امریکا کی ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی بنیاد پر مزید پابندیاں

25 ستمبر 2020

ای میل

پومپیو نے اپنے بیان میں ایران پر پابندیوں کا اعلان کیا—فائل/فوٹو:اے پی
پومپیو نے اپنے بیان میں ایران پر پابندیوں کا اعلان کیا—فائل/فوٹو:اے پی

امریکا نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ایرانی کے ججوں سمیت کئی عہدیداروں اور اداروں بلیک لسٹ کردیا۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا نے انقلابی عدالت برانچ ایک شیراز کے جج سید محمود ساداتی، جج محمد سلطان اور وکیل آباد اور عادل عباد جیلوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکا کے نمائندہ خصوصی برائے ایران اور وینزویلا ایلیٹ ابرامز کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے شکار ججوں میں سے ایک وہ ہیں جس نے ایرانی ریسلر نوید افکاری کو سزائے موت سنائی تھی۔

مزید پڑھیں:وینزویلا سے تیل کی تجارت: امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کردیں

مائیک پومپیو نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق انقلابی عدالت شیراز برانچ ون کے جج سید محمود ساداتی نے نوید افکاری کے ٹرائل کی نگرانی کی تھی۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ میں بیان دیتے ہوئے ایلیٹ ابرامز کا کہنا تھا کہ 'ایران کے شہریوں کو آزادی اور انصاف نہیں دینے افراد کو امریکا سزا دے گا اور ریسلر نوید افکاری کو سزائے موت دینے والے جج سمیت ایران کے کئی عہدیداروں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی جائیں گی'۔

خیال رہے کہ نوجوان ایرانی ریسلر کو رواں ماہ کے اوائل میں پھانسی دی گئی تھی اور ان پر 2018 میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ایک سیکیورٹی گارڈ کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

پومپیو کا کہنا تھا کہ جیل عدیل عباد پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے کیونکہ وہاں پر عہدیداروں نے نوید افکاری پر تشدد کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وکیل آباد جیل میں امریکا کے شہری مائیک وائٹ کو قید رکھا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: امریکا نے ایران کے جوہری سائنسدانوں پر پابندی کا اعلان کردیا

پومپیو نے کہا کہ تین امریکیوں صیامک نمازی، مراد تہباز اور باقر کو ایران کی غلط حراست نکال کر گھر واپس لانے کے لیے امریکا ہرممکن کوشش کرے گا۔

امریکا نے رواں ہفتے ایران کی وزارت دفاع، جوہری اور اسلحے کے پروگرام سے منسلک افراد پر نئی پابندیاں لگادی تھیں۔

خیال رہے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں 2018 میں ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد معاشی پابندیاں عائد کرنے پر اضافہ ہوگیا تھا۔