بلوچستان: قلعہ عبداللہ میں 8 سالہ بچے کی ریپ کے بعد درخت سے لٹکی ہوئی لاش برآمد

اپ ڈیٹ 09 اکتوبر 2020

ای میل

بچے کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش ملی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
بچے کی درخت سے لٹکی ہوئی لاش ملی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک

صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں ایک 8 سالہ بچے کی درخت سے لٹکی لاش ملی جسے مبینہ طور پر ریپ کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

قلعہ عبداللہ کے اسسٹنٹ کمشنر جہانزیب شیخ کے مطابق 2 روز قبل نامعلوم افراد نے ضلع کے نواحی علاقے کالی داویان میں 8 سالہ انعام اللہ کو ریپ کا نشانہ بنایا اور گلا دبا دیا گیا۔

بچے کی تلاش 2 روز قبل (بدھ) کو اس وقت شروع کی گئی تھی جب وہ وقتی طور پر مدرسے سے نکلا تھا لیکن واپس نہ مدرسے آیا نہ ہی گھر گیا۔

مزید پڑھیں: چارسدہ میں ڈھائی سالہ زینب کا مبینہ ریپ کے بعد قتل

انہوں نے بتایا کہ بعدازاں بچے کی درخت پر لٹکی لاش ملی، جس کے بعد نامعلوم افراد کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرکے ان کی گرفتاری کے لیے تلاش شروع کردی۔

اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ بچے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ 2 افراد نے اس کا جنسی استحصال کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں بچوں کے ساتھ ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور گزشتہ روز بھی خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ڈھائی سالہ بچی زینب کی لاش ملی تھی جسے ریپ کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

جمعرات کو چارسدہ پولیس کا کہنا تھا کہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے سے قبل تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

اس واقعے کے بعد زینب کے لیے انصاف اور ایک اور زینب کے ہیش ٹیگ ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہے تھے جبکہ شہریوں کی جانب سے ملک میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا پر ڈھائی سالہ بچی کی تصویر زیر گردش رہی تھی جس میں اس واقعے کا 2018 میں قصور میں ریپ کے بعد قتل کی گئی ننھی زینب کے کیس سے موازنہ کیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: 3 سالہ بچے کا ’بدفعلی کے بعد قتل‘، 15 سالہ ملزم گرفتار

واضح رہے کہ قصور کی زینب امین 4 جنوری 2018 کو لاپتا ہوئی تھی جس کے بعد ایک پولیس کانسٹیبل کو اس کی لاش شہباز خان روڈ پر واقع کچرہ کنڈی سے ملی تھی۔

یاد رہے کہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'ساحل' کے مطابق ان میں سے 331 بچوں کو اغوا، 160 کو ریپ، 233 سے غیر فطری تعلق قائم کیا گیا، 69 کا گینگ ریپ جبکہ 104 سے گینگ نے غیر فطری تعلق قائم کیا۔

ساحل کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 13 لڑکوں اور 12 لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا جبکہ ایک بچی کا گینگ ریپ کے بعد قتل کیا گیا۔