نواز شریف کو فوج نے پال کر سیاست دان بنایا، وزیراعظم

اپ ڈیٹ 02 اکتوبر 2020

ای میل

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوج نے پال کر سیاست دان بنایا۔

نجی ٹی وی چینل 'سما نیوز' کے پروگرام ‘ندیم ملک لائیو’ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ‘پاکستان میں سول اور فوجی تعقات میں مسئلہ رہا ہے، اگر ماضی میں کسی آرمی چیف نے کوئی غلطی کی تو کیا ہمیشہ کے لیے پوری فوج کو برا بھلا کہیں، اگر جسٹس منیر نے غلط فیصلہ کیا تو عدلیہ کو ساری زندگی برا بھلا کہنا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ماضی صرف سیکھنے کے لیے ہوتا ہے، ہم نے سیکھا ہے کہ فوج کا کام حکومت چلانا نہیں ہے، جمہوریت اگر ملک کو نقصان دے رہی تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی جگہ مارشل لا آجائے، اس کا مطلب جمہوریت کو ٹھیک کریں’۔

مزید پڑھیں:خاموش نہیں رہوں گا، کوئی چپ بھی نہ کرائے، نواز شریف

وزیراعظم نے کہا کہ ‘اگر عدلیہ میں غلط فیصلے ہو رہے ہوں، کوئی چیف جسٹس ایسا آئے جو غلط فیصلے کرے یا ملک میں کمزور کو طاقت ور سے تحفظ نہ دے سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عدلیہ کی مذمت کریں بلکہ اس کو بہتر کریں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے ملک میں عدلیہ بہتر ہوتی گئی ہے اور اسی طرح فوج بھی بہتر ہوئی ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ موجودہ سول-فوجی تعلق بہتر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی فوج ایک جمہوری حکومت کے پیچھے کھڑی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج اعتماد اس لیے ہے کہ اپنے دائرے میں کام کر رہے ہیں، ایک جمہوری حکومت اپنے منشور کے مطابق کام کر رہی اور فوج اس کے مطابق کام کر رہی ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘آج پاکستان کی فوج میری پالیسی کے ساتھ کھڑی ہے لیکن اپوزیشن کا مسئلہ یہ ہے کہ نواز شریف کبھی جمہوری نہیں تھے، پہلے انہیں فوج نے پالا، جنرل جیلانی سے شروع ہوئے پھر جنرل ضیا الحق نے پالا، سب میرے سامنے ہے، کیسے ہاتھ پکڑ کر منہ میں چوسنی لگا کر انہیں ایک سیاست دان بنایا’۔

نواز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ تو ایک کاروباری تھے، کیسے ڈی سیز کے دفتر کے باہر پھل کے ٹوکرے رکھتے، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے جنرل جیلانی کے لیے سریا لگایا اور وزیرخزانہ بنے اور اب ایک دم سے بڑے جمہوری بنے ہیں’ ۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پہلے ان کا مسئلہ غلام اسحٰق سے آیا، جنرل آصف جنجوعہ، پھر جنرل پرویز مشرف کو ترقی دی لیکن مسئلہ آیا، اس کے بعد جنرل راحیل اور پھر جنرل باجوہ سے مسئلہ آیا حالانکہ خود انہوں نے منتخب کیا تھا، ہماری ایجنسیاں آئی ایس آئی اور ایم آئی ورلڈ کلاس ہیں اور انہیں چوریوں کا ان کو پتا چلتا ہے'۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'نواز شریف سارے سول اداروں کو قابو کرتے ہیں، نواز شریف نے عدلیہ کو کنٹرول کیا، سجاد علی شاہ کو ڈنڈے اور باقی عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے پیسوں کے بریف کیس دیے'۔

'مجھ سے استعفیٰ مانگنے کی جرأت کسی میں نہیں'

انہوں نے کہا کہ 'یہ فوج کو کنٹرول کرنا چاہتے تھے اور جب کنٹرول میں نہیں آتی تھی تو یہ جمہوری بن جاتے تھے اور سارا وقت فوج کو برا بھلا کہتے ہیں، بیان میں کہہ رہے تھے کہ جنرل ظہیر الاسلام نے آکر کہا کہ استعفیٰ دو، آپ وزیراعظم تھے، اس کی جرأت ہے آپ کو یہ کہنے کی، آپ سیدھے ان سے جواب طلب کرتے'۔

یہ بھی پڑھیں:دیکھنا ہے نواز شریف کی تقاریر دکھائی جاسکتی ہیں یا نہیں، شبلی فراز

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ 'میں جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہوں اور اگر مجھے کوئی ایسا کہے تو فوری طور پر میں اس کے استعفے کا مطالبہ کروں گا، میں ملک کا وزیراعظم ہوں اور کس کی جرات ہے کہ مجھے آکر یہ کہے'۔

انہوں نے کہا کہ ‘اگر میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو میں اس کو سامنے بلاتا اور میں اس کو فارغ کرتا، اتنا بزدل نہیں کہ وہ سری لنکا گیا تو فارغ کروں’۔

'بھارت، نواز شریف کی پوری مدد کر رہا ہے'

عمران خان نے کہا کہ ‘نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں وہ بہت خطرناک ہے، یہی الطاف حسین نے کیا، میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ان کے پیچھے 100 فیصد بھارت ہے اور وہ ان کی پوری مدد کر رہا ہے، پاکستان کی فوج کمزور کرنے پر دلچسپی ہمارے دشمنوں کی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا میں بھارتی لابی میں کون بیٹھا ہوا ہے جو بڑا جمہوری بن کر پاکستان کی فکر میں ہے، حسین حقانی باہر بیٹھ کر پوری مہم چلاتا ہے اور یہاں نادان لبرلز بنے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں ہم فوج کے خلاف ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں ان سے کہتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنی آنکھیں کھولو اور لیبیا، عراق، شام، افغانستان، یمن اور پوری مسلم دنیا میں آگ لگی ہوئی اور اگر آج ہماری پاکستانی فوج نہ ہوتی تو ملک کے تین ٹکڑے ہوجاتے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہندوستان کے تھنک ٹینک باقاعدہ طور پر کہتے ہیں کہ پاکستان کو توڑنا ہے اور ہم اس فوج کی وجہ سے بچے ہوئے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں پاکستان کی تاریخ کا واحد آدمی ہوں جو 5 حلقوں سے جیت کر آیا ہوں، نواز شریف اور ذوالفقار علی بھٹو کی طرح فوج کی نرسری میں نہیں پلا، ایوب خان کی کابینہ میں سارے جنرل تھے اور صرف ایک سویلین وزیر تھا’۔

'جنرل باجوہ نے پوچھ کر سیکیورٹی معاملے پر اجلاس بلایا'

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'مجھ سے پوچھ کر ملاقات کی تھی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ‘گلگت بلتستان کے اندر بھارت مکمل طور پر متحرک ہے کیونکہ یہ سی پیک کی روٹ ہے اور اوپر سے انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں اور مسئلہ ہے’۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘گلگت بلتستان کے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق ہوں اور ایک کش مکش میں ہیں، ہندوستان اس کا استعمال کررہا تھا اس لیے جنرل باجوہ سیکیورٹی نے مسئلے آگاہ کیا جو ہمارا دشمن آگے جا کر مسئلہ اٹھا رہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہندوستان نے ملک میں شیعہ سنی انتشار کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ہماری ایجنسیوں نے ناکام بنایا اور اسلام آباد میں لوگوں کو پکڑا، بی جے پی کی موجودہ حکومت جیسی بھارت میں اس قدر پاکستان مخالف کوئی حکومت نہیں آئی’۔

مزید پڑھیں:موجودہ حکومت سے مذاکرات کی گوئی گنجائش نہیں، مریم نواز

اپوزیشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ جو مرضی چاہے کرلیں، مجھے ان کی کوئی فکر نہیں ہے، باہر بیٹھ کر فوج اور عدلیہ کو نشانہ بنارہے ہیں تاکہ دباؤ بڑھا کر کسی نہ کسی طرح بیٹھ کر مشرف کی طرح این آر او مل جائے۔

'عاصم باجوہ سے متعلق کسی نے مزید سوال کیا تو تفتیش کریں گے'

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دینے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘دو سال سے پہلے نیب کے ہوتے ہوئے کرپشن بڑھتی گئی اگر ہم نے ملک میں کمزور اور طاقت ور کے لیے قانون میں فرق کیا تو ہمارا ملک کبھی بھی آگے نہیں بڑھے گا، اگر کوئی مزید سوال کرتا ہے تو ہم ان سے تفتیش کریں گے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میری نظر میں ہم اپنے اور دوسروں کے چوروں اور کرپٹ لوگوں میں فرق کرتے ہیں تو احتساب ختم ہوجاتا ہے، اگر جنرل (ر) عاصم باجوہ کے حوالے سے کسی نے سوال کیا تو تفتیش کریں گے اور ضرورت پڑی تو ایف آئی اے کے حوالے کریں گے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں گھر کے خرچ خود اٹھاتا ہوں اور گھر کے اندر سیکیورٹی باڑ تحریک انصاف نے اپنے پیسوں سے لگوائی اور اس کے لیے ٹیکس کا پیسہ خرچ نہیں کیا، مجھے کوئی تحفہ ملا تھا وہ توشہ خانے میں جمع کرکے جو پیسے بچے اس سے سڑک بنوائی۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کی جانب سے کیے گئے استعفے کے مطالبے پر ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم استعفیٰ دے گا تو ان کی چوری بچ جائے گی اور باقیوں سے یہ ڈیل کریں گے جو نہیں ہوگا، ان کے پاس پرامن احتجاج کا حق ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اپوزیشن جتنا احتجاج کرنا چاہتی ہیں کرے، جس وقت انہوں نے قانون توڑا میں ایک، ایک کو جیلوں میں ڈالوں گا، ان کے کہنے پر استعفیٰ دینے کا مطلب چوروں کی بلیک میلنگ پر استعفیٰ دینا ہے جس کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ مجھے پاکستان کے ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں نے منتخب کیا’۔

'اپوزیشن احتجاج کرے، اگر قانون توڑا تو جیل بھیج دوں گا'

عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘اگر انہوں نے استعفیٰ دیا تو ہم پھر سے الیکشن کرائیں گے، اگر یہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ کریں اور یقین دلاتا ہوں کہ یہ جو کرنا چاہیں میں اس کے لیے تیار ہوں’۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘سینیٹ انتخابات میں ہمیں قانون سازی میں آسانی ہوگی کیونکہ جو اصلاحات کرنا چاہتے ہیں وہ سینیٹ میں جا کر پھنس جاتی ہیں کیونکہ وہاں ان کی اکثریت ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘میڈیا نے ہمارے پہلے دو سال میں بہت زیادہ تنقید کی جو کسی حکومت کے ساتھ نہیں ہوئی، فیک نیوز سے ہمیں نقصان پہنچایا، کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا رہا اور کئی میڈیا ہاؤسز کا کردار اچھا نہیں رہا اور انہوں نے مجرموں کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور جو لوگ ملک کو نقصان پہنچا رہے تھے ان کو سپورٹ کیا’۔

صحافیوں کے اغوا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ‘مطیع اللہ جان کے معاملے پر ہماری حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، اس سے ہمیں کیا فائدہ ملا اور وہ ہمیں کیا نقصان پہنچا رہے تھے کہ ہم اغوا کرتے یا کسی اور کو اغوا کریں’۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف مقدمے پر وزیراعظم نے کہا کہ ‘ایسٹ ریکورٹی یونٹ میں ایک چیز آئی ہم نے عدلیہ کو بھیج دی، یا تو کہیں اس ملک میں کوئی مقدس گائے ہے ایسا ہوا تو احتساب نہیں ہوگا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ایسٹ ریکوری یونٹ میں چیزیں آئیں تو شہباز شریف کے خلاف کیسز بنے، اسی طرح یہاں بھی بات آئی لیکن ہم نے کچھ نہیں کیا، عدلیہ کو بھیج دیا کہ آپ فیصلہ کریں’۔

'کوئی وجہ نہیں ہے کہ نواز شریف کو واپس نہ بلاسکیں'

نواز شریف کی واپسی کے لیے حکومتی منصوبے پر ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے فوری منصوبہ بنایا ہے، برطانیہ کی حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ انہیں واپس بھیج دو، ایک جھوٹ بول کر مجرم باہر گیا، کسی مجرم کو ایسی چھوٹ نہیں دی جاتی لیکن ہم نے انسانی بنیادوں پر باہر جانے کی اجازت دی’۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے باہر جا کر ‘سیاست شروع کی بلکہ سیاست شروع نہیں کی، ہمیں پتہ ہے کہ باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہا ہے، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘کوئی وجہ نہیں ہے وہ ان کو واپس نہ بھیجیں، ایک مجرم خاص وجہ سے گیا تھا’۔