کورونا کیسز میں اضافہ: ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ پابندیاں عائد کرسکتے ہیں، اسد عمر

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2020

ای میل

وفاقی وزیر اسد عمر —فائل فوٹو: اسکرین گریب
وفاقی وزیر اسد عمر —فائل فوٹو: اسکرین گریب

وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے چیئرمین اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے بڑھنے کے واضح اشارے ملے ہیں اور گزشتہ روز ملک میں 2.37 فیصد کیسز مثبت آئے جو 50 دن میں سب سے زیادہ مثبت شرح ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل کریں بصورت دیگر ہمیں پابندیاں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹوئٹس میں انہوں نے لکھا کہ گزشتہ روز ملک میں کووڈ کیسز کی مثبت شرح 2.37 فیصد تھی جو 50 دن سے زائد کے عرصے میں سب سے زیادہ مثبت شرح ہے اور آخری مرتبہ 23 اگست کو یہ شرح دیکھی گئی تھی۔

انہوں نے لکھا کہ رواں ہفتے کے ابتدائی 4 روز میں کورونا وائرس کی اوسطاً اموات یومیہ 11 رہی جو 10 اگست کے ہفتے کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: این سی او سی نے عوامی اجتماعات سے متعلق گائیڈ لائنز جاری کردیں

اسد عمر کا کہنا تھا کورونا کے بڑھنے کے واضح اشارے ہیں، مظفرآباد میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز بہت زیادہ ہیں جبکہ کراچی میں بھی یہ تعداد زیادہ ہے، اس کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں یہ بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں کہا کہ ہم سب کے لیے یہ وقت ہے کہ کورونا ایس او پیز کو سنجیدگی سے لیں، بصورت دیگر بدقسمتی سے ہمیں پابندیوں عائد کرنا پڑ سکتی ہیں جس کے لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

اگرچہ پاکستان کورونا وائرس کی پہلی لہر سے دنیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کافی بہتر طریقے سے نمٹا اور یہاں کیسز کی مجموعی تعداد میں سے 95 فیصد صحتیاب ہوگئے تاہم دوسری لہر کا خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔

ملک میں موسم کی بدلتی صورتحال کے باعث کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جاچکا ہے اور حکام کی جانب سے شہریوں پر حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا جارہا ہے جبکہ گزشتہ چند روز میں کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا سے بچاؤ کیلئے کپڑے کے ماسک کا استعمال اس احتیاط کے بغیر نہ کریں

فروری میں اس عالمی وبا کے پہلے کیس کے بعد سے اگست تک ملک میں مکمل و اسمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت کافی وقت تک تعلیمی اداروں کی بندش، عوامی اجتماعات پر پابندی، کاروباری سرگرمیوں کی معطلی سمیت دیگر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

اگست کے مہینے میں یہ پابندیاں تقریباً مکمل طور پر ختم کردی گئیں تھی جبکہ ستمبر سے تعلیمی اداروں اور شادی ہالز جہاں لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے انہیں بھی ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی گئی تھی۔

تاہم ستمبر کے وسط سے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ رپورٹ ہونا شروع ہوا جس کے بعد مختلف علاقوں میں ایک مرتبہ پھر اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جبکہ عوامی اجتماعات اور شادی ہالز میں تقریبات سے متعلق گائڈ لائنز بھی جاری کی گئی، جس کا مقصد کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔