وہ فلم جو 10 سال بعد بھی دیکھنے والوں کے لیے الجھن کا باعث بنی ہوئی ہے

18 اکتوبر 2020

ای میل

— اسکرین شاٹ
— اسکرین شاٹ

سائنس فکشن تو وہی ہوتا ہے جس کا خیال بھی کسی نے بھی نہ کیا ہو مگر کئی بار ایسا کچھ فلموں میں نظر آجاتا ہے جس کو دیکھ کر یقین بھی نہیں آتا اور لگتا ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے یعنی یقینی بے یقینی کی کیفت طاری رہتی ہے۔

اور ایک اچھی فلم وہ ہوتی ہے جس کی کہانی لوگوں کے ذہن سے محو نہ ہوسکے بلکہ کئی برس بعد بھی اس کے بارے میں سوالات کے جواب ڈھونڈنے پڑے۔

ایسی ہی ایک فلم ہولی وڈ ڈائریکٹر کرسٹوفر نولان کی 'انسیپشن' ہے، جو اکثر افراد بار بار دیکھتے ہیں اور پھر بھی اکثر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

اس فلم کی ریلیز کو2020 میں 10 سال مکمل ہوگئے اور اب بھی ہر ماہ ہزاروں افراد اس فلم کی کہانی کو سمجھنے کے لیے انٹرنیٹ سے مدد لیتے ہیں۔

ایک کمپنی آن بائے ڈاٹ کام نے ایسی فلموں کی فہرست مرتب کی جن کی کہانی دیکھنے والوں کے ذہن الجھن کا شکار کردیتی ہے اور وہ ان کو سمجھنے کے لیے انٹرنیٹ پر مختلف اصطلاحات جیسے وضاحت، بریک ڈاؤن، مطلب، پلاٹ اور اینڈنگ ایکسپلینڈ کے ذریعے انہیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر انسیپشن کے بارے میں جاننے کے لیے ہر ماہ اوسطاً 80 ہزار 90 افراد انٹرنیٹ سے رجوع کرتے ہیں۔

ویسے ہوسکتا ہے کہ آپ کو یقین نہ آئے مگر انسیپشن کو سائنس فکشن کی بجائے ڈائریکٹر کرنسٹوفر نولان ہارر فلم کے طور پر بنانا چاہتے تھے مگر بعد میں اس کی کہانی کو بدل دیا گیا۔

خوابوں کو چرانے والے کرداروں پر مشتمل اس فلم کو کرسٹوفر نولان نے ڈائریکٹ کیا جبکہ لیونارڈو ڈی کیپریو نے مرکزی کردار ادا کیا۔

پلاٹ

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس کا دل لیونارڈو ڈی کیپرو کا کردار ڈوم کوب ہے جو اداروں کی معلومات چرانے میں مہارت رکھتا ہے مگر اس کی خاصیت لوگوں کے خوابوں میں گھس کر ان کے لاشعور سے رازوں کو چرانا ہے۔

اس خاصیت نے کارپوریٹ دنیا میں اس کی مانگ بڑھا دی مگر اس کی قیمت بھی اس چور کو ہر اس چیز کی صورت میں چکانا پڑی جس سے اسے محبت تھی۔

اگر وہ کامیاب ہوتا تو یہ ایک مکمل جرم ہوتا مگر اس راہ میں اسے خطرناک دشمنوں کا ہر موڑ پر سامنا ہوا۔

اس فلم کی کہانی آپ کے ذہن کو دنگ کردے گی مگر پسند بھی ضرور آئے گی۔

چند دلچسپ حقائق

اسکرین شاٹ
اسکرین شاٹ

اس فلم کو چار آسکر ایوارڈز سے نوازا گیا تھا مگر بہترین فلم کا اعزاز جیتنے میں ناکام رہی جبکہ چند دیگر دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر اس فلم کے تمام کردار فلم انڈسٹری کے اہم شعبوں کی نمائندگی کرتے تھے۔

یعنی آرتھر (دی پوائنٹ مین) پروڈیوسر، اریانڈی (دی آرکیٹیکٹ) پروڈکشن ڈیزائنر، ایمیس (دی فورجر) اداکار، رابرٹ فشر (دی مارک) ناظرین کی نمائندگی کرتے تھے۔

جہاں تک ڈوم کوب کی بات ہے تو وہ ڈائریکٹر تھا۔

ایک دلچسپ پہلو یہ تھا کہ فلم تو خوابوں کی نگری کے گرد گھومتی تھی مگر اسے تحریر اور ڈائریکٹ کرنے والے کرسٹوفر نولان نے خوابوں پر کوئی تحقیق نہیں کی بلکہ اپنے تجربات اور احساسات کو بنیاد بنایا۔

ڈائریکٹر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ آئیڈیا کو ذہن میں بونے کے لیے خوابوں کی 3 تہوں کو فلمانے کی وجہ فلم کو ناظرین کے لیے کم از کم الجھن کا باعث بنانا تھا۔

اور جہاں تک فلم کے اختتام کی بات ہے تو ریلیز کے 10 سال بعد بھی ناظرین اس کی اینڈنگ کے بارے میں وضاحت کے منتظر ہیں۔

اگر آپ نے فلم نہیں دیکھی تو آگے پڑھنے سے گریز کریں کیونکہ اختتام نیچے درج ہوگا تاہم اگر دیکھ چکے ہیں تو آپ کو بھی یاد ہوگا کہ فلم کا اختتام کیسے ہوتا ہے۔

جیسا آپ کو یاد ہوگا کہ اپنے مشن میں کامیابی کے بعد ڈوم کوب اپنے بچوں سے ملنے جاتا ہے اور یہ تصدیق کرنے کے لیے لٹو گھماتا ہے کہ وہ خواب میں ہے یا حقیقت میں، مگر اسی وقت بچے آجاتے ہیں اور وہ کمرے سے باہر نکل جاتا ہے۔

فلم کے اختتامی منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لٹو گھوم رہا ہے جو کہ فلم کی کہانی کے مظابق اس بات کا عندیہ ہوتا ہے کہ یہ منظر خواب کا ہے، مگر ڈائریکٹر نے سین فوری ختم کردیا تو واضح طور پر کہنا مشکل ہوتا ہے کہ وہ لٹو گھومتا رہتا ہے یا نہیں۔

اس بارے میں کرسٹوفر نولان نے سی این این کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ وہ اس بارے میں بات چیت کرنے کی خواہش نہیں رکھتے 'میں نے جان بوجھ کر اختتام اس انداز سے کیا اور مجھے یہ ہمیشہ درست اختتام لگتا ہے'۔

یعنی فلم کے ڈائریکٹر نے کبھی فلم کے اختتام کے بارے میں وضاحت نہیں کی بلکہ یہ معاملہ دیکھنے والوں پر چھوڑ دیا۔

تاہم کچھ عرصے پہلے اس میں فلم میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے سسر کا کردار ادا کرنے والے مائیکل کین نے اس کے اختتام کے بارے میں تجسس ختم کرنے کی کوشش کی۔

برطانوی اداکار نے اس بارے میں بتایا 'جب مجھے انسیپشن کا اسکرپٹ ملا، تو میں کافی الجھن کا شکار ہوگیا اور میں نے نولان سے کہا کہ میں یہ سمھنے سے قاصر ہوں کہ کہاں خواب ہے اور کہاں حقیقت، جس پر ڈائریکٹر نے کہا، جب تم سین میں ہوگے تو وہ حقیقت ہوگی، تو خود سمجھ لیں کہ جہاں اسکرین پر میں نظر آیا وہ حقیقی زندگی کا منظر تھا، جہاں میں نہیں تھا، وہ ایک خواب تھا'۔

اور فلم کی اینڈنگ کو دوبارہ ذہن میں دہرائیں تو آپ کو یاد آئے گا کہ اختتامی سین میں مائیکل کین بھی بچوں کے ساتھ موجود ہوتے ہیں تو اگر ان کی بات کو مانا جائے تو سین میں ان کی موجودگی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ خواب نہیں بلکہ حقیقت تھی۔