ کمسن بچی 4 ستمبر کو قریبی دکان سے بسکٹ لینے کے لیے پرانی سبزی منڈی کے قریب واقع اپنے گھر سے نکلی، دکاندار نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ بچی بسکٹ خریدنے کے بعد گھر کے لیے نکل گئی، جب وہ گھر نہ پہنچی اور سب جگہ ڈھونڈنے کے بعد بھی نہ ملی تو اسی دن رات 10 بجے پی آئی بی پولیس کو بچی کی گمشدگی کے بارے میں آگاہ کیا گیا اور پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب لڑکی کی لاش کچرے کے ڈھیر سے ملی اور جناح ہسپتال کی خاتون میڈیکو لیگل افسر نے پوسٹ مارٹم کے بعد تصدیق کی کہ لڑکی کا قتل کرنے سے قبل ریپ بھی کیا گیا۔