بھارت میں 7 ماہ بعد سینما کھل گئے مگر فلموں کی قلت

اپ ڈیٹ 16 اکتوبر 2020

ای میل

بھارت میں مارچ میں سینما بند کردیے گئے تھے—فائل فوٹو: فیس بک
بھارت میں مارچ میں سینما بند کردیے گئے تھے—فائل فوٹو: فیس بک

فلموں کی سب سے بڑی انڈسٹری کا درجہ رکھنے والے بھارت میں 7 ماہ بعد سینما کھل گئے لیکن سینما مالکان کے پاس نئی اور اچھی فلمیں نمائش کے لیے موجود ہی نہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کے باعث رواں برس مارچ کے وسط میں لاک ڈاؤن نافذ کیے جانے کے بعد سینما ہالز کو بھی بند کردیا گیا تھا لیکن اب انہیں کھول دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ تاحال بھارت میں تیزی سے کورونا کے نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے سینما ہالز کو بھی کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔

حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد بھارت کی متعدد ریاستوں کے بڑے اور اہم شہروں میں محدود پیمانوں پر سینما اسکرینز کو کھولا گیا ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سینما مالکان کے پاس ریلیز کے لیے اچھی اور نئی فلمیں ہی موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس: بھارت نے سنیما بند کردیے

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سینما مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سماجی فاصلے کا خیال رکھیں اور سینما میں 50 فیصد لوگوں کو آنے کی اجازت دیں۔

اگرچہ سینما مالکان حکومتی ہدایات پر عمل کرتے دکھائی دے رہے ہیں، تاہم اس باوجود زیادہ فلمی شائقین سینما ہالز سے دور دکھائی دے رہی ہیں، جس کی وجہ نئی فلموں کا نہ ہونا ہے۔

سینما کھولے جانے کے بعد مالکان نے پرانی بولی وڈ فلمیں لگانا شروع کی ہیں اور فلموں میں نریندر مودی کی زندگی پر بنائی گئی فلم بھی شامل ہے، جسے ابتدائی طور پر 2019 کے آغاز میں ہی ریلیز کیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں سینما مالکان نے شائقین کو سینما تک آنے کے لیے مجبور کرنے کے لیے دیگر ایکشن اور رومانٹک فلمیں بھی ریلیز کی ہیں۔

کورونا کے باعث 7 ماہ تک سینما بند رہنے کی وجہ سے بولی وڈ پروڈکشن ہاؤسز نے اپنی فلمیں نیٹ فلیکس، ایمازون اور زی فائیو جیسے ویب اسٹریمنگ چینلز پر ریلیز کرنا شروع کی ہیں۔

مزید پڑھیں: سینما بند ہونے کے باعث بولی وڈ فلمیں آن لائن ریلیز

فلموں کی آن لائن ریلیز کے باعث سینما مالکان کے پاس نئی فلموں کی قلت پڑجانے سے بھارت میں سینما انڈسٹری کے بحران کے شکار ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ بھارت میں مجموعی طور پر سالانہ ایک ہزار یا اس سے زائد ہندی اور دیگر زبانوں میں فلمیں تیار ہوتی ہیں اور بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی فلم انڈسٹری مانا جاتا ہے۔

تاہم اس کے باوجود اب بھارتی سینما مالکان کے پاس ریلیز کرنے کے لیے نئی فلمیں ہی موجود نہیں۔