سیاسی معاملات پر فیصلے جی ایچ کیو کے بجائے پارلیمان میں ہونے چاہئیں، مریم نواز

اپ ڈیٹ 24 ستمبر 2020

ای میل

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت میں مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں —تصویر: ڈان نیوز
ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت میں مریم نواز عدالت میں پیش ہوئیں —تصویر: ڈان نیوز

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ گلگت بلستان کا معاملہ سیاسی معاملہ ہے اور ایسے معاملات پر فیصلے جی ایچ کیو کے بجائے پارلیمان میں ہونے چاہئیں، ساتھ ہی انہوں نے نواز شریف کے کسی نمائندے کی آرمی چیف سے ملاقات کی بھی تردید کی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے میڈیا سے گفتگو کی جس میں صحافی کی جانب سے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں سیاسی رہنماؤں کے لیے عشایے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے اس عشائیے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

البتہ ان کا کہنا تھا کہ 'میرے سننے میں آیا ہے کہ گلگت بلتستان کے معاملے پر سیاسی رہنماؤں کو بلایا گیا تھا لیکن میں سمجھتی ہوں کہ جس ایشو پر بلایا گیا وہ سیاسی معاملہ ہے، عوامی نمائندوں کے حل کرنے اور ان کی مشاورت کا معاملہ ہے لہٰذا یہ فیصلے پارلیمان میں ہونے چاہئیں جی ایچ کیو میں نہیں'۔

یہ بھی پڑھیں: عسکری قیادت کی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات، 'فوج کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے'

انہوں نے کہا کہ 'ان ایشوز پر نہ سیاسی قیادت کو بلانا چاہیے نہ سیاسی قیادت کو جانا چاہیے، ان معاملات پر بات چیت کے لیے جسے آنا ہے وہ پارلیمان میں آئے'۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل وزیر ریلوے شیخ رشید نے بتایا تھا کہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے انعقاد سے چند دن قبل حکومتی اور اپوزیشن سیاسی رہنماؤں کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات ہوئی تھی۔

16 ستمبر کو ہونے والی اس ملاقات میں اپوزیشن کے تقریباً 15 رہنماؤں نے شرکت کی جن میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیر حیدر ہوتی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اسد محمود، مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال، پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمٰن اور کچھ حکومتی وزرا نے شرکت کی تھی۔

اس اجلاس میں شرکت کرنے والے کچھ رہنماؤں نے بتایا کہ اجلاس کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اسے عوامی سطح پر ظاہر نہیں کرنا تھا۔

مزید پڑھیں:آل پارٹیز کانفرنس: جدوجہد عمران خان کے نہیں انہیں لانے والوں کیخلاف ہے، نواز شریف

رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے سیاسی اتفاق رائے کے لیے تھی مگر یہ ملاقات اس وقت مختلف شکل اختیار کر گئی جب اس میں گلگت بلتستان انتخابات، قومی احتساب بیورو (نیب) سمیت دیگر سیاسی معاملات بھی زیر بحث آئے۔

نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، مریم نواز

دوسری جانب صحافی طلعت حسین نے ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس میں دعویٰ کیا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور اپوزیشن سمیت پارلیمانی قیادت کی ملاقات سے ایک ہفتہ قبل نواز شریف کے نمائندے اور آرمی چیف کے درمیان ایک اور ملاقات ہوئی تھی جس میں لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی شریک تھے۔

صحافی نے کہا کہ 'اس ملاقات میں نواز شریف کی جانب سے بتایا گیا کہ ان کی جماعت مزید دباؤ برداشت نہیں کرے گی، جس کے جواب میں ان کو بتایا گیا کہ یہ نظام ایسے ہی چلے گا اور ہنگامہ خیز احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تاہم آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کی اس ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 'نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی'۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک اشتہاری کی درخواست پر منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا، یہ سوال ہم نے پہلے نہیں اٹھایا جو اٹھانا چاہیے تھا، اشتہاری جس تھانے کی حدود کا ملزم تھا اسی تھانے کی حدود میں عدالت پیش ہوتا تھا'۔

یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن کی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل، وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 'نواز شریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے لیکن جب تک کورونا وبا ہے نواز شریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا کیوں کہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہے اس لیے ادویات سے ان کا علاج جاری ہے۔

اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ 'پارلیمانی رہنماؤں کی آرمی چیف سے ملاقات پر کیا کہیں گی؟ جس پر مریم نواز نے جوابی سوال کیا کہ کیا جو میں کہوں گی آپ کا چینل چلائے گا؟'

مریم نواز سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت سے صلح ہوگئی جو آپ کی اور نواز شریف کی تقریر میڈیا پر نشر ہوئی؟ جس کے جواب میں انہوں نے ایک مرتبہ پھر سوال کیا کہ 'آپ بتائیں کہ ہماری تقاریر کیوں نشر کیں، ظلم و جبر کے ہتھکنڈے ایک حد تک چلتے ہیں'۔

ایون فیلڈ/العزیزیہ ریفرنس میں سزا کیخلاف درخواستوں کی سماعت

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف درخواست کی سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

عدالت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے بتایا کہ ڈاک کے ذریعے لندن بھجوائے گئے وارنٹس وصول ہو چکے ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کاؤنٹی کورٹ سے وارنٹ کی تعمیل کا کیا بنا؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ایک مقررہ وقت پتا چل جاتا کہ 10 دن لگیں گے یا 15 دن، تو ہم اس حساب سے تاریخ مقرر کردیتے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے کہا کہ آپ اس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیں، جیسے ہی کاؤنٹی کورٹ کی تعمیلی رپورٹ موصول ہوئی، وہ جمع کرا دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: نوازشریف کی حاضری چاہیے، وفاقی حکومت جیسے چاہے یقینی بنائے، عدالت

تاہم جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ اس طرح طویل عرصے کے لیے سماعت ملتوی نہیں کر سکتے، ہم ایک ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کر دیتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نواز شریف کے بیٹے کے سیکریٹری نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن سے رابطہ کیا ہے جن کے مطابق نواز شریف وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے لیے تیار ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پاکستانی ہائی کمیشن کے افسر راؤ عبدالحنان آج نواز شریف کی رہائش گاہ جائیں گے۔

خیال رہے کہ 15 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں کی سماعت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

بعدازاں عدالت نے نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے وارنٹس کی کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ اور قونصل اتاشی کی ذاتی حیثیت میں وارنٹس تعمیل کی رپورٹ بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلی۔

دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر بھی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامر فاروق نے کی۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سزاؤں کے خلاف نواز شریف کی درخواستیں نمٹا دیں

اس موقع پر مریم نواز، کیپٹن صفدر اور ان کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے۔

تاہم عدالت نے کہا کہ ہم نے نواز شریف کی حاضری یقینی بنانے کا پراسیس شروع کر رکھا ہے، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلیں وہ پراسیس مکمل ہونے کے بعد سنیں گے۔

ساتھ ہی عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی اپیلوں پر سماعت 9 دسمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔