سندھ بھر میں موسم سرما کے دوران سی این جی اسٹیشنز کی بندش متوقع

اپ ڈیٹ 03 اکتوبر 2020

ای میل

مالکان کو ایل این جی کا آپشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی
مالکان کو ایل این جی کا آپشن استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے—فائل فوٹو: اے پی پی

کراچی: سندھ بھر میں پورے موسم سرما کے دوران سی این جی اسٹیشنز بند رہنے کا امکان ہے کیونکہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے واضح کیا ہے کہ وہ صوبے میں گیس کی سنگین کمی کی وجہ سے ایندھن کی فراہمی کے قابل نہیں ہوگی، ساتھ ہی کمپنی نے مالکان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے آپشن کا مشورہ دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس ایس جی سی کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ کمپنی اس حقیقت کے باوجود کے سردیوں کا ابھی آغاز نہیں ہوا کمپنی پہلے ہی مختلف فیلڈز سے فراہمی میں کمی کا سامنا کر رہی ہے اور سیزن کے آئندہ 4 ماہ کے دوران سی این جی اسٹیشنز کے لیے فراہمی کو برقرار رکھنا 'ناممکن کے برابر' ہوگا۔

ترجمان ایس ایس جی سی صفدر حسین کا کہنا تھا کہ 'ہم نے سردیوں کے دوران فراہمی کی معطلی سے متعلق ابھی کوئی اعلان نہیں کیا لیکن یہ سچ ہے کہ یہاں لوڈ منیجمنٹ پلان ہے جس کے تحت سی این جی اسٹیشنز سب سے آخری ترجیج ہیں'۔

مزید پڑھیں: سندھ میں موسم سرما کے دوران گیس کی شدید قلت کا امکان

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'کمپنی کی اصل توجہ گھریلو صارفین کے لیے فراہمی ہے جو ہر سال قلت کا سامنا کرتے ہیں جبکہ بلوچستان کے سرد اور برفیلے علاقوں میں صورتحال مزید خراب ہوجاتی ہے، ان علاقوں میں گیس کی فراہمی ایک طرح کی لائف لائن ہے، لہٰذا ہم سی این جی اسٹیشنز سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اپنے کاروبار کو ایل این جی پر چلائیں اور اس سلسلے میں ہم انہیں ہر ممکن مدد فراہم کریں گے'۔

انہوں نے گیس کے مختلف فیلڈز سے کم فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے درجہ حرارت کم ہوگا اس میں مزید کمی آسکتی ہے، انہوں نے کوئٹہ، سجاول، دادو، زرغن، قادرپور اور دیگر کا ذکر کیا جو کم فراہمی کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے کمپنی کو لوڈ منیجمنٹ پلان بنانا پڑا۔

ایس ایس جی سی کا یہ پلان وفاقی حکومت کی جانب سے دیے گئے اس اشارے کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ آنے والی سردیوں میں پنجاب کے مقابلے میں سندھ کو زیادہ گیس کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ساتھ ہی حکومت سندھ کو صنعتوں کی ممکنہ بندش اور لوگوں خاص طر پر کراچی میں لوگوں کی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ سال سندھ کو گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا، وزیر توانائی

وزیرتوانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا تھا کہ گیس کے شعبے میں گردشی قرضے بڑھ کر 250 ارب روپے تک پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کے لیے ایس ایس جی سی کے نیٹ ورک میں گیس کی کمی 400 ملین کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) تک پہنچ گئی، جسے 250 ایم ایم سی ایف ڈی تک برقرار رکھا جاسکتا ہے اگر سندھ اضافی گیس پائپ لائن کے لیے رائٹ آف وے (آر اے ڈبلیو) جاری کردے۔