بھارت: مسلمان اداکار کی ٹوئٹ پر ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2020

ای میل

ویب سیریز کو رواں ماہ 23 اکتوبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ
ویب سیریز کو رواں ماہ 23 اکتوبر کو ریلیز کیا جائے گا—اسکرین شاٹ

بولی وڈ اداکار علی فضل کی پرانی ایڈٹ شدہ ٹوئٹ پر بھارت میں آنے والی کرائم تھرلر ویب سیریز ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

’مرزاپور 2‘ ایمازون پرائم کی بھارت کی تیسری اویجنل ویب سیریز ہے، جسے رواں ماہ 23 اکتوبر کو ریلیز کیا جائے گا۔

مذکورہ ویب سیریز کا ٹریلر چند دن قبل 6 اکتوبر کو ریلیز کیا گیا تھا اور ویب سیریز کے ٹریلر کے سامنے آتے ہی بھارت کی سوشل میڈیا پر ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم شروع ہوگئی۔

بھارتی ویب سائٹ دی کوئنٹ کے مطابق ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم کی اصل وجہ ویب سیریز کے مرکزی اداکار علی فضل کی پرانی ایڈٹ شدہ ایک ٹوئٹ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ علی فضل کی ایک پرانی ٹوئٹ کو ایڈٹ کرکے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا اور اسی ٹوئٹ کو بہانا بنا کر ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔

علی فضل کی جانب سے کی گئی حقیقی ٹوئٹ کا عکس—اسکرین شاٹ
علی فضل کی جانب سے کی گئی حقیقی ٹوئٹ کا عکس—اسکرین شاٹ

علی فضل کی جس ٹوئٹ کو بہانا بنا کر ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی، وہ دراصل اداکار کی جعلی ٹوئٹ تھی۔

علی فضل نے رواں برس اگست میں ’مرزاپور 2‘ کی جھلک شیئر کرتے ہوئے اسی ویب سیریز کا ایک ڈائیلاگ ’شروع مجبوری میں کیے تھے، اب آئے گا مزہ‘ لکھا تھا، جسے ایڈٹ کرکے اداکار کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

اداکار کی مذکورہ ٹوئٹ کو ایڈٹ کرکے رواں برس کے آغاز میں دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت کے معاملے پر ہونے والے احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات میں ہلاک ہونے والے پولیس افسر کے ہاتھ کی تصویر لگائی گئی۔

ٹوئٹ کے اداکار کی جانب سے لکھے گئے ویب سیریز کے ڈائیلاگ کے نیچے مظاہرین کے تشدد سے ہلاک ہونے والے پولیس افسر کی لاش کے ہاتھ کی تصویر شامل کرکے اسے انٹرنیٹ پر پھیلا کر ’مرزاپور 2‘ کے بائیکاٹ کی مہم چلائی گئی۔

مبینہ طور پر ایڈٹ کی گئی اداکار کی ٹوئٹ کا عکس—اسکرین شاٹ
مبینہ طور پر ایڈٹ کی گئی اداکار کی ٹوئٹ کا عکس—اسکرین شاٹ

مہم چلانے والے افراد نے مسلمان اداکار کو بھارت مخالف اداکار قرار دیا اور لوگوں سے اپیل کی کہ زہریلی زبان استعمال کرنے والے بھارت مخالف اداکار کی ویب سیریز ’مرزاپور 2‘ کا بائیکاٹ کیا جائے۔

اسی حوالے سے ٹائمز نائو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ علی فضل نے مذکورہ ٹوئٹ کو بہانا بنا کر ویب سیریز کا بائیکاٹ کرنے کی مہم پر تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ اب کسی بھی ویب سیریز یا فلم کو دیکھنے یا نہ دیکھنے کا فیصلہ ٹوئٹر پر بننے والے ٹرینڈ دیکھ کر کیا جائے گا؟

علی فضل کا کہنا تھا کہ بھارت میں کئی بڑے مسائل ہو رہے ہیں، جن میں کسانوں کی جانب سے ملک بھر میں کیے جانے والے مظاہرے بھی شامل ہیں، مگر اس معاملے پر انہوں نے کبھی ٹوئٹر پر ٹرینڈ بنتے نہیں دیکھا؟

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں کورونا نے بھارت کو تباہ کرکے رکھا ہے مگر اب کورونا پر بھی ٹرینڈ نہیں بن رہے؟ تو انہیں یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ان کی ویب سیریز کے خلاف کیوں ٹرینڈ بنا؟

دوسری جانب ’مرزاپور 2‘ کے دوسرے اداکاروں نے بھی ویب سیریز کے بائیکاٹ کی مہم پر تعجب کا اظہار کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ویب سیریز کو کہانی کی وجہ سے پسند کیا جا رہا ہے اور لوگ بائیکاٹ کی مہم چلانے والے افراد کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔

زی نیوز کے مطابق ’مرزاپور 2‘ کے اہم اداکار دیویندو شرما نے بھی ویب سیریز کے بائیکاٹ کی مہم کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ویب سیریز کی کہانی پہلے سیزن کی طرح شاندار ہے، جسے دیکھ کر شائقین محظوظ ہوں گے۔

خیال رہے کہ ’مرزاپور 2‘ اسی نام سے 2018 میں ریلیز ہونے والی ویب سیریز کا دوسرا سیزن ہے، مذکورہ ویب سیریز میں ریاست اترپردیش اور بہار کے درمیان موجود علاقے پورو وانچل کے خطے میں ہونے والے جرائم اور تشدد پر مبنی سیاست کو دکھایا گیا ہے۔

A photo posted by Instagram (@instagram) on

ویب سیریز کی کہانی فکشنل ہے تاہم سیریز میں جس علاقے کو دکھایا گیا ہے، وہ بھارت میں کئی سال سے تشدد کا مرکز رہا ہے اور وہاں الگ ریاست کے مطالبے اٹھتے رہے ہیں۔

پرو وانچل علاقہ متعدد اضلاع پر مبنی ہے اور اسی علاقے کے لوگ مزید کچھ اضلاع کو ملاکر نئی ریاست کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں اور مذکورہ علاقے کو بھوجپوری زبان بولنے والوں کا سب سے بڑا علاقہ بھی مانا جاتاہے۔

اسی علاقے سے لوک سبھا کے 30 اراکین جب کہ ریاست اترپردیش کی اسیمبلی کے 170 کے قریب ارکان منتخب ہوتے ہیں۔