'وزیراعظم نے ریپسٹ کو سرِعام پھانسی دینے کی مخالفت کردی'

اپ ڈیٹ 25 ستمبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مجوزہ قانون کے تحت سزا کی تفصیلات پر ابھی بات کی جانی ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مجوزہ قانون کے تحت سزا کی تفصیلات پر ابھی بات کی جانی ہے—فائل فوٹو: ٹوئٹر

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ریپسٹ کو سرِ عام پھانسی دینے کی مخالفت کردی ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں حکومت نے سرِعام پھانسی کا قانون نہ لانے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر اعظم نے واضح کردیا ہے کہ بین الاقوامی وعدوں اور سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے باعث سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی۔

خیال رہے کہ ملک میں بچوں اور خواتین سے ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں متعد حلقوں کی جانب سے مجرمان کو سرِعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ریپ میں ملوث افراد کو سرعام پھانسی یا نامرد کردینا چاہیے، وزیر اعظم

اسی دوران ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ریپ اور خواتین و بچوں سے جنسی استحصال کے واقعات میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دیتے ہوئے انہیں سرعام پھانسی یا کیمیائی طریقے سے نامرد بنانا چاہیے۔

بعد ازاں وفاقی کابینہ نے بھی وزیراعظم عمران خان کے ریپسٹ کو سر عام پھانسی دینے کے نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ حکومت، مغرب کے کسی دباؤ کو برداشت نہیں کرے گی۔

تاہم اب وفاقی وزیر انسانی حقوق نے یقین دہانی کروائی کہ ملک میں ریپ کیسز کی روک تھام کے لیے حکومت مؤثر اقدامات کر رہی ہے اور اس سلسلے میں نیا قانون لایا جارہا ہے۔

وزیر انسانی حقوق کا کہنا تھا کہ حکومت انسداد ریپ قانون لارہی ہے جو بچوں، مردوں، عورتوں، مخنثوں سب کے حوالے سے ہوگا، اس میں بہت سی اہم چیزیں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: بچوں سے زیادتی، قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد منظور

ان کا کہنا تھا اس قانون میں عام شہری بالخصوص خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے بہت سی چیزیں ہوں گی، اس قانون میں پولیس کے تحقیقاتی افسران ہوں گے، گواہان کا تحفظ ہوگا کیوں کہ اگر کوئی گواہ کی شناخت سامنے لائے گا تو وہ قابل سزا جرم ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس مجوزہ قانون کے تحت ریپ سیل بنایا جائے گا جو عدالتوں میں جاری مقدمات کی پیروی کی نگرانی کرے گا اور مقدمات پر سزا کی ایک مدت مقرر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس قانون میں نفسیاتی کاؤنسلنگ کے علاوہ بہت سی چیزیں ہوں گی۔

ساتھ ہی وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مجوزہ قانون کے تحت سزا کی تفصیلات پر ابھی بات کی جانی ہے، امید ہے کہ آئندہ پارلیمانی اجلاس سے قبل یہ بل تیار ہوجائے گا، جس سے متاثرہ افراد کو نہ صرف مکمل تحفظ بلکہ مجرمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔

ریپ مجرمان کو سرِعام پھانسی دینے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ متعدد افراد سرِ عام پھانسی کی حمایت کرتے ہیں لیکن پاکستان کے کچھ بین الاقوامی وعدے ہیں جبکہ سرِ عام پھانسی کے خلاف سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ بھی ہے چنانچہ قانون سازی میں جو سزا تجویز کی جائے گی وہ یہ سب معاملات مدِ نظر رکھتے ہوئے کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل کیس: وزارتِ قانون مجرم کو سرِ عام پھانسی کی مخالف

شیریں مزاری نے کہا کہ ملک کے قانون میں ریپ کے لیے سزائے موت پہلے ہی موجود ہے اصل مسئلہ طریقہ کار کا ہے کہ مجرمان کو تصفیے یا کسی اور وجہ سے سزا نہیں ہوپاتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب ایسے کیسز میں ریاست مدعی بنے گی جس کے تحت متاثرہ خاندان آپس میں سمجھوتہ نہیں کرپائیں گے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں کابینہ کے اجلاس میں اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ پراسیکیوشن کے مجوزہ بل پر بریفنگ دی گئی تھی۔

اس مجوزہ قانون کا مقصد جنسی جرائم کی مؤثر روک تھام، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کو یقینی بنانا، تفتیش کے دوران متاثرہ خاتون کی عزت نفس کا تحفظ اور بحالی، کیس کی تفتیش میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنسی جرائم سے متعلقہ سزاﺅں کو سخت ترین بنانا ہے۔