قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے گو نیازی گو کے نعرے، وزیراعظم اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا—فوٹو:ڈان نیوز
اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا—فوٹو:ڈان نیوز

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کیا اور نعرے بازی کی جس پر وہ فوراً واپس چلے گئے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو کراچی میں مولانا عادل خان، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی شیلنگ اور دہشت گردی میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے لیکن آغاز میں ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے سوالات کا سیشن شروع کرنے کی ہدایت کی لیکن اپوزیشن بدستور احتجاج کرتے رہے۔

مزید پڑھیں:2 سال میں سب کچھ ٹھیک نہیں کرسکتے، شبلی فراز نے مہنگائی کی ذمہ داری اپوزیشن پر ڈال دی

اپوزیشن ارکان نے حکومت مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ساتھ ہی 'چینی چوری کی سرکار نہیں چلے گی'، 'جزائر پر قبضہ نامنظور'، 'گو نیازی گو' کے نعرے لگائے اور حکومت مخالف پوسٹر لہراتے رہے۔

اپوزیشن 'گو نیازی گو' اور 'یہ بھاگا نیازی' کے نعرے لگاتے رہے جس پر وزیراعظم عمران خان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے، حکومتی اراکین کی جانب سے بھی نعرے بازی کی گئی جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 20 منٹ بعد شروع ہوا تو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نوید قمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس آج کیوں بلایا گیا جب پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا پہلا جلسہ ہونا تھا، حکومت کے اس اقدام کو ہم کیا سمجھیں کہ حکومت کی کوشش تھی اپوزیشن اسمبلی میں نہیں آئے۔

نوید قمر نے کہا کہ اپوزیشن کے بغیر پارلیمنٹ نہیں چلتی جبکہ اپوزیشن نے ایک مرتبہ پھر نعرے بازی شروع کردی۔

اس موقع پر مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل الیکشنز ترمیمی بل 2020 پیش کیا، جس کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا گیا۔

وزیراعظم کی زیرصدارت پارلیمانی پارٹی اجلاس، اراکین کی شدید تنقید

وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بے روزگار ہے اس لیے اہمیت دینے کی ضرورت نہیں، میں چاہتا ہوں یہ روز جلسہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن عوام کے سامنے ہر روز بے نقاب ہورہی ہے اور ان کے جلسوں اور تحریک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: پی ڈی ایم گوجرانوالہ میں اپنا پہلا پاور شو دکھانے کیلئے تیار

پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں اراکین نے مہنگائی پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے اس پر قابو پائیں، جس پر وزیراعطم نے یقین دہائی کروائی کہ مہنگائی پر جلد قابو پا لیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج جو بھی مسائل ہیں اس کی ذمہ دار ماضی کے حکمران ہیں اور ابھی احتجاج کررہے ہیں، اپوزیشن کو عوام کا کوئی خیال نہیں ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل نے حکومتی اقدامات پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ٹیم کارکردگی نہیں دکھا رہی ہے۔

ان کا کہنا کہ گیس اور بجلی کی مہنگائی پر عوامی سطح پر سخت تشویش پائی جاتی ہے، عوام بجلی اور گیس کے بل نہیں دے پا رہے ہیں۔

اس موقع پر دیگر کئی اراکین نے بھی ثنا اللہ مستی خیل کے خیالات سے اتفاق کیا تاہم وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو درپیش تمام مسائل کا ادراک ہے اور مہنگائی سمیت عوامی مسائل پر جلد قابو پا لیں گے۔

سینٹر فیصل جاوید خان نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں اجلاس کے حوالے سے کہا کہ عمران خان نے ہدایت کی کہ تمام تر توجہ صرف کام پر ہی لگائیں، اپوزیشن کی جلسوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف اپنی کرپشن اور چوری بچانے کے لیے نکلے ہیں جبکہ عمران خان کی اولین ترجیح غریبوں کے حالات بہتر کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کے گجرانوالہ میں احتجاجی جلسے کے باوجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا جبکہ اپوزیشن نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیے تاہم نوٹی فکیشن جاری ہونے کے فورا بعد ہی پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کے اس اقدام کو اپوزیشن رہنماؤں کی گوجرانوالہ میں ریلی میں شرکت سے روکنے کی کوشش قرار دیا۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس آج اچانک طلب کیا گیا تاکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو گوجرانوالہ جلسے میں شرکت سے روکا جاسکے، پوسٹرز ہٹائے جارہے ہیں، جھنڈے اتارے گئے ہیں، ہر جگہ کنٹینر لگا دیئے گئے، پی پی پی اور پی ڈی ایم کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، کیا تباہی سرکار کو معلوم نہیں کہ یہ طریقہ کام نہیں کرے گا‘۔