’جھوٹا‘ الزام لگانے والی ایک اور خاتون کی علی ظفر سے معافی

11 اکتوبر 2020

ای میل

اس سے قبل بھی ایک خاتون علی ظفر سے جھوٹا الزام لگانے پر معافی مانگ چکی ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام
اس سے قبل بھی ایک خاتون علی ظفر سے جھوٹا الزام لگانے پر معافی مانگ چکی ہیں—فائل فوٹو: انسٹاگرام

علی ظفر پر نامناسب انداز میں جسم کو چھونے کا الزام لگانے والی ایک اور خاتون نے بھی گلوکار سے معافی مانگ لی۔

حمنہ رضا نامی خاتون نے علی ظفر سے اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے معافی مانگتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے غلط فہمی کی بنیاد پر گلوکار پر الزام لگایا۔

حمنہ رضا نے اپنی ٹوئٹ میں ہاتھ سے لکھے گئے معافی نامے اور کمپوز کیے گئے معافی نامی کی تصویر بھی شیئر کی اور معافی نامہ جاری کرتے ہوئے انہوں نے علی ظفر کو بھی ٹیگ کیا۔

خاتون کی جانب سے معافی مانگے جانے کی ٹوئٹ کو علی ظفر نے بھی ری ٹوئٹ کیا اور عوام کے سامنے معذرت کرنے پر خاتون کی بہادری کی تعریف بھی کی۔

علی ظفر نے خاتون کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ عام طور پر عوام کے سامنے معافی مانگے جانے کو عام طور پر کمزوری سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہی خوبی انسان کو خوبصورت بناتی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی عوام کے سامنے معافی مانگ رہا ہے۔

حمنہ رضا نے اپنے معافی نامے میں اعتراف کیا کہ انہوں نے علی ظفر کے خلاف 2018 میں گلوکارہ میشا شفیع کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد غلط فہمی کی بنیاد پر الزامات لگائے۔

خاتون کے مطابق انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ علی ظفر نے سیلفی لینے کے دوران انہیں نامناسب انداز میں چھوا، لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہوا تھا، انہوں نے اپنی غلط فہمی کی بنیاد پر گلوکار پر الزام لگایا۔

یہ بھی پڑھیں: میشا شفیع کے بعد حمنہ رضا کے بھی علی ظفر پر الزامات

حمنہ رضا نے اپنے معافی نامے میں لکھا کہ ان کی جانب سے لگائے گئے الزام کی وجہ سے علی ظفر اور ان کے اہل خانہ کو تکلیف اور بدنامی برداشت کرنی پڑی، جس کا انہیں احساس اور وہ اپنی غلطی پر گلوکار اور اس کے اہل خانہ سے دل سے معافی کی طلب گار ہیں۔

حمنہ رضا نے ایک ایسے موقع پر علی ظفر سے معافی مانگی ہے جب کہ کچھ دن قبل ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے حمنہ رضا، عفت عمر اور میشا شفیع سمیت 9 خواتین کے خلاف علی ظفر کو بدنام کرنے کے تحت مقدمہ دائر کیا تھا۔

ایف آئی اے نے گزشتہ ماہ 29 ستمبر کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن (1) 20 اور پاکستان پینل کوڈ کے آر/ڈبلیو 109 کے تحت میشا شفیع، اداکارہ و میزبان عفت عمر، لینیٰ غنی، فریحہ ایوب، ماہم جاوید، علی گل، حزیم الزمان خان، حمنہ رضا اور سید فیضان رضا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

ان تمام شخصیات پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک منصوبے کے تحت علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر الزامات لگائے۔

مزید پڑھیں: علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا 'جھوٹا' الزام لگانے والی خاتون کی معذرت

مذکورہ کیس دائر ہونے کے بعد عفت عمر سمیت دیگر کچھ افراد نے قبل از گرفتاری ضمانت بھی کروالی ہے جب کہ حمنہ رضا نے علی ظفر سے معافی مانگ لی۔

اس سے قبل ستمبر 2019 میں بھی صوفی نامی خاتون نے علی ظفر سے جھوٹے الزامات لگائے جانے پر معافی مانگی تھی۔

صوفی اور حمنہ رضا نے ستمبر 2018 میں علی ظفر پر نامناسب انداز میں جسم کو چھونے جیسے الزامات لگائے تھے۔

دونوں خواتین نے علی ظفر پر اس وقت الزامات لگائے تھے جب کہ اپریل 2018 میں میشا شفیع نے اپنی ٹوئٹس کے ذریعے گلوکار پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے، جنہیں علی ظفر نے مسترد کرتے ہوئے جھوٹا قرار دیا تھا۔

بعد ازاں میشا شفیع نے علی ظفر کے خلاف محتسب اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب کو جنسی ہراسانی کی درخواست بھی دی تھی، جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

میشا شفیع کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد علی ظفر نے گلوکارہ پر جھوٹا الزام لگانے کے تحت 100 ارب روپے کے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا تھا، جس کی تاحال سماعتیں جاری ہیں اور 2 سال گزر جانے کے باوجود کیس ختم نہیں ہوا۔

مذکورہ کیس میں علی ظفر اور اس کے گواہان نے بیانات قلم بند کروادیے ہیں جب کہ میشا شفیع اور اس کی والدہ نے بھی بیانات کو قلم بند کروادیا ہے، تاہم میشا شفیع کے بعض گواہوں کے بیانات قلم بند ہونا باقی ہیں۔