بینکوں کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ میں اضافہ

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2020

ای میل

—فائل فوٹو: اے ایف پی
—فائل فوٹو: اے ایف پی

کراچی: بینکرز اور منی چینجرز نے کہا ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد ستمبر میں زیادہ رہی تو ترسیلات زر میں 2 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کرنسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے زر مبادلہ کی آمد کم سے کم 4 وجوہات کی وجہ سے زیادہ ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو صرف بینکوں کے ذریعے اپنے پیسے بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔

مزید پڑھیں: کووڈ 19: عالمی طور پر آمدنی میں 120 کھرب ڈالر کے نقصان کا خدشہ

فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان نے کہا کہ 'کمرشل پروازوں کے بند ہونے سے تمام ترسیل دہندگان بینک کے ذریعے رقم بھیجنے پر مجبور ہوئے'۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی نقل و حرکت محدود ہوگئی جس کے نتیجے میں باضابطہ چینلز (بینک) کی طرف یقینی عمل شروع ہوا۔

ملک بوستان نے کہا کہ وہ ہزاروں ڈالر بینکنگ سسٹم کے ذریعہ بھیجنے کی بجائے اپنے بیگ میں لاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 'جولائی اور اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ کی اضافی رقم نے زر مبادلہ کی شرح کو مستحکم کیا اور اس سے ملکی معیشت کی مدد جاری رہے گی'۔

یہ بھی پڑھیں: اگست میں 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ

ملک بوستان نے مزید کہا کہ ایکسچینج کمپنیاں بینکوں میں زیادہ ڈالر جمع کر رہی ہیں جبکہ کھلی منڈیاں تقریباً یک طرفہ کاروبار کر رہی ہیں کیونکہ خریدار صرف 10 فیصد تجارت کرتے ہیں جبکہ باقی فروخت کنندہ ہوتے ہیں۔

ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے ڈالر کے ذخائر اور کھلی منڈیوں سے گرین بیک کی انتہائی کم خریداری سے تجارتی بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، جو 18 ستمبر کو 12 ماہ کی بلند ترین سطح پر 7 ارب ڈالرسے زیادہ پر آگیا۔

ستمبر 2019 میں تجارتی بینکوں کی مالیت 7 ارب 29 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی۔

خیال رہے کہ ستمبر میں جاری اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق اگست کے مہینے میں پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا جہاں گزشتہ سال اسی عرصے میں 60 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

مزیدپڑھیں: کورونا وائرس سے عالمی معیشت کو بڑا دھچکا، شرح نمو تیزی سے نیچے آنے لگی

رپورٹ کے مطابق جولائی میں 50 کروڑ 8 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں 71 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے جن کو پہلے بتائے گئے اعدادوشمار 42 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے بڑھا دیا گیا تھا۔

نئے مالی سال میں لگاتار دوسرر مرتبہ کرنٹ اکاؤنٹ میں ہونے والے اضافے کے ساتھ ایسا لگتا تھا کہ ملک نے اپنے بیرونی محاذ کو بہتر بنایا جسے مالی سال 2018 میں 20 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ دنیا کے تمام حصوں کو متاثر کرنے والے مہلک کورونا وائرس کی صورتحال پاکستان میں خاصی تسلی بخش تھی لیکن اب کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

پاکستان میں آج 27 ستمبر تک مزید 684 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی اور 6 مریض انتقال کر گئے جبکہ 280 افراد صحتیاب ہوگئے۔

آج رپورٹ ہونے والے کیسز میں بلوچستان کے گزشتہ روز سامنے آنے والے 81 جبکہ خیبرپختونخوا کے 29 کیسز بھی شامل ہیں۔

ملک میں ابھی تک 3 لاکھ 10 ہزار 275 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں تاہم ان میں سے 2 لاکھ 95 ہزار 613 صحتیاب ہوگئے ہیں اور 6 ہزار 457 مریض انتقال کر گئے۔