شادی ہالز، ریسٹورنٹس وائرس کا گڑھ بن رہے ہیں، اسد عمر

اپ ڈیٹ 06 اکتوبر 2020

ای میل

اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام نے صحت پروٹوکولز کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے —تصویر: اے پی پی
اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام نے صحت پروٹوکولز کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے —تصویر: اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووِڈ 19 کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بن رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاہم انہوں نے صحت کے پروٹوکولز اور رہنما ہدایات پر عمل کرنے پر شعبہ تعلیم کو سراہا۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے کووِڈ 19 کے حوالے سے روزانہ ہونے والے اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ شادی ہالز اور ریسٹورنٹس وائرس کا گڑھ بن رہے ہیں اور اگر اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر عمل کیا جائے تو اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سردیوں میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ہے، وزیراعظم

دوسری جانب وزیراعظم نے بھی خبردار کیا تھا کہ کووِڈ 19 کی بیماری سردیوں میں مزید پھیل سکتی ہے۔

این سی او سی کے اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک عہدیدار نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آئندہ چند ہفتے اہم ہیں اور اگر انفیکشنز میں مزید اضافہ ہوا تو شادی ہالز اور ریسٹورنٹس دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ عوام نے صحت پروٹوکولز کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے مثلاً ماسک پہننا، سماجی فاصلہ برقرار رکھنا جو تشویش کی بات ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ بیماری کی روک تھام اور اس کی نگرانی کے اقدامات اہم ہیں اور ماسک پہننا کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سب سے اہم ہے۔

این سی او سی کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب تک کووِڈ 19 کے 3 لاکھ 616 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جو ایک بڑی تعداد ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں کورونا بے قابو، ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوگئی

اس کے علاوہ کووِڈ 19 کے مریضوں کے لیے مختص ایک ہزار 912 وینٹیلیٹرز میں سے 88 زیر استعمال ہیں جبکہ آزاد کشمیر اور بلوچستان میں کوئی مریض وینٹیلیٹر پر نہیں ہے۔

کووِڈ 19 کے بحران میں سماجی تحفظ

پاکستان جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کووِڈ 19 کے بحران کے دوران سماجی تحفظ کا ردِعمل سب سے زیادہ رہا۔

یہ بات انٹرنیشنل پالیسی سینٹر فار انکلوزیو گروتھ (آئی پی سی-آئی جی) کے منعقدہ گلوبل ای کانفرنس میں پیش کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آئی۔

یہ تحقیق یونیسیف، اقوامِ متحدہ اور آئی پی سی-آئی جی نے سماجی ردِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے کی تھی جس میں اس بات کی پیمائش پر توجہ مرکوز رکھی گئی تھی کہ وبا کے دوران ایشیا اور پیسیفک خطے میں موجود ممالک کس طرح سماجی تحفظ کے اقدامات کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کے شکار چند افراد متعدد کیسز کا باعث بن سکتے ہیں، تحقیق

اس تحقیق میں کہا گیا کہ ایشیا میں پاکستان نے سماجی تحفظ کے حوالے سے سب سے زیادہ رد عمل دیا۔

آئی پی سی-آئی جی کی ٹیم کی ایک محقق مرینا اینڈریڈ نے کہا کہ ’افغانستان میں بھی انسانی فلاح و بہبود کے متعدد کام ہوئے لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ ہوئے‘۔

مرینا اینڈریڈ کا کہنا تھا کہ ’دیگر ایشیائی ممالک کے مقابلے میں جنوبی ایشیائی ممالک میں سماجی تحفظ کے ردِعمل کا تناسب سب سے زیادہ رہا اور اس کی کوریج کے حوالے سے پاکستان، مشرقی تیمور، تووالو اور سری لنکا نے زیادہ سے زیادہ افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے تبدیلیاں کیں۔