چین کا پاکستان میں ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی ہٹائے جانے کا خیر مقدم

21 اکتوبر 2020

ای میل

زاؤ لی جیان نے کہا کہ حکومت ہمیشہ اوورسیز چینی انٹرپرائزز کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ مقامی و بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں — فوٹو: چینی وزارت خارجہ
زاؤ لی جیان نے کہا کہ حکومت ہمیشہ اوورسیز چینی انٹرپرائزز کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ مقامی و بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں — فوٹو: چینی وزارت خارجہ

چین نے معروف ویڈیو شیئرنگ ایپ ’ٹک ٹاک‘ پر سے پابندی اٹھانے کے پاکستان کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان زاؤ لی جیان نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’حکومت ہمیشہ اوورسیز چینی انٹرپرائزز کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ مقامی و بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کریں اور مقامی روایات و مذاہب کا مکمل احترام کریں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ جان کر خوشی ہے کہ متعلقہ فریقین دوستانہ ماحول میں مشاورت کے ذریعے معاملات کو حل کر رہے ہیں‘۔

واضح رہے کہ دو روز قبل حکومت پاکستان نے ’ٹک ٹاک‘ کو محض 10 دن بعد ہی پاکستان میں مشروط اجازت پر بحال کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک 10 دن بعد بحال

پی ٹی اے نے مشروط اجازت کے بعد ٹک ٹاک کو 19 اکتوبر کو ہی سہ پہر کو پاکستان میں بحال کردیا۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ٹک ٹاک کو مشروط اجازت کے ساتھ بحال کیا گیا۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کے صحت مندانہ ڈیجیٹل تجربے اور ڈیجیٹل کمپنیوں کی ترقی کے پیش نظر پابندی ہٹائی گئی۔

پی ٹی اے نے بتایا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ غیر اخلاقی اور نامناسب مواد کی پلیٹ فارم پر ترویج نہیں کی جائے گی اور یہ کہ جو صارفین غیر قانونی مواد اپ لوڈ کرنے میں مستقل طور پر ملوث ہیں ان کو پلیٹ فارم کی طرف سے بلاک کر دیا جائے گا۔

حکومت نے رواں ماہ 9 اکتوبر کو ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی مواد نہ ہٹائے جانے پر بلاک کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں ٹک ٹاک پر پابندی عائد

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے بار بار نوٹس جاری کرنے کے باوجود فحش مواد کو نہ ہٹانے پر ٹک ٹاک کو بند کیا تھا۔

پی ٹی اے کی جانب سے بند کیے جانے کے فوری بعد ہی ٹک ٹاک انتظامیہ نے حکومت پاکستان سے مذاکرات شروع کردیے تھے اور حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ فحش مواد کو ہٹایا جائے گا۔