وفاقی حکومت کے 9 اداروں میں پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2020

ای میل

وزارت خزانہ کی درخواست پر یہ خصوصی آڈٹ کا حکم جاری کیا گیا—تصویر: بشکریہ اے جی پی ویب سائٹ
وزارت خزانہ کی درخواست پر یہ خصوصی آڈٹ کا حکم جاری کیا گیا—تصویر: بشکریہ اے جی پی ویب سائٹ

اسلام آباد: آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر نے وفاقی حکومت کے 9 اداروں کے زیر انتظام پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ کی درخواست پر اس خصوصی آڈٹ کا حکم دیا گیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ ان اداروں کے ملازمین یا وہاں تعینات لوگوں کو پروویڈنٹ فنڈز کی تقسیم کو برقرار رکھا گیا ہے یا سمجھداری سے سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

اے جی پی کی جانب سے جاری ایک حکم میں فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت کی گئی کہ وہ ایک ماہ میں خصوصی آڈٹ مکمل کریں اور اس کی رپورٹ ہیڈ آفس میں جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں: آڈیٹر جنرل پاکستان کا وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کی بےضابطگیوں، غبن کا انکشاف

مزید یہ کہ متعلقہ حکام کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں کہ وہ سرکاری دفاتر کے پروویڈنٹ فنڈز کے خصوصی آڈٹ کے لیے آڈٹ ٹیمز تعینات کریں۔

خصوصی آڈٹ کے لیے جن دفاتر کا انتخاب کیا گیا ہے ان میں اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر)، وزارت خارجہ کے چیف اکاؤنٹنٹس آفیسر (سی اے او)، پاکستان پبلک ورکز ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)، پاکستان پوسٹ آفس ڈپارٹمنٹ، ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل (ایم اے جی)، جیولوجکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی)، سینٹرل ڈائریکٹریٹ آف نیشنل سیونگز (سی ڈی این ایس)، پاکستان منٹ اور پاکستان ریلویز شامل ہیں۔

علاوہ ازیں وزارت خزانہ کی جانب سے طے کردہ ٹرمز آف ریفرنسز کے مطابق آڈٹ منیجمنٹ اور ریکارڈ کی جانچ کرے گا جس میں ادارے کے وسائل کی منصوبہ بندی، حساب کتاب اور قواعد و ضوابط اور طریقہ کار کے تحت پروویڈنٹ فنڈ کی ادائیگی کی تقسیم شامل ہے۔

خیال رہے کہ جون 2020 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مختلف وزارتوں میں عوامی فنڈز میں 12 ارب روپے سے زائد کے غبن اور غلط استعمال کا انکشاف کیا تھا جبکہ سرکاری فنڈز میں 258 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔

اے جی پی کی مالی سال 19-2018 کی رپورٹ، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے پہلے سال سے متعلق تھی اور اس میں ذمہ داران کے خلاف تحقیقاتی ایجنسیوں کو حوالہ جات سمیت سخت کارروائی کی تجویز دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: آڈیٹر جنرل پاکستان کی اپنے دفتر کے آڈٹ پر وزارت خزانہ سے چپقلش

رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈٹ ٹیموں کو متعدد اداروں اور اکاؤنٹس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غبن اور فرضی ادائیگیوں کے 56 کیسز کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق 98 اور 17 ارب 97 کروڑ روپے کا ریکارڈ پیش نہ ہونے سے متعلق 37 کیسز ہیں، اسی طرح آڈٹ میں کمزور مالیاتی انتظام سے متعلق 152 ارب 21 کروڑ روپے کے 35 کیسز کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔