نواز شریف کا عدلیہ سے کراچی واقعے کا 'نوٹس' لینے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

نواز شریف نے عدلیہ سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
نواز شریف نے عدلیہ سے کراچی واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

لندن: مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کراچی میں اپنے داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو مشکوک حالات میں گرفتار کیے جانے کے چند دن بعد عدلیہ سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی حالیہ تقریر کے بارے میں اسٹین ہوپ ہاؤس کے باہر صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بہت کچھ ہو رہا ہے، مجھے لگتا ہے کہ معزز عدلیہ کو نوٹس لینا چاہیے اور وہ اس طرح کے اقدامات (صفدر کی گرفتاری) کے خلاف ازخود نوٹس لینے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی: مزار قائد کے تقدس کی پامالی کے الزام میں کیپٹن (ر) صفدر گرفتار

گزشتہ ہفتے عمران خان نے اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کنونشن میں ایک دھواں دھار تقریر میں کہا تھا کہ نواز شریف کو پاکستان واپس لا کر جیل میں ڈالنا اپنی ترجیح بنائیں گے۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور ان کی اہلیہ مریم نواز کراچی میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے کے سلسلے میں ہوٹل میں قیام پذیر تھے جب اہلکاروں نے ان کے کمرے پر چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا تھا اور پھر بعد میں انہیں کراچی میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

گوکہ نواز شریف نے براہ راست یہ نہیں کہا کہ عدلیہ کو کس معاملے کا از خود نوٹس لینا چاہیے لیکن انہوں نے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر بدانتظامی پر سندھ پولیس کی جانب سے کے احتجاج کی تعریف کی جس میں اسٹیبلشمنٹ نے اس معاملے میں کارروائی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: گرفتار کیپٹن (ر) محمد صفدر کی ضمانت منظور

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات خالص غصے اور انتقام کا نتیجہ ہیں، کیوں؟ کیونکہ میں ان 'ریاست کے اوپر ریاست' کی پالیسیوں کے بارے میں سچ بول رہا ہوں جہاں ان پالیسیوں سے پاکستان کو نقصان پہنچا ہے۔

معاملے کا پس منظر

خیال رہے کہ پیر کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کو مزار قائد کے تقدس کو پامال کرنے کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنی اہلیہ مریم نواز کے ہمراہ کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں موجود تھے۔

بعد ازاں انہیں عدالت سے ضمانت مل گئی تھی تاہم معاملہ اس وقت ایک نئی صورتحال اختیار کر گیا تھا جب مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی آواز میں ایک آڈیو سوشل میڈیا پر صحافی کی جانب سے شیئر کی گئی تھی۔

مذکورہ آڈیو میں محمد زبیر یہ الزام لگا رہے تھے کہ ’مراد علی شاہ نے انہیں تصدیق کی تھی کہ پہلے آئی جی سندھ پولیس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی کہ وہ گرفتاری کے لیے بھیجیں‘۔

مزید پڑھیں: حکومت سندھ کا کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان

آڈیو میں کہا گیا تھا کہ ’جب انہوں نے اس سے انکار کیا تو رینجرز نے 4 بجے اغوا کیا ہے اور مجھے وزیراعلیٰ نے یہی بات کہی، میں نے ان سے اغوا کے لفظ پر دوبارہ پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ جی انہیں اٹھایا گیا اور سیکٹرز کمانڈر کے آفس لے گئے جہاں ایڈیشنل آئی جی موجود تھے جبکہ انہیں آرڈر جاری کرنے پر مجبور کیا‘۔

بعد ازاں اس واقعے کی وزیر سمندری امور علی زیدی نے ان خبروں کی تردید کی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) کو 'اغوا کرکے ایف آئی آر درج کرنے پر مجبور کیا گیا'۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری سے متعلق معاملے کی تحقیقات کے لیے وزرا پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا۔

واقعے کے اگلے دن سندھ پولیس کے آئی جی سمیت اعلیٰ حکام نے 19 اکتوبر کو پیش آئے واقعے پر احتجاجاً چھٹیوں پر جانے کی درخواست دی تھی تاہم پھر حکومت سندھ کی جانب سے یقین دہانی کے بعد آئی جی سندھ نے اپنی درخواست کو مؤخر کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا 'کراچی واقعے' پر نوٹس، کور کمانڈر کو تحقیقات کی ہدایت

اس درخواست کے بعد پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی پریس کانفرنس کی تھی اور کہا تھا کہ ایس ایچ او سے لے کر آئی جی کی سطح کے افسران تک سوال کر رہے ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے رات 2 بجے کے بعد ہمارے آئی جی کے گھر کے باہر گھیراؤ کیا تھا’۔

ساتھ ہی انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے طور پر معاملے کی تحقیقات کریں۔

بعد ازاں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کراچی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لیے ’پولیس پر دباؤ‘ ڈالنے سے متعلق واقعے کا نوٹس لیا تھا۔

مزید پڑھیں: آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری کی آئی جی سندھ سے ملاقات کے بعد سندھ پولیس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ واقعے پر چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نوٹس لینے کے بعد چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ مؤخر کردیا۔

سندھ پولیس کی جانب سے جاری متعدد ٹوئٹس میں کہا گیا تھا کہ آئی جی سندھ نے چھٹیوں پر جانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر کے ماتحت افسران کو قومی مفاد میں اپنی چھٹیوں کی درخواستیں 10 روز کے لیے مؤخر کرنے کی ہدایت دے دی۔