وزیراعظم کا گندم کی درآمد میں تاخیر پر اظہار برہمی

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر رواں برس جولائی میں ڈیڑھ ٹن گندم درآمد کرلی جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی —تصویر: عمران خان فیس بک
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر رواں برس جولائی میں ڈیڑھ ٹن گندم درآمد کرلی جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی —تصویر: عمران خان فیس بک

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے گندم کی درآمد میں تاخیر پر متعلقہ حکام کی سرزنش کی جس کی وجہ سے ملک میں آٹے کی قلت پیدا ہوئی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر رواں برس جولائی میں ڈیڑھ ٹن گندم درآمد کرلی جاتی تو صورتحال مختلف ہوتی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شرکت کرنے والے ایک فرد نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ وزیراعظم نے اسے انتظامیہ ناکامی قرار دیا ہے، مذکورہ فرد کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ ’میں نے بحران کا اندازہ کرلیا تھا اور اپریل میں گندم کی درآمد کا حکم دیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا‘۔

یہ بھی پڑھیں: ای سی سی کا گندم کی امدادی قیمت میں 25 فیصد اضافہ کرنے سے گریز

انہوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بیوروکریسی نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف سے گندم کی درآمد کا فیصلہ نہیں کیا لیکن اس بات کو بھی تسلیم کیا گیا کہ بالآخر اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

ایک اور ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بھی شکایت کی کہ بیوروکریسی نیب کے خوف سے فائلز پر دستخط نہیں کررہی۔

دوسری جانب ایک تقریب میں وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال غیر متوقع بالخصوص گندم کی کٹائی کے وقت ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں فصل کی پیداوار کم ہوئی جس کی وجہ سے منڈیوں میں گندم کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

کابینہ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 17 سے 20 ہزار ٹن یومیہ گندم جاری کی جا رہی ہے اور اسے طلب کے مطابق یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ حکومت سندھ کی جانب سے رواں ماہ آٹا چکیوں کو 85 ہزار ٹن گندم ریلیز کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گندم کی قیمت میں اضافے کا فیصلہ مؤخر کردیا

کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مارکیٹ میں نہ صرف اشیائے خورونوش کی وافر فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ قیمتوں کو بھی رکھنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

شوگر انکوائری رپورٹ

کابینہ کے ایک رکن نے کہا کہ وزیراعظم نے شوگر انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے اور دریافت کیا کہ اس اسکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق عمران خان نے اس معاملے کی تازہ ترین پیش رفت رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس پر طلب کرلی۔

کابینہ رکن نے بتایا کہ جب وزیراعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے مشیر احتساب و داخلہ سے پوچھا کہ چینی اسکیم میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی تو وزیراعظم نے مداخلت کی اور ندیم افضل چن پر زور دیا کہ اجلاس میں عام رائے دینے سے گریز کریں کیوں انہیں معاملے کی تکنیکی باریکیوں کا اندازہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے نجی شعبے کو گندم کی لامحدود درآمد کی اجازت دیدی

وزیراعظم نے گندم اور چینی کی قیمتوں اور ضروریات کے گہرائی کے تجزیے کے ساتھ رپورٹ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں طلب کرلی۔

کابینہ کو چینی کی درآمد اور ذخائر پر بریفنگ دی گئی اور چینی سے متعلق واجد ضیا کی رپورٹ پر فزیکل ویریفیکیشن کے عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ 20 روز میں کرشنگ سیزن کا آغاز ہو جائے گا جس میں میں تاخیر کی صورت میں پچاس لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا، اس حوالے سے حکومت پنجاب نے قانون میں ترمیم کر لی ہے۔

کووِڈ 19 کیسز

اجلاس میں کورونا وبا کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ رواں ماہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد میں جولائی اگست کے مقابلے میں 2 فیصد بڑھی ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی دو ہندسوں میں ہو گئی ہیں۔

مزید پڑھیں: 'ملک میں گندم کا پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا

کابینہ نے قوم کو ہدایت کی کہ ہیلتھ پروٹوکولز خصوصاً ماسک کا استعمال اور دیگر ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے متحدہ قومی موومنٹ کے عہدہ داران کی جانب سے وزیرِ اعظم کووڈ 19 ریلیف فنڈ کے لیے 10 لاکھ 33 ہزار 933 روپے کا چیک پیش کیا۔

کابینہ نے گن اینڈ کنٹری کلب اسلام آباد کے لیے ایڈہاک منیجمنٹ کمیٹی کی منظوری دی اور سندھ انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کمپنی (لمیٹڈ) کو وزارتِ منصوبہ بندی، ڈیولپمنٹ اور خصوصی اقدامات کے تحت کرنے اور اس کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے کے اضافی چارج کی مدت توسیع کی منظوری دی۔