افغانستان کی 70 سالہ خاتون کمانڈر کی طالبان میں شمولیت

21 اکتوبر 2020

ای میل

کمانڈر کفتر ماضی میں طالبان اور سوویت یونین کے خلاف سرگرم رہیں — فوٹو: بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو
کمانڈر کفتر ماضی میں طالبان اور سوویت یونین کے خلاف سرگرم رہیں — فوٹو: بشکریہ انڈیپنڈنٹ اردو

افغانستان کے صوبے بغلان کی 70 سالہ خاتون کمانڈر نے طالبان میں شمولیت اختیار کر لی۔

انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق شمالی صوبے کے شہر ناہرین کی بی بی عائشہ حبیبی جنگ سے تباہ حال ملک کی واحد خاتون جنگجو کمانڈر مانی جاتیں ہیں۔

وہ ماضی میں طالبان اور سوویت یونین کے خلاف سرگرم رہیں لیکن اب انہوں نے باضابطہ طور پر طالبان میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

افغان عہدیداروں نے طالبان کے اس بیان کی تصدیق کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ بی بی عائشہ گروپ میں شامل ہوگئی ہیں۔

بی بی عائشہ کو ’کمانڈر کفتر‘ اور روسیوں کے خلاف جنگ میں فاختہ جیسی چستی کی وجہ سے ’ڈو (فاختہ) کمانڈر‘ کے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔

انہوں نے 70 کی دہائی میں افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے خلاف ایک دہائی پر محیط جنگ کے دوران 200 جنگجوؤں کا ایک گروہ تشکیل دیا اور بغلان میں سوویت یونین کے مخالف کمانڈروں میں ایک اہم شخصیت بن کر سامنے آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: امن مذاکرات میں خواتین مذاکرات کار سخت گیر طالبان کا سامنا کرنے کو تیار

90 کی دہائی میں جب سخت گیر طالبان نے افغانستان میں کامیابی حاصل کی تو وہ ان کے خلاف ہوگئیں جبکہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد کمانڈر کفتر نے اپنے جنگجوؤں کو اسلحے سے پاک کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

کمانڈر کفتر وہ واحد خاتون افغان کمانڈر ہیں جو اپنے ارد گرد بندوق برداروں کے ایک گروہ کو جمع کرنے، علاقے کا کنٹرول سنبھالنے اور اپنی خود مختاری کا استعمال کرنے میں کامیاب رہیں۔

16 اکتوبر کو ضلع نہرین کے گورنر فضل دین مرادی نے ’ریڈیو فری افغانستان‘ کو بتایا کہ ’کمانڈر کفتر اپنے متعدد مسلح ساتھیوں کے ہمراہ طالبان میں شامل ہوگئی ہیں‘۔

انہوں نے چند دن قبل نہرین کے علاقے سجانو پر حملہ کیا اور وہاں کے کچھ دیہاتوں پر قبضہ کر لیا۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ طالبان کے تبلیغ اور رہنمائی کمیشن کے عہدیداروں نے 15 اکتوبر کو کفتر اور ان کے حامیوں کو گروپ میں خوش آمدید کہا۔

بی بی عائشہ کے مرکزی حکومت سے بھی قریبی تعلقات ہیں اور طالبان حملوں کے خلاف مزاحمت میں وہ حکومت کی حمایت کرتی رہی ہیں۔

2015 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ طالبان بدل جائیں گے یا اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے‘۔

انہوں نے مختلف مسلح تنازعات میں اپنے شوہر، دو بیٹوں اور لگ بھگ 40 رشتہ داروں کو کھونے کے باوجود کبھی اپنے ہتھیار نہیں پھینکے۔

بغلان صوبائی کونسل کے رکن حنیف کوہ گدائی نے کہا کہ کمانڈر کفتر نے طالبان جنگجوؤں کو برسوں بعد نہرین کی وادی میں داخل ہونے اور ان کی رہائش گاہ کا کنٹرول سنبھالنے کی اجازت دی ہے۔

افغان سیکیورٹی فورسز نے خاتون کمانڈر کی طالبان میں شمولیت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ وہ ماضی میں بھی سیکیورٹی فورسز یا حکومت کی وفادار نہیں تھیں، اس لیے ان کے اس فیصلے کا خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔

اگرچہ بی بی عائشہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہیں لیکن ان کی محض موجودگی اب بھی ان کے زیر کنٹرول علاقے اور ان کے مسلح جنگجوؤں کے لیے اہم ہے۔

واضح رہے کہ طالبان گزشتہ کئی ہفتوں سے قطر میں افغان حکومت کے عہدیداروں سے مذاکرات کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے خواتین کے حقوق اور آزادی کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی نہیں اپنائی ہے۔