امریکی صدر کورونا سے ’صحتیاب‘ ہونے کے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس میں حامیوں کے سامنے

اپ ڈیٹ 11 اکتوبر 2020

ای میل

توقع کی جارہی ہے کہ وہ 17 اکتوبر کو انتخابی مہم شروع کے لیے دوبارہ اعلان کریں گے —فوٹو: رائٹرز
توقع کی جارہی ہے کہ وہ 17 اکتوبر کو انتخابی مہم شروع کے لیے دوبارہ اعلان کریں گے —فوٹو: رائٹرز

واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 روز تک کورونا کے باعث زیر علاج رہنے کے بعد وائٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہونے والے اپنے ہزاروں حامیوں کے درمیان آگئے۔

توقع کی جارہی ہے کہ وہ 17 اکتوبر کو انتخابی مہم شروع کے لیے دوبارہ اعلان کریں گے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایک طرف تو ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ’صحیتاب‘ قرار دے دیا لیکن ان کی صحت پر شکوک و شبہات سامنے آرہے ہیں کیونکہ امریکی صدر کے ڈاکٹر عوام سے شفاف طور پر بات چیت کرنے کے بجائے اپنے ’اسٹار‘ مریض کو خوش کرنے میں زیادہ فکر مند دکھائی دے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر اور ان کی اہلیہ کورونا وائرس کا شکار

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ڈاکٹر نے کہا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اب کورونا وائرس پھیلانے کا خطرہ نہیں ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے ’اےایف پی‘ کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا امریکی صدر کا کورونا سے متعلق منفی ٹیسٹ کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ ایک میمو میں ڈاکٹر شان کونلی نے کہا کہ ’فی الحال تسلیم شدہ معیار‘ کے مطابق ٹرمپ ٹرانسمیشن کا خطرہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے

ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اس وقت مجھے ادویات کی ضرورت نہیں ہے، میں نے 8 گھنٹے کے دوران کوئی دوا نہیں لی۔

امریکی صدر نے ہسپتال میں ہی ان کیمرہ انٹرویو دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پیر کے روز فلوریڈا کی ایک انتہائی اہم ریاست میں ایک ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے کو ان کے انتخابی حریف جوبائیڈن نے ’لاپرواہی‘ قرار دے دیا اور انہیں خدشہ ہے کہ صدر کو ابھی بھی متعدی بیماری ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ٹرمپ نے اگلے ہفتے دو جلسوں کا اعلان کررکھا ہے۔

مزیدپڑھیں: جو بائیڈن نے ٹرمپ کے ساتھ انتخابی مباحثے سے انکار کردیا

گزشتہ روز ٹرمپ کے درجنوں حمایتی وائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ ٹرمپ کے آؤٹ ڈور خطاب کو سن سکیں اور توقع کی جاری تھی کہ وہ سیاہ فارم برادریوں میں قانون نافذ کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔

واضح رہے کہ امریکا میں صدارتی انتخاب کے امیدوار جو بائیڈن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتخابی مباحثے سے انکار کردیا تھا۔

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا تھا کہ 'اگر امریکی صدر کووڈ 19 کی وجہ سے بیمار رہے تو وہ اگلے ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ طے شدہ انتخابی مباحثے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

77 سالہ صدارتی امیدوار اور ٹرمپ کے سیاسی حریف نے کہا تھا کہ وہ چاہیں گے کہ صحت سے متعلق تمام ایس او پیز پر عمل کریں۔

بعدازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی حریف جو بائیڈن کے ساتھ ورچوئل انتخابی مباحثے سے بھی انکار کردیا تھا۔

امریکی صدر نے کہا تھا کہ ’میں ایک ورچوئل بحث پر اپنا وقت ضائع کرنے والا نہیں ہوں'۔

مزیدپڑھیں: جو بائیڈن کے ٹرمپ سے مباحثے میں 'انشااللہ' کہنے پر امریکا میں نئی بحث

صدارتی مباحثوں کے انچارج نان پارٹیزن کمیشن کی جانب سے نئے فارمیٹ کے اعلان کے بعد فاکس بزنس کے ساتھ فون پر انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ 'ورچوئل بحث کوئی بحث نہیں ہوتی'۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ 'آپ ایک کمپیوٹر کے پیچھے بیٹھ کر مباحثہ کرتے ہیں، یہ مضحکہ خیز ہے اور وہ جب چاہیں آپ کی لائن کاٹ دیں'۔