سرفراز کو قیادت سے ہٹانے کے ایک برس بعد اظہر کی چھٹی کی بازگشت

اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2020

ای میل

اظہرعلی کو گزشتہ برس اکتوبر میں ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا — فائل/فوٹو: اے پی
اظہرعلی کو گزشتہ برس اکتوبر میں ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا — فائل/فوٹو: اے پی

پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اور سینیئر بلے باز اظہر علی کو ٹھیک ایک برس بعد ٹیم کی قیادت سے ہٹا کر ان کی جگہ محمد رضوان کو نیا کپتان بنائے جانے کا امکان ہے۔

کرکٹ کی مشہور ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہیڈ کوارٹرز کی رہداریوں میں سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کے ایک برس بعد اظہر علی کی جگہ ایک نوجوان کھلاڑی کو قیادت سونپنے کی بازگشت جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لیے محمد رضوان مضبوط امیدوار ہیں جو ممکنہ طور پر دسمبر میں دورہ نیوزی لینڈ میں ٹیم کی قیادت کریں گے۔

مزید پڑھیں: سرفراز احمد کو ٹیسٹ اور ٹی20 کی کپتانی سے ہٹا دیا گیا

پی سی بی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اظہر علی کی ایک سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جارہا ہے اور بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اظہر علی سے ملاقات کرچکے ہیں۔

اظہر علی کو ہٹانے اور نئے کپتان کی تقرری سے متعلق حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا تاہم پی سی بی کے چیئرمین اگلے 10 روز میں اظہر علی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

یاد رہے کہ پی سی بی نے 18 اکتوبر 2019 کو سرفراز احمد کی جگہ اظہر علی کو ٹیسٹ جبکہ بابر اعظم کو ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا کپتان مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سرفراز احمد کو گزشتہ برس دورہ آسٹریلیا سے قبل ہی کپتانی سے ہٹایا گیا تھا جس سے قبل سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں عالمی نمبر ایک پاکستان کو ہوم گراؤنڈ میں 0-3 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے سرفراز احمد کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ 'مشکل' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ 'ٹیم کے وسیع تر مفاد میں لیا گیا'۔

کپتانی سے ہٹائے جانے والے سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز کی بات تھی، وہ اظہر علی اور بابر اعظم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کپتان سمیت کوئی بھی کھلاڑی پرفارمنس کے بغیر ٹیم میں نہیں رہ سکتا، اظہر

اظہر علی ٹیم کے کپتان بننے کے بعد خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہوئے اور آسٹریلیا کے خلاف پہلی ہی سیریز میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا، تاہم رواں برس اگست میں انگلینڈ کے خلاف بارش سے متاثرہ میچ میں قائدانہ اننگز کھیلتے ہوئے انہوں نے سنچری بنائی تھی اور میچ برابری پر ختم ہوا تھا۔

آسٹریلیا کے خلاف ناکامی کے بعد اظہر علی نے کہا تھا کہ قیادت چھن جانے کا کوئی ڈر نہیں اور کپتان سمیت کوئی بھی کارکردگی کے بغیر ٹیم میں نہیں رہ سکتا۔

دوسری جانب محمد رضوان نے مذکورہ سیریز میں وکٹ کے پیچھے اور بیٹنگ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں نصف سنچری بنائی تھی۔

محمد رضوان نے حال ہی میں کھیلے گئے نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں خیبرپختونخوا (کے پی) کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے نہ صرف خود اچھی کارکردگی دکھائی تھی بلکہ ٹیم کو بھی چمپیئن بنوایا۔

سرفراز احمد کی ٹیم میں موجودگی میں محمد رضوان بورڈ کی اولین ترجیح نہیں رہے تھے کیونکہ سرفراز کی بحیثیت کپتان کارکردگی بہترین تھی اور ٹی ٹوئنٹی طرز میں دنیا کی بہترین ٹیم تھی۔

قومی ٹیم زمبابوے کے خلاف مختصر طرز کی کرکٹ سیریز کی میزبانی کے بعد دسمبر میں نیوزی لینڈ کا دورہ کرے گی جہاں ٹیسٹ سیریز بھی کھیلی جائے گی۔