گورنر اسٹیٹ بینک نے کراچی میں پہلے ‘شہری جنگل’ منصوبے کا افتتاح کردیا

اپ ڈیٹ 21 اکتوبر 2020

ای میل

یہ شہری جنگل 5 ہزار مربع میٹر کی اراضی پر یہ بنایا جائے گا — فائل فوٹو
یہ شہری جنگل 5 ہزار مربع میٹر کی اراضی پر یہ بنایا جائے گا — فائل فوٹو

کراچی: اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کوآپریشن کے احاطے میں 5 ہزار اسکوائر میٹر اراضی پر 'شہری جنگل' کے تصور کے تحت پہلے پولی کلچرل فوریسٹ منصوبے کا افتتاح کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 45 کثیر النوع کے 15 ہزار پودے میاواکی طریقے سے لگائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ یہ طریقہ کار جاپانی ماہرِ نباتیات اکیرا میاواکی کا ایجاد کردہ ہے جو مقامی گھنے جنگلات لگانے میں مدد دیتا ہے۔

اسی حوالے سے مزید یہ کہ اس طریقہ کار کے ذریعے پودوں کی نشوونما 10 گنا زیادہ تیزی سے ہوتی ہے جبکہ نتائج عام حالات کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ گھنے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تمر کے جنگلات اور کراچی کے ساحل کی ماحولیاتی موت

واضح رہے کہ یہ منصوبہ لوگوں، برادریوں، تنظیموں، کاروباری اور سول سوسائٹی کے اجتماعی طور پر درخت لگانے اور موسمیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے حکومتی منصوبے کے نظریے سے متاثر ہے۔

اس طریقہ کار سے جنگل لگانے کے ابتدائی 3 برسوں تک یہ دیکھ بھال سے مستثنی رہتا ہے، مزید یہ کہ منصوبے کے لیے ایک چھوٹی سی جھیل بھی تیار کی گئی ہے تاکہ جنگل کے ماحولیاتی نظام کی تکمیل اور آبی حیات جیسے مچھلیاں، پودے اور دوسری مخلوقات کو مدد مل سکے۔

اس منصوبے میں مائیکرو-اسپرنکل آبپاشی نظام موجود ہے جو درختوں کی جڑوں کو صرف ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرتا ہے اور جب یہ پودے تناور درخت میں تبدیل ہوجائیں گے تو پی ایس پی سی پولی کلچرل فوریسٹ سالانہ 300 سے 350 کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرے گا۔

مزید پڑھیں: آسٹریلیا: 'جنگلات میں لگی آگ سے تقریباً 3 ارب جانور ہلاک یا دربدر ہوئے'

علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے گورنر کا اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ عمل اسٹیٹ بینک اور پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کوآپریشن کا کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں اور ماحولیاتی تحظ کے مقاصد کے کا ہی حصہ ہے۔

مزید یہ کہ پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کوآپریشن کا پولی کلچرل فوریسٹ کراچی کنکریٹ جنگل میں شہریوں کے لیے کسی تحفے سے کم نہیں ہے۔

انہوں نے پوری پی ایس پی سی ٹیم کے کورونا وائرس کے درمیان رات دن کام کرنے اور اس منصوبے کو حقیقت بنانے کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی۔


یہ خبر 21 اکتوبر 2020 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔