فیس بک صارفین کو اپنے پڑوسیوں سے جوڑنے کی خواہشمند

21 اکتوبر 2020

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

سماجی رابطے کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کی خواہش ہے کہ اس کے صارف دنیا بھر کے لوگوں سے تعلق بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے ارگرد کی دنیا کے بارے میں بھی جانیں۔

یہی وجہ ہے کہ فیس بک نے ایک نیا فیچر نیبرہوڈز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جو صارفین کو اپنے ارگرد مقیم لوگوں سے جڑنے میں مدد فراہم کرے گا۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے اس فیچر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں صارفین کے سامنے مقامی پوسٹس، گروپس اور مارکیٹ پلیس اشیا ڈسپلے کی جائیں گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ لوگ فیس بک میں اپنی مقامی برادریوں کا حصہ بن رہے ہیں، اس میں آسانی فراہم کرنے کے لیے نیبرہوڈز نامی فیچر کی آزمائش شروع کی گئی ہے، فیس بک کے اندر ایک ایسا مختص مقام جہاں لوگ اپنے پڑوسیوں سے جڑ سکیں گے'۔

ترجمان کی تصدیق سے قبل ایک ٹوئٹ میں اس فیچر کا ذکر کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ صارفین اس میں پرائیویسی آپشنز کے ذریعے گروپ کی سرگرمیوں کو منیج کرسکیں گے۔

یہ ابھی واضح نہیں کہ فیس بک کی جانب سے ابھی کتنے صارفین کے لیے اس فیچر کو متعارف کرایا گیا ہے یا کب تک اسے تمام صارفین کے لیے پیش کیا جاسکتا ہے۔

فیس بک کے مطابق آزمائشی مراحل کے بعد اس فیچر میں مختلف تبدیلیاں لائی جاسکتی ہیں۔

اس سے قبل رواں ماہ فیس بک نے صارفین کی ذہنی صحت کے لیے ایک نیا ایموشنل ہیلتھ ریسورس سینٹر متعارف کرایا تھا۔

اس ریسورس سینٹر میں ماہرین کی رہنمائی اور تفصیلات دی جائیں گی جبکہ صارفین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم اور اس کی زیرملکیت دیگر ایپس سے جوڑتا ہے۔

کمپنی کی جانب ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا گیا کہ ذہنی صحت کو اس ریسورس سینٹر میں مرکزی اہمیت دی جائے گی، جس کے لیے دنیا بھر کے ماہرین کی ٹپس اور دیگر معلومات صارفین تک پہنچائی جائے گی۔

یہ فیس بک ہب دنیا بھر میں صارفین کو دستیاب ہوگا جس میں ذہنی صحت کے مقامی ماہرین کے بارے میں تفصیلات بھی موجود ہوں گی۔

فیس بک کے ساتھ ساتھ اس کی زیرملکیت دیگر ایپس میں ذہنی صحت سے متعلق فیچرز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔

جیسے واٹس ایپ پر عالمی ادارہ صحت کے ڈیجیٹل اسٹریس منیجمنٹ گائیڈ (جو تناؤ میں کمی کی ٹپس فراہم کرتی ہے)، اب ڈبلیو ایچ او ہیلتھ الرٹ چیٹ کی شکل میں دستیاب ہوگی۔

میسنجر میں ڈبلیو ایچ او کی مدد سے ڈیزائن کیے جانے والے اسٹیکرز دریافت کیے جاسکیں گے، جو لوگوں میں ذہنی صحت کے حوالے سے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔