ہندوستان میں ہوں گی 50 ریاستیں؟

شائع August 5, 2013 اپ ڈیٹ August 5, 2013 04:36pm

India may have 50 states if new demands met670
۔ —. فائل فوٹو اے ایف پی

اگر نئی ریاستوں کی تشکیل کے لیے وزارت داخلہ کو موصول ہونے والی درخواستوں پر عملدرآمد ہوگیا تو انڈیا میں بیس سے زیادہ ریاستوں کا اضافہ ہوجائے گا۔ اور خیال کیا جارہا ہے کہ مستقبل میں ہندوستان پچاس ریاستوں پر مشتمل ملک بن جائے گا۔

علیحدہ ریاستوں کے قیام کے مطالبات پورے ہندوستان سے سامنے آرہے ہیں۔ منی پور میں کوکی لینڈ سے تامل ناڈو میں کونگو ناڈو تک اور شمالی بنگال میں کماتاپور سے کرناٹک میں ٹولو ناڈو تک یہ مطالبات پھیلے ہوئے ہیں۔

اُتر پردیش ریاست کو چھوڑ کر جہاں مایاوتی کی قیادت میں بی ایس پی کی حکومت نے ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کو چار ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، ہندوستان کی کسی ریاست کی حکومت نے اپنے اندر نئی ریاست کی تجویز کی حمایت نہیں کی۔ لیکن یہ مطالبات دن بدن زور پکڑتے جارہے ہیں۔

ہندوستانی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے بتایا ”گزشتہ کئی سالوں سے بہت سی تنظیموں کی جانب سے اور انفرادی طورپر بھی علیحدہ ریاستوں کی تشکیل کے مطالبات وزارت داخلہ کو موصول ہورہے ہیں۔“

علیحدہ ریاستوں کے قیام کے مشہور مطالبات یہ ہیں:

 اتر پردیش میں تین ریاستوں کی تشکیل کے مطالبات کیے جارہے ہیں، اول اودھ پردیش، دوم پوروانچل، بنڈیل کھنڈ اور پیچی مانچل یا ہرت پردیش۔

اس کے علاوہ اترپردیش سے آگرہ ڈویژن اور علیگڑھ ڈویژن، مدھیہ پردیش سے بھرت پور اور راجستھان سے گوالیار کے ضلعوں کو ملا کر براج پردیش کی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے۔

ایک مطالبہ مشرقی اترپردیش، بہار اور چھتیس گڑھ کے علاقوں پر مشتمل ریاست بھوجپور ریاست کی تشکیل کا مطالبہ بھی وزارتِ داخلہ کو موصول ہوچکا ہے۔

مہاراشٹرا ریاست میں وداربھا کے خطے کو وداربھا ریاست کی حیثیت دینے کا مطالبہ بھی بہت پُرانا ہے۔

دارجلنگ اور اس سے منسلک مشرقی بنگال کے علاقوں پر مشتمل علیحدہ ریاست کی تشکیل کا ایک انتہائی پُرزور مطالبہ گورکھا لینڈ سے کیا جارہا ہے۔

مغربی آسام میں بوڈو کے اکثریتی علاقوں پر مشتمل بوڈو لینڈ کا مطالبہ بھی موجود ہے، اور کربی انگلونگ جو آسام میں کربی قبائل کے علاقوں پر مشتمل ایک خودمختار ضلع ہے، کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ بھی مرکز کے پاس زیرغور ہے۔

بہار اور جھاڑکھنڈ میں میتھلی زبان بولنے والے لوگوں کے خطے پر مشتمل میتھلانچل کا مطالبہ بھی موجود ہے۔

گجرات سے باہر کے خطے کو سوراشٹرا کے نام سے ایک ریاست بنانے کا مطالبہ بھی مرکز کو موصول ہوچکا ہے۔

شمال مشرق کے ڈیماسا لوگوں کی جانب سے ڈیماراجی یا ڈیما لینڈ کی علیحدہ ریاست کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے، جو آسام اور ناگالینڈ میں ڈیماسا قوم کی آبادی والے علاقوں پر مشتمل ہو۔

تامل ناڈو کے جنوب مغربی، کرناٹک کے شمال مشرقی اور کیرالہ کے مشرقی حصوں پر مشتمل کونگو ناڈو کے نام سے ایک ریاست کی تشکیل کا مطالبہ بھی موجود ہے۔

کرناٹک کے کورگ خطے پر مشتمل کورگ ریاست کا مطالبہ بھی مرکز کو موصول ہوچکا ہے۔

اُڑیسہ ریاست کے کچھ ضلعوں ، جھاڑکھنڈ اور چھتیس گڑھ ریاستوں کے کچھ حصوں کو ملا کر کوسل کے نام سے علیحدہ ریاست کی تشکیل کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے۔

ایک مطالبہ کرناٹک اور کیرالہ کی سرحدی خطے پر مشتمل ٹولو ناڈو ریاست کا بھی موجود ہے۔

منی پور میں کوکی قبائلیوں کی آبادی والے علاقو٘ں پر مشتمل کوکی لینڈ کے نام سے ایک علیحدہ ریاست کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔

مغربی ہندوستان میں بحیرہ عرب کی ساحلی پٹی پر آباد کونکانی بولنے والے لوگوں کے علاقے پر مشتمل ریاست کونکان کا مطالبہ بھی سامنے آچکا ہے۔

کامٹاپور کے نام سے مغربی بنگال کے کچھ ضلعوں بشمول کوچ بہار اور جل پیگوری کو ملا کر ایک الگ ریاست بنانے کا مطالبہ بھی موجود ہے۔

میگھالیہ ریاست میں گارو خطے کے کچھ لوگوں کی جانب سے گارولینڈ کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مشرقی ناگالینڈ کی علیحدہ ریاست کا مطالبہ بھی موجود ہے جو شمال مشرقی ریاست کے کچھ حصوں کو ملا کر بنائی جائے۔

لداخ کے لیے یونین ٹیریٹری  یعنی وفاق کے زیرانتظام ریاست کا مطالبہ بھی وزارت داخلہ کے پاس زیرالتوا ہے۔

بہرحال اب تک ہندوستان 28 ریاستوں اور سات وفاق کے زیرانتظام علاقوں پر مشتمل ہے۔تلنگانہ کے باقاعدہ قیام کے بعد ہندوستانی ریاستوں کی تعداد 29 ہوجائے گی۔

بشکریہ: ہندوستان ٹائمز

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026