ایس ای سی پی عہدیدار نے ڈیٹا لیک کے معاملے پر جاری شوکاز نوٹس کو چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 26 ستمبر 2020

ای میل

معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے خاندانی کاروبار سے متعلق ڈیٹا لیک ہونے پر ایس ای سی پی نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی
معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کے خاندانی کاروبار سے متعلق ڈیٹا لیک ہونے پر ایس ای سی پی نے انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں نے اس شوکاز نوٹس کو چیلنج کیا ہے جو انہیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے خاندانی کاروبار سے متعلق ڈیٹا لیک ہونے پر جاری کیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس ای سی پی نے 22 ستمبر کو 8 عہدیداروں کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور اعداد و شمار کے سامنے آنے پر 2 دیگر افراد کو انتباہی مراسلہ بھی جاری کیا تھا۔

اس حوالے سے اب ایک عہدیدار نے معاملے کو اسلام آبا ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے جہاں چیف جسٹس اطہر من اللہ درخواست پر سماعت کریں گے۔

واضح رہے کہ ڈیٹا لیک ہونے کا معاملہ وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے کابینہ کے اجلاس میں اٹھایا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم کے معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

درخواست گزار ارسلان ظفر نے ڈیٹا لیک اور اس کی رپورٹ میں اپنے اور دیگر عہدیداروں کے کردار کے تعین کے لیے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کی تشکیل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ان کے ایک جونیئر کو تفویض کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ انکوائری کمیٹی نے درخواست دہندہ کو اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے لازم مناسب وقت نہیں دیا اور جلد بازی میں اس معاملے کو آگے بڑھایا گیا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد اور محض مفروضوں پر مبنی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ایس ای سی پی کمشنر سعدیہ خان کی سربراہی میں ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا معاون خصوصی اطلاعات کے خلاف الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی کے کمیشن کی جانب سے ان عہدیداروں کے خلاف کیس کی سماعت کے بعد حتمی رپورٹ سرکاری طور پر پیش کی جائے گی۔

ایس ای سی پی کے ہیومن ریسورس ڈپارٹمنٹ نے 8 ملازمین کو شوکاز نوٹسز جاری کیے ہیں، ان میں مارکیٹ سرویلنس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر بھی شامل ہیں۔

مذکورہ نوٹس کے مطابق ارسلان ظفر نے جولائی کے آخری ہفتے میں عاصم سلیم باجوہ اور ان کے اہلخانہ کے افراد کی ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کی تھی۔

ان پر ایس ای سی پی کے ایچ آر مینوئل کی خلاف ورزی کرنے کا الزام ہے اور ان سے اپنے اس عمل کی وجوہات کی وضاحت کرنے اور اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کمیشن کو مطمئن کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ارسلان ظفر اور دیگر جواب دہندگان سے کہا گیا کہ وہ 29 ستمبر تک تحریری جوابات ایچ آر ڈپارٹمنٹ کو پیش کریں جس کے بعد کمیشن میں سماعت ہوگی۔

علاوہ ازیں دیگر عہدیدار جنہیں شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں ان میں محکمہ آئی ٹی کے جوائنٹ ڈائریکٹر (جے ڈی) زاہد حسین، آئی ٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حسین سروش، آئی ٹی کے اسسٹنٹ جوائنٹ ڈائریکٹر محمد سہیل، آئی ٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر حماد احمد، کمپنیز رجسٹریشن آفس کے اسسٹنٹ جوائنٹ ڈائریکٹرز صادق شاہ، ابیل علی عابد اور سید جمال زیدی شامل ہیں۔