جاپان: عدالت میں 9 افراد کے قتل میں ملوث 'ٹوئٹر قاتل' کا اعتراف جرم

01 اکتوبر 2020

ای میل

شیرایشی کو ریپ کے الزامات کا بھی سامنا ہے—فوٹو: اے ایف پی
شیرایشی کو ریپ کے الزامات کا بھی سامنا ہے—فوٹو: اے ایف پی

جاپان میں 'ٹوئٹر قاتل' کے نام سے مشہور ملزم نے عدالت میں 9 افراد کے قتل کا اعتراف کرلیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے شیرایشی نامی ملزم کے گھر سے قتل کیے جانے والے متعدد افراد کے اعضا سرد خانے سے برآمد کیے۔

شیرایشی کو ریپ کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔

شیرایشی پر الزام ہے کہ انہوں نے ٹوئٹر کے ذریعے 15 سے 26 سال کی عمر کے لوگوں سے رابطہ کیا جو اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتے تھے۔

شیرایشی نے ٹوئٹر پر ان افراد کو تسلی دی کہ وہ ان کے منصوبے کی تکمیل میں مدد کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ساتھ مر بھی سکتا ہے۔

اگر شیرایشی پر قتل کا جرم ثابت ہوجاتا ہے تو جاپان کے قانون کے مطابق انہیں پھانسی دی جائے گی۔

شیرایشی عرف ٹوئٹر قاتل کو پولیس نے ایک 23 سالہ خاتون کی گمشدگی کی تحقیقات کرتے ہوئے 3 سال قبل حراست میں لیا تھا۔

خاتون نے مبینہ طور پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ خود کو قتل کرنا چاہتی ہیں۔

خاتون کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے بھائی نے بہن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی۔

2017 میں پولیس نے شیرایشی کے گھر کے اندر ایک خوفناک کمرہ دریافت کیا جہاں وہ ان لوگوں کو بلا کر قتل کرتا تھا جو خود اپنی زندگی سے بیزار تھے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے۔

لیکن ملزم کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو 'رضامندی کے ساتھ قتل' کردیا جائے جس میں 6 ماہ سے 7 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

دوسری جانب خود شیرایشی نے کہا کہ وہ اپنے وکلا سے متفق نہیں ہیں اور استغاثہ کو بتائیں گے کہ انہوں نے 'رضامندی کے بغیر قتل کیا ہے'۔

شیرایشی نے شائع ہونے والے ایک تبصرے میں کہا کہ 'متاثرہ افراد کے سروں کے پیچھے زخم آئے، اس کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی اتفاق رائے نہیں تھا اور میں نے ایسا کیا تاکہ وہ مزاحمت نہ کریں'۔