خاموش نہیں رہوں گا، کوئی چپ بھی نہ کرائے، نواز شریف

اپ ڈیٹ 01 اکتوبر 2020

ای میل

مسلم لیگ کے صدر میاں محمد نواز شریف پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ
مسلم لیگ کے صدر میاں محمد نواز شریف پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے خطاب کر رہے ہیں — فوٹو: اسکرین شاٹ

مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے حکومت کی کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کی وجہ سے اب خاموش نہیں رہوں گا اور کوئی چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کرے کیونکہ میں چپ نہیں رہوں گا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم محنت اور خدمت کر کے پاکستان کا نقشہ بدل رہے تھے لیکن آج ملک کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں چاروں اطراف نظر ڈالتا ہوں تو دل بہت غمگین ہوتا ہے، دکھ اور تکلیف محسوس کرتا ہوں، ہم کہاں جا رہے تھے، آج کہاں ہیں اور کہاں جا رہے ہیں، میں زمین و آسمان کا فرق دیکھتا ہوں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم، برطانیہ سے نواز شریف کی جلد از جلد وطن واپسی کے خواہاں

انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آناً فاناً ایسا کیونکر ہو گیا، لوگ 2018 تک کتنے خوشحال تھے، ہماری حکومت 2013 سے 2018 تک رہی اور آپ سب کے تعاون سے، میں 2017 تک وزیر اعظم رہا اور میں نے اور میری ٹیم نے بھرپور طریقے سے کام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اس وقت ناکردہ گناہوں کی سزا پر جیل میں ہیں، محنت اور خدمت کر کے پاکستان کا نقشہ بدل رہے تھے، یہ محض ہوا میں باتیں نہیں بلکہ آپ نے خود ہمارے کام کے ثمرات دیکھے۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان 4 برس میں اللہ کا کرم رہا جس نے ہم سے اتنے منصوبے مکمل کرائے کہ بجلی بھی آ گئی، دہشت گردی بھی ختم ہو گئی، معیشت بھی آسمان کی طرف جانا شروع ہو گئی، غربت کا خاتمہ بھی شروع ہو گیا، گیس بھی آگئی، لوگوں کو روزگار بھی ملنا شروع ہو گیا، تب پاکستان جی20 میں شامل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں ٹائیگر بن چکے تھے اور پوری دنیا پاکستان کی ترقی تسلیم کر رہی تھی اور قوم نے بھی دیکھا۔

نواز شریف نے مزید کہا کہ ہمارے تین منصوبوں راولپنڈی، ملتان اور لاہور کے منصوبوں کو ملا لیں لیکن ان 3 منصوبوں کے اخراجات پشاور کی بی آر ٹی پر آنے والے اخراجات کے برابر ہیں لیکن اب بی آر ٹی میں بھی آئے دن آگ لگ جاتی اور کبھی چھت ٹوٹ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری شرح نمو 5.8 فیصد تھی اور آج منفی میں ہے، سنا ہے یہ منفی 1.4 فیصد تک جائے گی، زمین آسمان کا فرق ہے، ہمارے زمانے میں ایک ڈالر 100 پاکستانی روپے کے لگ بھگ تھا، ہماری مجبوریاں بھی تھیں لیکن اس کے باوجود ہم نے 4 سال روپے کی قدر کو برقرار رکھا، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں کو بھی 5 سال تک بڑھنے نہیں دیا، جب ہم آئے تھے تو فی کلو چینی 50 روپے میں ملتی تھی، ہم 50 پر ہی چھوڑ کر گئے لیکن موجودہ سلیکٹڈ وزیر اعظم سے پوچھیں کہ گزشتہ 2 برس میں اس نے چینی 50 سے 100 روپے کیوں کردی؟

مزید پڑھیں: نواز شریف کو ملک میں واپس لانے کی کوششیں تیز کردیں، وزیر اطلاعات

ان کا کہنا تھا کہ غریبوں کے چولہے بند ہو گئے، وہ آٹا نہیں خرید سکتے، گھروں میں فاقہ کشی ہو رہی ہے، ان کے بچے اسکول جانے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ روٹی کھائیں گے یا اسکول جائیں گے، بجلی گیس کے بل ادا کریں گے جو ان پر بم بن کر گرتے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ یہ ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں لیکن کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے، اتنے بڑے بڑے دعوے کیے اور حال یہ ہے کہ پاکستان میں آج لوگ سکون سے سو نہیں سکتے، جو ملک میں امن و امان کا حال ہے کہ آج پھر پاکستان کی ایک بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا، چند دن قبل موٹر وے پر کیا ہوا اور پھر یہ مجرم آزادانہ گھومتے ہیں، کیا ان مجرموں کی مجال تھی کہ یہ ہمارے دور میں سر بھی اٹھاتے۔

قائد مسلم لیگ (ن) نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ہمارا مقابلہ عمران خان کے ساتھ نہیں ہے یہ تو سلیکٹڈ وزیراعظم ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں ایک ڈالر کی قدر 100 روپے کے برابر تھی لیکن آج روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد تنخواہ دار طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جو یہ سوغات لے کر آئے ہیں، وہ ہمیں بتائیں کیوں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

نواز شریف نے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ جیتے ہوئے تھے، بہت ساری نشستوں پر آپ کامیاب ہوچکے تھے لیکن انہوں نے ہماری نشستیں ان کو دے دیں۔

انہوں نے کہا کہ 30 ہزار روپے ماہانہ کمانے والا طبقہ مہنگائی کی وجہ سے ضروریات زندگی سے بھی محروم ہے اور مہینے کے آخر تک وہ ادھار لینے پر مجبور ہوتا ہے.

مزیدپڑھیں: نواز شریف کو وطن واپس لانا آسان کام نہیں، شیخ رشید

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور سوال اٹھایا کہ 'کہاں گئی تمہاری کشمیر پر سفارت کاری؟'

نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ جو لوگ عمران خان کو لے کر آئے ہیں وہ ہی جواب دیں گے یہ ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہماری آنکھوں کے سامنے ہماری حکومت گرائی گئی اور نئے مہرے لائے گئے تاکہ سینیٹ کے انتخاب کو سبوتاژ کیا جا سکے، اس وقت کوئٹہ میں کور کمانڈر عاصم سلیم باجوہ تھے۔

نواز شریف نے کہا کہ سینیٹ انتخاب کو سبوتاژ کرنا چھوٹا جرم نہیں ہے، ایسے گمنام شخص کو سینیٹ کا چیئرمین بنا دیا جسے کوئی جانتا نہیں تھا۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ ’ہم کوئی بھیڑ بکریاں یا گائیں بھیسیں ہیں جو سب کچھ یوں ہی برداشت کرتے جائیں، ہم اندھے بہرے گونگے نہیں بلکہ باضمیر لوگ ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں آپ لوگوں نے عمران خان اور طاہر القادری کو لندن اور کینیڈا سے بلا کر گٹھ جوڑ بنایا اور انہوں نے دھرنا دیا۔

نواز شریف نے کہا کہ ’میں نے افواج پاکستان کی بہت خدمت کی ہے، اگر اللہ نے دوبارہ موقع دیا تو میرے سینے میں یہ جذبہ موجود ہے، میں خدمت کرتا رہوں اور ہماری پارٹی بھی اس جذبے سے سرشار ہے۔

مزیدپڑھیں: نواز شریف کی زندگی اور صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، مسلم لیگ(ن)

قائد مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ میں بلوچستان میں شہید ہونے والے نوجوان کیپٹن ناصر کو خراج تحسین اور ان کی والدہ کو سلام پیش کرتا ہوں لیکن میں اس فوجی کو سلام پیش نہیں کرتا جو وزیراعظم ہاوس کی دیواروں کو پھیلانگ کر داخل ہوتی ہے اور اپنے ملک کے وزیراعظم کو گرفتار کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس کو بھی سلام پیش نہیں کرتا جو ملکی دولت لوٹ کر امریکا میں جائیداد بنائے اور عوام کا مینڈیٹ چوری کرے، میں ایسا کبھی نہیں کروں گا۔