پاکستانی مرد حضرات کی نیل پالش لگانے کی انوکھی مہم

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2020

ای میل

معروف شخصیات اپنی ایک انگلی پر نیل پالش لگانے کی تصاویر شیئر کر رہےہیں—فوٹو: ٹوئٹر
معروف شخصیات اپنی ایک انگلی پر نیل پالش لگانے کی تصاویر شیئر کر رہےہیں—فوٹو: ٹوئٹر

کھیل، شوبز، میڈیا، سیاست اور دیگر شعبوں کی پاکستانی معروف شخصیات اور خاص طور پر مرد حضرات گزشتہ چند دن سے سوشل میڈیا پر اپنی ایسی تصاویر شیئر کر رہے ہیں، جن میں ان کی ایک انگلی میں نیل پالش لگی ہوئی ہے۔

وسیم اکرم، شعیب ملک، شہزاد رائے، عدنان صدیقی، اعصام الحق، جہانگیر خان اور ہمایوں سعید سمیت درجنوں پاکستانی مرد حضرات نے 17 اکتوبر سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر نیل پالش کے ساتھ تصاویر شیئر کی تو ان کی دیکھا دیکھی عام لوگ بھی یہ عمل کرنے لگے۔

نیل پالش کے ساتھ اپنی تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے والی شخصیات نے ’پالشڈ مین پاکستان، اینڈ دی وائلنس، بریک دی سائلنس، اینڈ چائلڈ ابیوز، پاکستانی مین اگینسٹ وائلنس اور پاکستانی مین سے نو مور‘ جیسے ہیش ٹیگ بھی استعمال کیے۔

پاکستانی شخصیات نے ’پالشڈ مین پاکستان‘ نامی مہم کے تحت اس وقت نیل پالش کے ساتھ سوشل میڈیا پر اپنی تصاویر شیئر کرنا شروع کیں، جب سابق کرکٹر وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے ’دی پالشڈ مین‘ نامی عالمی مہم میں پاکستانی مرد حضرات کو شامل ہونے کی درخواست کی۔

شنیرا اکرم نے 17 اکتوبر کو ایک ٹوئٹ کے ذریعے پاکستانی مرد حضرات کو ’پالشڈ مین‘ مہم میں شامل ہونے کا کہا، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے معروف شخصیات نے نیل پالش کے ساتھ اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیں۔

’پالشڈ مین پاکستان‘ مہم میں کئی معروف مرد حضرات کی جانب سے نیل پالش کے ساتھ تصاویر شیئر کیے جانے کے بعد عام افراد نے بھی نیل پالش کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرکے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ملک سے بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں گے۔

’پالشڈ مین‘ مہم کیا ہے اور کب سے شروع ہوئی؟

’پالشڈ مین‘ نامی مہم کا آغاز آسٹریلوی نژاد سماجی رہنما ایلوت کوستیلو نے چند سال قبل کیا تھا۔

پالشڈ مین مہم کا آغاز آسٹریلیا سے ہوا تھا—فوٹو: پالشڈ مین ٹوئٹر
پالشڈ مین مہم کا آغاز آسٹریلیا سے ہوا تھا—فوٹو: پالشڈ مین ٹوئٹر

ایلوت کوستیلو نے مذکورہ مہم کا آغاز جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا کے دورے کے بعد کیا تھا، جہاں انہوں نے بچوں سے جنسی ذیادتی اور ان کے استحصال کے واقعات سنے تھے۔

’دی پالشڈ مین‘ کا آغاز ابتدائی طور پر آسٹریلیا میں ہی کیا گیا اور اس مہم کے تحت فنڈز اکھٹے کرکے ایسی تنظیموں اور اداروں میں تقسیم کیے گئے جو استحصال کا شکار ہونے والے بچوں کی بحال کا کام کرتے ہوں۔

بعد ازاں ’دی پالشڈ مین‘ مہم کا دائرہ امریکا، برطانیہ سمیت یورپ کے دیگر چند ممالک اور بھارت تک بڑھایا گیا۔

’دی پالشڈ مین‘ مہم کے تحت ہر سال دنیا بھر کی معروف شخصیات اکتوبر میں سوشل میڈیا پر نیل پالش کے ساتھ اپنی تصاویر شیئر کرکے بچوں کے استحصال اور تشدد کے خاتمے کی مہم میں حصہ لیتے ہیں۔

اگرچہ ’دی پالشڈ مین‘ نامی عالمی تنظیم تاحال براہ راست پاکستان میں کام نہیں کرتی تاہم اب خیال کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ تنظیم کسی مقامی ادارے کے تعاون سے یہاں بھی کام کا آغاز کرے گی۔

’دی پالشڈ مین‘ کی تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف سال 2019 میں دنیا بھر میں ایک ارب بچے ریپ، تشدد اور استحصال کا شکار بنے، جو کہ دنیا کے بچوں کی نصف تعداد بنتی ہے۔

بچوں پر تشدد، ان کے ریپ اور استحصال کے واقعات صرف پاکستان اور بھارت جیسے ممالک ہی نہیں بلکہ امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں بھی بہت زیادہ تعداد میں رپورٹ ہوتے ہیں۔