نواز شریف کی واپسی کیلئے قانونی حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2020
نواز شریف حالیہ خطاب میں حکومت اور اداروں پر تنقید کرتے نظر آئے ہیں—فائل فوٹو: مریم نواز ٹوئٹر
نواز شریف حالیہ خطاب میں حکومت اور اداروں پر تنقید کرتے نظر آئے ہیں—فائل فوٹو: مریم نواز ٹوئٹر

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ اپوزیشن کی حکومت کو غیرمستحکم کرنے اور فوج کو بدنام کرنے کی تمام کوششوں کو ناکام بنائیں اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لیے ایک قانونی حکمت عملی تیار کریں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ ہدایات اپوزیشن کے بیانیہ کا مقابلہ کرنے کے لیے حال ہی میں بنائی گئی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔

مذکورہ کمیٹی وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، فواد چوہدری، شفقت محمود اور پرویز خٹک پر مشتمل ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کو فوج نے پال کر سیاست دان بنایا، وزیراعظم

ادھر اس اجلاس میں موجود ایک ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم عمران خان سابق وزیراعظم نواز شریف کو لندن سے واپس لانے کے لیے پرعزم ہیں اور انہوں نے کمیٹی اراکین کو ہدایت کی کہ ایک قانونی حکمت عملی تیار کریں کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان حوالگی کے معاہدے کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ (ن) کے قائد کی ملک بدری مشکل ہوگی۔

خیال رہے کہ کچھ روز قبل وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے ڈان کو بتایا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کی واپسی کے لیے برطانوی حکام کو نئے خطوط لکھے ہیں، مزید یہ کہ ان کی حوالگی کے لیے باضابطہ طور پر ایک درخواست بھی بھیجی گئی تھی۔

وزیراعظم کے مشیر کا یہ خیال تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حوالگی کا کوئی معاہدہ نہیں تاہم خصوصی معاہدوں کے تحت مطلوب شخص ایک دوسرے کے حوالے کیا جاسکتا ہے۔

ادھر اجلاس میں موجود ذرائع کا کہنا تھا کہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر ملے گی اور یومیہ کے حساب سے منصوبہ بندی بنائے گی کہ اپوزیشن کی پارلیمنٹ، میڈیا اور سیاسی محاذ پر مقابلہ کیسے کریں۔

اجلاس میں پنجاب اسمبلی کے مسلم لیگ (ن) کے ان 5 'باغی' اراکین سے بھی رابطے کا فیصلہ کیا گیا جنہوں نے حال ہی میں پارٹی قیادت کو اطلاع دیے بغیر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی۔

اس موقع پر وزیراعظم کے حوالے سے بتایا گیا کہ عمران خان نے اپوزیشن کے ڈیزائنز کو شکست دینے اور فوج سمیت ریاستی اداروں کے دفاع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 'فوج کے دشمن درحقیقت پاکستان کے دشمن ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حکومت کے خلاف اپوزیشن کی مہم سے کوئی خطرہ نہیں، ساتھ ہی انہوں نے ایک مرتبہ پھر قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او) کے طرز کی رعایت کو مسترد کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: خاموش نہیں رہوں گا، کوئی چپ بھی نہ کرائے، نواز شریف

ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کا مشن تھا کہ بدعنوان سیاست دانوں کو بے نقاب کریں، 'اپوزیشن رہنماؤں کو فوج سے مسئلہ ہے اور یہ اس لیے ہے کیونکہ ان کی کرپشن پتہ لگایا جارہا ہے'۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اور بھارت ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، 'نواز شریف چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سڑکوں پر لائیں جبکہ وہ اور ان کے بچے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں'، مزید یہ کہ سابق وزیراعظم چاہتے ہیں کہ ادارے ان کے مفادات کا تحفظ کریں۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم نواز شریف کے اس دعوے کہ انہیں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام نے مستعفی ہونے کا کہا تھا، پر عمران خان نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'کیوں اس وقت انہوں (نواز شریف) نے سخت مؤقف اختیار نہیں کیا اور کیوں وہ اس وقت نہیں بولے؟'

تبصرے (0) بند ہیں