ہانگ کانگ کے معاملے پر پاکستان کی حمایت کو 'سراہتے' ہیں، چین

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2020

ای میل

رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کا معاملہ بیجنگ کا داخلی معاملہ ہے — فائل فوٹو:چینی وزارت خارجہ
رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کا معاملہ بیجنگ کا داخلی معاملہ ہے — فائل فوٹو:چینی وزارت خارجہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کی تیسری کمیٹی میں مباحثے کے دوران چین نے ہانگ کانگ کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونیِنگ نے پریس بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم انصاف کے حق میں بولنے پر پاکستان اور ان تمام ممالک سے اظہار تشکر کرنا چاہتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ان کی حمایت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ انصاف ہمیشہ قائم رہے گا اور ہانگ کانگ اور سنکیانگ کے معاملات کے بہانے چین پر کیچڑ اچھالنے کی کوشش کرنے والے مغربی ممالک کی ایک بڑی تعداد پھر ناکام ہوگئی'۔

رواں ہفتے کے آغاز میں پاکستان نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ کا معاملہ بیجنگ کا داخلی معاملہ ہے اور خود مختار ریاستوں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کی اہمیت پر بھی زور دیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ کے امور چین کا داخلی معاملہ ہیں، پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے منیر اکرم نے 55 ممالک کی جانب سے تقریر کرتے ہوئے یہ باتیں جرمنی کی طرف سے ایغور مسلمانوں کے حقوق کا احترام کرنے اور ہانگ کانگ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کرنے کے لیے چین پر زور دینے کے ردعمل میں کی تھیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں جرمنی کے سفیر کرسٹوف ہیوسن نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ سنکیانگ تک اقوام متحدہ کے حقوق کے مبصرین کو 'فوری، معنی خیز اور غیر منقول رسائی' کی اجازت دیں اور بیجنگ سے ہانگ کانگ کے باشندوں کے حقوق اور آزادیوں کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کیوبا نے سنکیانگ میں چین کے اقدامات کی حمایت کرنے والے 45 ممالک کی جانب سے ایک بیان کے بعد بھی کہا تھا کہ بیجنگ کے اقدامات صوبے کے تمام نسلی گروہوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کے تحت انجام دیے گئے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ تیسری کمیٹی کی عام بحث کے دوران 70 سے زائد ممالک نے چین کے متعلقہ معاہدوں پر اپنی حمایت کا اظہار کیا، اب تک 57 ممالک نے ہانگ کانگ سے متعلق امور پر مشترکہ بیان پر باہمی دستخط کیے ہیں اور 48 ممالک نے سنکیانگ پر بھی اسی طرح کا مشترکہ بیان دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان اور کیوبا نے ان ممالک کی جانب سے چین کی طرف سے ہانگ کانگ کے خصوصی خطے میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون کے نفاذ کی حمایت میں بات کی ہے جو ایک ملک، دو نظاموں کے مستحکم اور کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے، خطے کی خوشحالی اور استحکام کو برقرار رکھنے اور ہانگ کانگ کے باشندوں کے جائز حقوق اور آزادی کے استعمال کو یقینی بنانے کے حوالے سے ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک نے سنکیانگ میں دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے نمٹنے اور تمام نسلی گروہوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے اقدامات کی تعریف کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے انسانی حقوق کے معاملات کی سیاست، دوہرے معیار کے اطلاق، چین کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں اور چین کے اندرونی معاملات میں بلاجواز مداخلت کے خلاف اپنی سخت مخالفت کا اظہار کیا'۔

چونینگ کا کہنا تھا کہ بیجنگ کسی بھی فرد، ملک اور طاقت کو چین میں عدم استحکام، تقسیم اور انتشار پیدا کرنے اور انسانی حقوق کے بہانے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال جولائی میں چین نے متنازع قومی سلامتی کے قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت حکام کو ہانگ کانگ میں تخریبی اور علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی گئی ہے۔

اس قانون سازی کا مقصد تخریبی، علیحدگی پسند اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ شہر کے امور میں غیر ملکی مداخلت کو روکنا ہے۔

اس کے بعد ہانگ کانگ میں کئی مہینوں تک حکومت مخالف مظاہرے ہوئے تھے اور کئی مواقع پر پرتشدد واقعات بھی سامنے آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: چین کی پارلیمنٹ نے ہانگ کانگ نیشنل سیکیورٹی بل منظور کرلیا

بدھ کے روز اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندے نے کہا تھا کہ ہانگ کانگ 'چین کا حصہ' ہے اور ہانگ کانگ کے معاملات چین کے اندرونی معاملات ہیں جس میں 'غیر ملکی افواج کی مداخلت کی ضرورت نہیں'۔

انہوں نے ان ممالک کا نام بھی لیا جنہوں نے انہیں اپنی طرف سے بولنے کا اختیار دیا تھا اور کہا کہ انہوں نے چین کی 'ایک ملک، دو نظام' پالیسی کی حمایت کی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی ملک میں قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی کی طاقت ریاست پر منحصر ہے۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ میں قومی سلامتی کے تحفظ سے متعلق قانون کا نفاذ ایک جائز اقدام ہے جس سے 'ایک ملک، دو نظام' پالیسی مستحکم اور پائیدار ہوتی ہے اور ہانگ کانگ کو طویل مدتی خوشحالی اور استحکام حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ محفوظ ماحول میں ہانگ کانگ کے باشندوں کے جائز حقوق اور آزادیوں کا بہتر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔