عالمی ہوا بازی ایجنسی کی پاکستان کو نئے لائسنس کے اجرا ملتوی کرنے کی تجویز

25 ستمبر 2020

ای میل

پائلٹ لائسنس اسکینڈل نے پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن کی صنعت کو داغدار کردیا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی
پائلٹ لائسنس اسکینڈل نے پی آئی اے اور پاکستان سول ایوی ایشن کی صنعت کو داغدار کردیا ہے — فائل فوٹو: اے ایف پی

بین الاقوامی سول ایوی ایشن تنظیم (آئی سی اے او) نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ وہ فوری اصلاحاتی اقدامات لیتے ہوئے تمام نئے پائلٹس کو لائسنس کے اجرا کا معاملہ ملتوی کردے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد دستاویزات اور عہدیدار کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق عالمی تنظیم نے یہ تجویز پاکستان میں پائلٹس کے غیر قانونی لائسنس سے متعلق اسکینڈل سامنے آنے پر دی۔

مزید پڑھیں: لائسنس اسکینڈل پر سول ایوی ایشن کے 3 عہدیدار برطرف

آئی سی اے او، جو اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسی ہے اور عالمی ہوائی سفر کو محفوظ بنانے کے حوالے سے کام کرتی ہے، کی مذکورہ تجویز اس وقت سامنے آئی جب 50 پائلٹس اور ان کو جعلی لائسنس جاری کرنے میں ملوث 5 سول ایوی ایشن افسران کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

گزشتہ ہفتے آئی سی اے او کی جانب سے پاکستان سول ایوی ایشن کو موصول ہونے والے خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کو اپنے لائسنس دینے کے نظام کو بہتر اور مستحکم کرنا چاہیے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ لائسنس دینے کے تمام ترعمل میں کوئی بے ضابطگی اور خرابی موجود نہیں جبکہ نئے لائسنس کے اجرا سے پہلے معطل کیے جانے والے لائسنس کی مراعات پر نظرثانی کی جائے۔

پاکستان کی وزارت ہوا بازی کے اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ جعلی لائسنس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد جولائی سے کوئی نیا لائسنس جاری نہیں کیا گیا۔

مونٹریال میں موجود ایجنسی کی تجاویز ایسے موقع پر سامنے آئیں جب آئی سی اے او کو پاکستان کے ایوی ایشن سیفٹی مینجمنٹ نظام کے آڈٹ کی اجازت دی گئی۔

افسران نے بتایا کہ آئی سی اے او کی جانب سے آڈٹ اس سال نومبر میں شیڈول تھا جسے جون میں منتقل کردیا گیا تاکہ پاکستان سول ایوی ایشن (پی سی اے اے) اس دوران ضروری اصلاحات کے حوالے سے اقدامات کر سکیں۔

پاکستان سول ایوی ایشن کے ترجمان نے اس معاملے پر اپنا رد عمل نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں: موٹروے پر مدد کی متلاشی خاتون کا 'ڈاکوؤں' نے 'گینگ ریپ' کردیا

آئی سی اے او کے ایک نمائندے نے اس حوالے سے تفصیلات بتانے سے انکار کیا لیکن اپنی میل میں کہا کہ 'آئی سی اے او پاکستان کو اپنی تشویش سے آگاہ کررہا ہے اور اگر ان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی کارروائی نہ کی گئی تو ہم اس حوالے سے دیگر ممالک کو آگاہ کریں گے’۔

خیال رہے کہ جعلی لائسنس اسکینڈل نے پاکستان سول ایوی ایشن انڈسٹری کو داغدار کردیا ہے جس سے پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کو نقصان پہنچا ہے جبکہ یورپ اور امریکا میں پروازوں پر پابندی لگادی ہیں۔

مزید یہ کہ 50 پائلٹس کے لائسنس منسوخ کرنے کے علاوہ اس سال 32 پائلٹس کو معطل بھی کیا گیا ہے۔

پائلٹس کے 'مشکوک' لائسنسز کا معاملہ

خیال رہے کہ پائلٹس کے مشکوک یا جعلی لائسنسز کے معاملے کا آغاز 24 جون کو اس وقت ہوا جب قومی اسمبلی میں کراچی مسافر طیارہ حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ 860 پائلٹس میں سے 262 ایسے پائے گئے جن کی جگہ کسی اور نے امتحان دیا تھا۔

جس کے بعد پاکستان نے 26 جون کو امتحان میں مبینہ طور پر جعل سازی پر پائلٹس کے لائسنسز کو 'مشکوک' قرار دیتے ہوئے انہیں گراؤنڈ کردیا تھا۔

غلام سرورخان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'جن پائلٹس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہ 262 ہیں، پی آئی اے میں 141، ایئربلیو کے 9، 10 سرین، سابق شاہین کے 17 اور دیگر 85 ہیں'۔

جس کے بعد پی آئی اے کی انتظامیہ نے اپنے 150 پائلٹس کو گراؤنڈ کرنے (کام کرنے سے روکنے) کا فیصلہ کیا تھا۔

29 جون کو ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی نے عالمی ریگولیٹرز کی جانب سے پائلٹس کے ’مشکوک لائسنس‘ رکھنے کی تشویش پر مقامی ایئرلائنز کے لیے تمام پاکستانی پائلٹس کو گراؤنڈ کردیا تھا۔

اگلے روزیورپین یونین ایئر سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے یورپی ممالک کے فضائی آپریشن کا اجازت نامہ 6 ماہ کے لیے عارضی طور پر معطل کردیا تھا جس پر 3 جولائی سے اطلاق ہوا۔

اسی روز اقوام متحدہ کے ڈپارٹمنٹ آف سیفٹی اینڈ سیکیورٹی (یو این ڈی ایس ایس) نے پاکستانی ایئرلائن کو اپنی 'تجویز کردہ فہرست' سے ہٹا دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ملائیشیا نے سی اے اے سے لائسنس کی تصدیق کے منتظر پاکستانی پائلٹس کو معطل کردیا

جس کے بعد یکم جولائی کو برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اپنے 3 ایئرپورٹس سے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا جبکہ متحدہ عرب امارت نے بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے مختلف فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے پاکستانی پائلٹس اور انجینئرز کے کوائف کی تصدیق کی درخواست کی تھی۔

اس کے بعد 3 جولائی کو ملائشیا کے ایوی ایشن ریگولیٹر نے پاکستانی لائسنس رکھنے والے اور مقامی ایئر لائنز میں ملازمت کرنے والے پائلٹس کو عارضی طور پر معطل کردیا تھا۔

جس کے بعد 4 جولائی کو وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا تھا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد مزید 30 ’مشتبہ لائسنس' کے حامل پائلٹس کو اظہار وجوہ کے نوٹسز بھیجے جاچکے ہیں۔

7 جولائی کو یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) نے 32 رکن ممالک کو 'پاکستان میں جاری کردہ پائلٹ لائسنسز سے متعلق مبینہ فراڈ' کے حوالے سے خط لکھا اور ان پائلٹس کو فلائٹ آپریشن سے روکنے کی سفارش کی تھی۔

اسی روز سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 'مشکوک' لائسنسز سے متعلق انکوائریاں مکمل ہونے کے بعد پی آئی اے کے 34 پائلٹس کے کمرشل فلائنگ لائسنسز معطل کردیے تھے۔

بعدازاں 9 جولائی کو امریکا نے بھی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی خصوصی پروازوں کے اجازت نامے کو منسوخ کردیا تھا۔

10 جولائی کو ایوی ایشن ڈویژن نے مختلف ممالک کی ایئرلائنز میں کام کرنے والے 95 فیصد پائلٹس کے لائسنز کلیئر کردیے تھے۔