امریکی سینیٹرز کا نیٹ فلیکس پر چینی سائنس فکشن سیریز پر نظرثانی پر زور

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

' دی تھری باڈی پرابلم' نامی کتاب اور اس کے 2 سیکوئیلز چینی مصنف لیو سکسن نے لکھی تھی—فائل فوٹو:رائٹرز
' دی تھری باڈی پرابلم' نامی کتاب اور اس کے 2 سیکوئیلز چینی مصنف لیو سکسن نے لکھی تھی—فائل فوٹو:رائٹرز

امریکا کے 5 ری پبلکن سینیٹرز نے نیٹ فلیکس پر زور دیا ہے کہ وہ چینی سائنس فکشن کتاب اور اس کے سیکوئیل کو ٹی وی سیریز میں تبدیل کرنے پر نظر ثانی کرے۔

سینیٹرز کا خیال ہے کہ مصنف نے کتاب میں چینی حکومت کی جانب سے ایغور مسلمانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کا دفاع کیا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق ' دی تھری باڈی پرابلم' نامی کتاب اور اس کے 2 سیکوئیلز چینی مصنف لیو سکسن نے لکھی تھی۔

مزید پڑھیں: جنگجو لڑکی کی فلم ’مولان‘ پر چین میں تنازع

رواں ماہ کے آغاز میں نیٹ فلیکس نے ان کتابوں کو لائیو ایکشن میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا، اس انگلش ٹی وی سیریز کی قیادت ایچ بی او کی میگا ہٹ سیریز ' گیم آف تھرونز' کے تخلیق کار ڈی بی ویس اور ڈیوڈ بینیوف کررہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مصنف لیو سکسن مذکورہ پروجیکٹ کے کنسلٹنگ پروڈیوسر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

نیٹ فلیکس کو لکھے گئے خط میں امریکی سینیٹرز نے 2019 میں نیویارکر میگزین کو دیے گئے لیو سیکسن کے بیان کا حوالہ دیا تھا جس میں انہوں نے سنکیانگ کے علاقے میں ایغور اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ چین کے رویے پر بات کی تھی۔

لیو سکسن نے کہا تھا کہ اگر کچھ بھی ہے تو حکومت ان کی معیشت میں مدد کر رہی ہے اور انہیں غربت سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  خیال رہے کہ امریکا اور انسانی حقوق کے گروہوں کی جانب سے چین میں ایغوروں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک پر تنقید کی جاتی ہے۔

تاہم چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے بارہا سنکیانگ میں حراستی کیمپوں کی موجودگی کی تردید کی جاتی رہی ہے اور انہیں ووکیشنل اور ایجوکیشنل مراکز قرار دیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کی جانب سے ان الزامات کو چین مخالف قوتوں کی جانب سے سنکیانگ کی پالیسی کے خلاف مذموم سازش قرار دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل والٹ ڈزنی پر امریکی قانون سازوں کی جانب سے مولان کے کچھ حصوں کی عکس بندی سنکیانگ میں کرنے پر تنقید کی گئی تھی۔

نیٹ فلیکس کو لکھے گئے خط میں مارشا بلیک برن کی قیادت میں سینیٹرز نے کہا کہ کمپنی کی جانب سے لیو سکسن کے کام کو اپنانے کا فیصلہ چینی حکومت کے 'جرائم' کو معمول پر لانے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وبا کے باعث چینی جنگجو لڑکی کی ’مولان‘ آن لائن ریلیز

انہوں نے لکھا کہ (سنکیانگ) میں اس طرح کے مظالم کے باوجود وہاں صرف پیچیدہ کارپوریٹ فیصلے موجود ہیں۔

سینیٹرز نے نیٹ فلیکس کو سنجیدگی سے لیو سکسن کو یہ پروجیکٹ پروڈیوس کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے پر سنجیدگی سے نظرثانی پر زور دیا۔

تاہم نیٹ فلیکس کی جانب سے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ نیٹ فلیکس کی اسٹریمنگ سروس 190 سے زائد ممالک میں موجود ہے لیکن یہ چین میں آپریٹ نہیں ہوتی۔