ملک میں احتساب ہوتا تو شہباز شریف نہیں، معاون خصوصی گرفتار ہوتے، مریم نواز

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2020

ای میل

مریم نواز نے اپنے چچا اور پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا— فائل فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر
مریم نواز نے اپنے چچا اور پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا— فائل فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف نہیں بلکہ معاون خصوصی کو گرفتار کیا جاتا۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا صرف یہ قصور ہے کہ اس نے نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا، اس نے جیل جانے کو ترجیح دی مگر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑا رہا۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

مریم نواز نے کہا کہ اگر اس ملک میں احتساب اور انصاف ہوتا تو شہباز شریف نہیں، عاصم سلیم باجوہ اور اس کا خاندان گرفتار ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتقامی احتساب نواز شریف اور اس کے ساتھیوں کا حوصلہ پست نہیں کر سکتے، اب وہ وقت دور نہیں جب اس حکومت اور ان کو لانے والوں کا احتساب عوام کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ شہباز شریف کو گرفتار کر کے بھی اپنے جھوٹے اور جعلی مینڈیٹ کو نہیں بچا سکیں گے، شہباز شریف کی سربراہی میں مسلم لیگ (ن) کے وفد نے اے پی سی میں جو بھی فیصلے کیے، مسلم لیگ (ن) کا ہر کارکن ان وعدوں پر ثابت قدم رہے گا، انشاءاللّہ! آج ہم سب شہباز شریف ہیں!۔

دوسری جانب لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سال سے پاکستان کے عوام یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ نیب نیازی گٹھ جوڑ دو سال سے ہر مخالف کی آواز کو بند رکھنا چاہتا ہے، آج شہباز شریف کو ایک بے نامی درخواست پر جس کی کوئی ولدیت نہیں ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ نے گرفتار کیا۔

انہوں نے کہا کہ 58 والیومز پر مشتمل جو دستاویزات ہیں، اس میں ایک جگہ بھی شہباز شریف کا نام نہیں لیکن 2018 کے الیکشن کی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں دھاندلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، جس طرح 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس کو بٹھایا تھا، اسی طرح لوکل گورنمنٹ الیکشنز میں دھاندلی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کرپشن مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کا ذمہ دار نیب ہے، سپریم کورٹ

ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر کو شہباز شریف کو نیب نیازی گٹھ جوڑ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ میں واضح طور پر دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتی ہوں کہ عمران خان کے حکم پر آج نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے کیونکہ یہ مثال بنانا چاہتے ہیں ان لوگوں کی جنہوں نے پاکستان کے عوام کی خدمت کی، یہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں پاکستان کے آئین کو، ان لوگوں کو جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا، اس جماعت کو جس نے پاکستان کی اکائیوں کو آپس میں ملایا، اس جماعت کو جنہوں نے پاکستان کے عوام کا خوشحال کیا۔

مسلم لیگ(ن) کی ترجمان نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو نااہل، نالائق، چور، کرپٹ اور سازشی ہیں، جن کی 23 فارن فنڈنگ کا کوئی جواب نہیں پوچھتا کہ 23 فارن فنڈنگ اکاؤنٹس سے، بے نامی اور غیرقانونی اکاؤنٹس سے ملک میں پیسے آئے لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں پوچھتا۔

مزید پڑھیں: چیئرمین نیب میں شرم و حیا ہے تو استعفیٰ دے کر گھر جائیں، بلاول بھٹو

ان کا کہنا تھا کہ اس کا جواب کوئی نہیں پوچھتا، جنہوں نے اربوں کھربوں کھا لیے، پاکستان کے عوام کا آٹا چینی چوری کر لیا، اس سے کوئی نہیں کہتا کہ جواب دو، وہ لوگ جن کے اثاثے نکل آتے ہیں، جو کرپشن کرتے ہیں آج ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جس طرح نیب نیازی گٹھ جوڑ نے شہباز شریف کو گرفتار کیا ہے، یہ شہباز شریف کو نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام کو ہتھکڑی لگی ہے، یہ ان تمام منصوبوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کی ہے جو نواز شریف اور شہباز شریف نے لگائے لیکن ان منصوبوں کی حفاظت مسلم لیگ(ن) کرے گی۔

مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ آج نیب کے پراسیکیوٹر ایک دھیلے کی بھی کرپشن کا الزام شہباز شریف پر نہیں لگا سکے لیکن کیونکہ نیب کو حکم ہے کہ گلگت بلتستان اور لوکل گورنمنٹ الیکشن سے پہلے شہباز شریف کو گرفتار کیا جائے لہٰذا آج عمران خان کے حکم کی تعمیل ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جج ارشد ملک کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بھی عدالت کے فیصلے تسلیم کیے تھے اور ہم آج بھی نیب نیازی گٹھ جوڑ کی سازش کے باوجود فیصلہ تسلیم کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 'سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کا ادارہ بند کر دینا چاہیے'

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف ان تمام جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا جانتے ہیں، 70 دن نیب کے عقوبت خانے میں رہ کر آئے ہیں، عمران خان اور چیئرمین نیب ہمیں ان گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش نہ کریں، پاکستان مسلم لیگ (ن) آج پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔

مسلم لیگ(ن) کی ترجمان نے کہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتی ہوں کہ شہباز شریف کی گرفتاری اے پی سی کو مفلوج کرنے کے لیے ہے اور یہ جو آل پارٹیز کانفرنس کی قرارداد آئی ہے، عمران خان کی طرف سے اس کا ردعمل آیا ہے۔

انہوں نے حکومت کے نام پیغام میں کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کے پورے پروگرام کی شروعات آج سے ہوئی جاتی ہے، اگر آپ میں دم ہے تو روک کر دکھائیں۔

بلاول بھٹو کی بھی شہباز شریف کی گرفتاری پر مذمت

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سے بوکھلائے عمران خان اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔

مزید پڑھیں: سال 2019: ’نیب نے ایک کھرب 50 ارب روپے برآمد کیے‘

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ہمشیرہ اور معاونین خصوصی پر سنگین الزامات ہیں مگر انہیں نیب طلب نہیں کرتا۔

بلاول نے مزید کہا کہ نیب کی جانب سے اپوزیشن کے سیاست دانوں کو نشانہ بنانے سے عوامی مزاحمت کا راستہ نہیں رک سکتا، حکومت نے جو کرنا ہے کرلے، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سفر نہیں رکے گا۔