عسکری قیادت سے مسلم لیگ (ن) کی ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئیں، شیخ رشید

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2020

ای میل

شیخ رشید احمد —فائل فوٹو: ڈان نیوز
شیخ رشید احمد —فائل فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے دیے گئے بیان پر کہا ہے کہ عسکری قیادت (آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی) سے مسلم لیگ (ن) کی ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کی تھی جس میں صحافی کی جانب سے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں سیاسی رہنماؤں کے لیے عشائیے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے اس عشائیے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا، ساتھ ہی انہوں نے نواز شریف کے کسی نمائندے کی آرمی چیف سے ملاقات کی بھی تردید کی تھی۔

خیال رہے کہ 20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے چند دن قبل حکومتی اور اپوزیشن سیاسی رہنماؤں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں فوجی قیادت نے سیاسی رہنماؤں سے کہا تھا کہ سیاست آپ کا کام ہے لہٰذا فوج کوسیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

مزید پڑھیں: سیاسی معاملات پر فیصلے جی ایچ کیو کے بجائے پارلیمان میں ہونے چاہئیں، مریم نواز

اس حوالے سے شیخ رشید نے کہا کہ کہ جھوٹ بولنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اگر یہ ان کی جماعت کے لوگ نہیں ہیں تو پھر جو میں کہتا ہوں کہ دسمبر، جنوری تک ان میں ن سے ش الگ ہوگی تو اس کا آج سے آغاز ہوگیا ہے، تاریخ لکھنا شروع کردی جائیں۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ان کی عسکری قیادت سے ایک نہیں، 2 ملاقاتیں ہوئیں ہیں، دونوں میں شامل تھا اور پہلی ملاقات میں، شہباز شریف اور میں نے ایک ہی میز پر کھانا کھایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ باتیں ٹی وی پر کرنے والی نہیں لیکن یہ مجبور کر رہے ہیں یہ لوگ اپنے گندے کپڑے گھروں میں دھوئیں، عوام میں آکر دھوئیں گے تو پھر میرا جواب سنیں گے۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پہلی ملاقات 5 گھنٹے جبکہ دوسری سوا 3 گھنٹے ہوئی اور اس روبرو (ون ٹو ون) ملاقات میں خواجہ آصف اور احسن اقبال نے آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی، میں نے اپنی کتاب دینی تھی اس لیے میں نے وہاں سے نکل جانا مناسب سمجھا اور وہاں آخری بندہ میں ہی تھا جبکہ یہ دونوں تھے جو آرمی چیف اور جنرل فیض حمید سے مذاکرات کر رہے تھے۔

اس موقع پر ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تو جنوری تک 4 مہینے ہیں اور انہوں نے تب تک فیصلہ کرنا ہے کیونکہ مارچ میں سینیٹ انتخابات ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ میں بھی عمران خان کی اکثریت ہوجائے، سیاست شروع ہوچکی ہے اور جنوری تک آپ دیکھیں گے سیاست بدلے گی۔

دوسری جانب اینکر کی جانب سے یہ سوال کیا کہ احسن اقبال نے اس ملاقات میں موجود ہونے کی تردید کی ہے جس پر شیخ رشید نے کہا کہ میں جھوٹ بولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا، احسن اقبال، اس ملاقات اور دوسری ملاقات میں بھی موجود تھے۔

اپنی گفتگو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپنی فوج کے آرمی چیف سے ملنے میں کوئی حرج تو نہیں کوئی 'را' یا موساد یا ایم 16 سے تو نہیں ملے، اپنی فوج اور آرمی چیف سے ملنے پر تو فخر ہونا چاہیے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ میں ایک نہیں 2 الزام لگا رہا ہوں، انہوں نے ایک نہیں 2 ملاقاتیں کیں، سب لوگوں نے اکٹھی ملاقاتیں کیں اور کھل کر باتیں ہوئیں ساڑھے 3 گھنٹے تک لیکن خواجہ آصف اور احسن اقبال نے ون ٹو ون ملاقات کی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کو مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے، ساتھ ہی اس ملاقات کی تردید پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے بہت افسوس ہورہا ہے، ملاقات میں کیا برائی ہے، ان کو اپنی پارٹی پر اعتماد نہیں، ملاقات ہوئی تو کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرف چلے گئے ہیں، یہ کیا سمجھتے ہیں کہ ملاقات ہوئی تو یہ ان کو چھوڑ گئے ہیں۔

تاہم اس موقع پر نجی ٹی وی کی جانب سے احسن اقبال کو بھی ٹیلی فونک لائن پر لیا گیا جہاں انہوں نے آرمی چیف سے ون آن ون ملاقات کی تردید کردی۔

احسن اقبال نے کہا کہ ون آن ون آرمی چیف سے کوئی ملاقات ایسی نہیں ہے جس میں شریک ہوا ہوں، جو پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات تھی جس میں تمام پارلیمانی رہنما موجود تھے وہاں شہباز شریف نے مجھے وفد میں شامل کیا کیونکہ گلگت بلتستان کے معاملے پر بات چیت ہونی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات میں ضرور شریک تھا لیکن کسی ون آن ون ملاقات میں شریک نہیں تھا اور نہ میں نے کی ہے۔

دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ میرے علم میں عسکری قیادت سے صرف ایک ہی ملاقات ہے، جس میں تمام پارلیمانی رہنما شریک تھے اور اس کا ون پوائنٹ ایجنڈا تھا جو گلگت بلتستان سے متعلق تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے نمائندے کی عسکری قیادت سے ملاقات سے متعلق انہوں نے کہا کہ نہیں، میرے ساتھ ہی ہم سب اکٹھے گئے تھے، اس ملاقات میں شہباز شریف، خواجہ آصف اور میں اکٹھے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں واضح کیا کہ گلگت بلتستان میں آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق ملے۔

اس موقع پر ٹیلی فون لائن پر ہی موجود شیخ رشید نے چینل کی جانب سے دونوں رہنماؤں کو ایک ساتھ لینے پر اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ یہ ملاقات گلگت بلتستان پر بات کے لیے بلائی گئی لیکن سیاست پر کھل کر بات ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آرمی چیف کو کتاب دینی تھی، وہاں احسن اقبال اور خواجہ آصف، آرمی چیف اور جنرل فیض حمید کے ساتھ کھڑے تھے اور بات چیت کر رہے تھے، حتی کہ آرمی چیف نے یہ تک کہا کہ آپ اپنی سیاست میں ہمیں نہ دکھِلیں، آپ جانیں اور آپ کا کام جانے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پہلی ملاقات کو کافی عرصہ ہوگیا ہے، آپ شہباز شریف سے پوچھ لیں میں نے اور انہوں نے ایک ہی میز پر کھانا کھایا۔

تاہم احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ملاقات جو ہوئی اس میں سب موجود تھے اور وہاں گلگت بلتستان پر بات چیت ہوئی جہاں ہم نے اپنا واضح مؤقف دیا کہ گلگت کے عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے جبکہ یہ بھی کہا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارے مؤقف کو کسی قسم کا نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

پارٹی میں اختلافات ہوگئے ہیں، (ن) سے (ش) لیگ نکلے گی، شیخ رشید

علاوہ ازیں شیخ رشید نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ '16 تاریخ کو جب آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات ہوئی جس کو انگریزی اخباروں نے مختلف رنگوں میں پیش کیا تو میں نے کل اس کی اصل صورتحال پیش کی'۔

یہ بھی پڑھیں: عسکری قیادت کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، 'فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے'

انہوں نے کہا کہ 'ان 15، 20 رہنماؤں نے ملاقات کی اور آج چونکہ مریم نواز میں کہا کہ یہ ملاقات نہیں ہوئی یا اس کی نواز شریف کو خبر نہیں تھی تو میں واضح کردوں کہ ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئیں، یہ ملاقات گلگت بلتستان انتخابات اور صوبے بنانے پر ہوئی لیکن اس پر سیاست پر بھی ساڑھے 3 گھنٹے بات چیت ہوئی'۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے قبل ہونے والی ملاقات ساڑھے 5 گھنٹے ہوئی جو عشائیہ تھا، اگر لوگ مجھے چیلنج کر رہے ہیں تو میں بلاول بھٹو اور شہباز شریف کو چیلنج کر رہا ہوں کہ کسی چینل پر آئیں میں ثابت کرسکتا ہوں کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقاتیں ہوئیں اور سب وہاں موجود تھے، اگر نواز شریف کو اس کی خبر نہیں تو میں ذمہ دار نہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'یقیناً کچھ عرصے قبل ہونے والی پہلی ملاقات کا بھی نواز شریف کو پتا نہیں ہوگا میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ مسلم لیگ ن سے ش نکلے گی، پارٹی میں اختلافات ہوگئے ہیں، ان کا ایجنڈا ہے کہ مارچ میں سینیٹ انتخابات جس میں تحریک انصاف اکثریت لے گی اسے سبوتاژ کیا جائے'۔