ایل او سی پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ، پاک فوج کے 2 جوان شہید

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2020

ای میل

بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے سپاہی وسیم علی اور سپاہی نورالحسن نے جام شہادت نوش کیا— فوٹو بشکریہ آئی ایس پی آر
بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے سپاہی وسیم علی اور سپاہی نورالحسن نے جام شہادت نوش کیا— فوٹو بشکریہ آئی ایس پی آر

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے دو جوان شہید ہو گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق لائن آف کنٹرول پر ڈیوا سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاک فوج نے انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فائرنگ شروع کرنے والی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: ایل او سی پر فائرنگ سے 3 شہری زخمی، بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی

پاکستانی افواج کے منہ توڑ جوابی فائرنگ سے بھارتی چوکیوں اور نفری کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔

بھارت کی جانب سے کی گئی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 29 سالہ سپاہی نورالحسن اور 25 سالہ سپاہی وسیم علی نے جام شہادت نوش کیا۔

بھارتی افواج کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی اور بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور صرف سال 2020 میں بھارتی فوج 2 ہزار 333 مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کر چکی ہے۔

گزشتہ دنوں ایل او سی کے جندروٹ اور ہاٹ اسپرنگ سیکٹر میں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے 3 شہری زخمی ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: سرحد پار سے سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر فائرنگ، پاک فوج کا سپاہی شہید

11 اور 12 ستمبر کی درمیانی شب بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہادت اور چار شہری زخمی ہوئے تھے۔

قبل ازیں 5 ستمبر کو ایل او سی کے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں کرنی گاؤں کے رہائشی 19 سالہ محمد طارق ولد غلام حسین کے شدید زخمی ہونے پر بھارتی سفارتکار کو طلب کیا گیا تھا۔

پاکستان بھارت کی اس بلااشتعال فائرنگ کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہتا رہا ہے کہ یہ فائرنگ واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

اس سلسلے میں بارہا کہا گیا ہے کہ کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف وزی کرتے ہوئے ایل او سی کے اطراف میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

پاکستان کا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا اور بھارت سے 2003 کے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔