وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر کے مستعفی ہونے پر 'تنازع'

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

خرم سہیل لغاری کے علی جہانگیر ترین سے کافی قریبی تعلقات ہیں—
فائل فوٹو: پنجاب اسمبلی ویب سائٹ
خرم سہیل لغاری کے علی جہانگیر ترین سے کافی قریبی تعلقات ہیں— فائل فوٹو: پنجاب اسمبلی ویب سائٹ

مظفر گڑھ: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی خرم سہیل لغاری نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ بیوروکریسی کے مبینہ عدم تعاون پر وزیر اعلیٰ کے مشیر اور پرائس کنٹرول کمیٹی کی رکنیت سے مستعفی ہوچکے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے ان سے مستعفی ہونے کا کہا کیونکہ وہ ہمیشہ (مبینہ طور پر) پارٹی ڈیکورم کی خلاف ورزی کرتے تھے اور جہانگیر ترین کے پارٹی سے راستے جدا کے بعد بھی ان سے ملاقاتیں کررہے تھے۔

مزید پڑھیں: 'صوبائی حکومت کے منصوبوں میں وفاق ساتھ دے تو کراچی میں انقلاب لاسکتے ہیں'

خرم سہیل لغاری کا مستعفی ہونے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ان کے حلقے میں زمینیں اور مکانات دریائے سندھ کے کٹاؤ کی وجہ سے متاثر ہوئے تو کال کرنے پر متعلقہ افسران نے ان کی کال ہی نہیں اٹھائی اور بعد میں فنڈز بھی نہیں دیے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ خرم سہیل لغاری نے اجلاسوں کے دوران انتظامی عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس سے ایک روز میں 2 اراکین صوبائی اسمبلی انتقال کرگئے

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں 3 دن قبل ڈپٹی کمشنر آفس میں ہونے والے پرائس کنٹرول کمیٹی کے اجلاس میں بھی نہیں بلاگیا تھا۔

واضح رہے کہ خرم سہیل لغاری سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار اللہ وسایا چنو کے بیٹے ہیں اور وہ 2018 کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے تھے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی، وفاق اور پنجاب میں اپنی ہی حکومت پر برس پڑے

ذرائع نے مزید بتایا کہ وہ علی جہانگیر ترین کے قریبی سمجھے جاتے ہیں اور وہ (مبینہ طور پر) ان کے ہمراہ 3 مرتبہ ملتان سلطان کرکٹ ٹیم کے ہمراہ دبئی جاچکے ہیں۔

خرم سہیل لغاری کا مزید کہنا تھا کہ وہ بیورو کریسی کے رویہ سے مایوس تھے۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان کا یہ مؤقف تھا کہ وہ اگر ان کے پارٹی قیادت سے اختلافات تھے تو انہیں رکن صوبائی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا چاہیے۔