اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ مؤخر کردیا

اپ ڈیٹ 15 اکتوبر 2020

ای میل

اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی— فوٹو: اے پی پی
اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی— فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) آئندہ گندم کی فصل کے لیے کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) میں مجوزہ 25 فیصد اضافے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں لے سکی کیونکہ یہ کابینہ میں اضافے کی مقدار کے حساب سے تقسیم ہوگئی ہے۔

ڈان اخبار کی خبر کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ و محصول ڈاکٹر حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی سمری پیش کی گئی جس نے ایم ایس پی کی گزشتہ 1400 روپے فی 40 کلو کی قیمت گندم کی آنے والی فصل کے لیے 1745 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

مزید پڑھیں: 'ملک میں گندم کا پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا'

کابینہ کے رکن نے ڈان سے گفتگو میں تسلیم کیا کہ کچھ اراکین کی رائے تھی کہ مجوزہ حد کے ساتھ ایم ایس پی کو بڑھایا گیا تو اس سے ایک ایسے وقت میں افراط زر پر خاص اثر پڑے گا جب بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے درمیان حکومت کی توجہ افراط زر سے لڑنے پر مرکوز ہے اور حزب اختلاف اس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ایک اور رائے یہ تھی کہ ایم ایس پی کے بارے میں فیصلے کے ساتھ ساتھ گزشتہ سال 40 کلو تھیلے پر 50 روپے اضافے اور ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے ہدف سے کم گندم کی پیداوار ہوئی جبکہ پڑوسی ممالک کو اس کی اسمگلنگ بھی ایک وجہ ہے۔

بھارت نے حال ہی میں گندم کی امدادی قیمت ایک ہزار 950 روپے فی کوئنٹل (100کلو) مقرر کی ہے اور اس لحاظ سے پاکستان میں 40 کلوگرام گندم کی قیمت تقریباً ایک ہزار 750 روپے بنتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہمسایہ ممالک میں اسی طرح کی قیمتوں نے مارکیٹ میں استحکام کا عنصر فراہم کیا۔

گزشتہ سال کے دوران آٹے کی قیمتوں میں اس حقیقت کے باوجود تقریباً 55 سے 60 فیصد اضافہ ہوا تھا کہ حکومت سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے ذریعے ٹیکس اور ڈیوٹی فری گندم کی درآمد کی اجازت دے رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے نجی شعبے کو گندم کی لامحدود درآمد کی اجازت دیدی

تاہم وزیر خزانہ کے مشیر برائے خزانہ مطلوبہ اعداد و شمار اور اس سے متعلقہ تخمینوں سے مطمئن نہیں تھے جو رائے قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، اس کے بعد کمیٹی نے ایک خصوصی اجلاس کے لیے اس بحث کو وقف کرتے ہوئے معاملے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بجلی کے قرضے، میڈیا واجبات

وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے 5 اگست کو شروع کی جانے والی میڈیا مہمات کے سلسلے میں اضافی فنڈز کی ادائیگی کے لیے پیش کردہ سمری پر اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وزارت اطلاعات و نشریات 2021 کے لیے مختص کردہ اپنے بجٹ میں سے فوری طور پر اس ضرورت کو پورا کرے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی مالی کمی کو سال کے اختتام پر تکنیکی اضافی گرانٹ کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔

وزارت اطلاعات نے 5 اگست کو میڈیا مہم کی لاگت کو پورا کرنے کے لیے ایک کروڑ 34 لاکھ روپے کے اضافی فنڈز طلب کیے تھے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے رواں مالی سال کے دوران متعلقہ بینکوں کو یا جب معاشی آلات کے ذریعے پیشگی ادائیگی کے لیے پاور ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (پی ایچ پی ایل) کو 72.635 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی اصولی منظوری بھی دی، یہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ وابستگی کے تحت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پہلے فیصلے کا ایک حصہ ہے جس نے 8004 ارب روپے کے بجلی کے شعبے کے قرضوں کے اسٹاک کو عوامی قرض میں منتقل کیا ہے۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا تھا کہ وہ پی ایچ پی ایل کے قرض کو اپنے بجٹ میں جذب کرے گی، پی ایچ پی ایل میں واجب الادا ذمہ داریوں حکومت پاکستان کا قرض تصور کیا جائے گا اور وہ پی ایچ پی ایل میں شامل قرضوں کی خدمت کو سنبھال لے گی۔

مزید پڑھیں: ای سی سی نے کم مقدار میں گندم درآمد کرنے کا حکم دے دیا

پی ایچ پی ایل اور قرض دینے والے اداروں کے مابین قرضوں کی ادائیگی کے نظام الاوقات کے مطابق مالی سال 20-2019 کے دوران 72 ہزار 635 ارب روپے کی جزوی طور پر ادائیگی کی ضرورت تھی اور باقی21-2020 میں قرض دہندگان کو اصل ادائیگی کے طور پر ادا کی جائے گی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) سے لیا گیا 828 ارب روپے کا قرض اور پی ایچ پی ایل کے 804 ارب روپے کے قرض میں غیر نقد یا نقد تصفیوں کے ذریعے علیحدہ طور پر غور کیا جائے گا، لہٰذا اس نے ایک کمیٹی تشکیل دی جس کے سربراہ وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات اور کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین تھے اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان، فنانس اور پاور ڈویژنوں کے نمائندے شامل تھے جنہیں بجلی کے شعبے کے واجبات کی بحالی کے لیے جامع انداز میں تجویز تیار کرنے کے لیے کہا گیا اور ہایت کی گئی کہ اس سلسلے میں سمری بنا کر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے پاس آئیں۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان انرجی سکوک-II کے حوالے سے 21 ارب روپے کی مد میں 21 مئی سے 20 نومبر کی مدت کے لیے سود / منافع کی پہلی قسط کی ادائیگی کے لیے اسٹیملس پیکیج سے 10 ارب روپے مختص کیے۔

یہ بھی پڑھیں: اربوں روپے کی گندم کی خوربرد کا معاملہ، وزیراعلیٰ سندھ نیب میں پیش

رابطہ کمیٹی نے پاکستان غربت مبتلا فنڈ کے ذریعہ سود سے پاک قرضوں کے پروگرام کے نفاذ کے لیے فنڈز مختص کرنے کی بھی منظوری دی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے مالی سال 21-2020 کے دوران پی پی اے ایف کے حق میں 46.98 ارب روپے کے فنڈز پہلے ہی دے دیے تھے جو آئی ایف ایل پروگرام کے لیے استعمال ہوں گے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ترکی کی کمپنی کارکی کارنڈنیز الیکٹرک یوریٹم کے لیے پیشگی ادائیگی سے متعلق نیشنل بینک آف پاکستان سے 7.6 ارب روپے کے قرض کی بحالی اور اس سے وابستہ اخراجات کے لیے وزارت توانائی سے درخواست بھی منظور کی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فنانس ڈویژن کو قرض کے حل کے لیے نیشنل بینک کے ساتھ مشغول کرنا چاہیے۔ فیصلہ کیا گیا کہ بورڈ میں موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اچھی طرح کی تجویز حتمی منظوری کے لیے ای سی سی کے سامنے پیش کی جائے گی۔