لاہور: ڈولفن فورس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ، راہگیر لڑکی جاں بحق

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2020

ای میل

ڈولفن فورس نے فائرنگ کرنے کی خبر مسترد کردی—فائل/فوٹو:رائٹرز
ڈولفن فورس نے فائرنگ کرنے کی خبر مسترد کردی—فائل/فوٹو:رائٹرز

لاہور کے علاقے وحدت روڈ پر ڈولفن فورس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران گولی لگنے سے راہگیر لڑکی جاں بحق ہوگئی۔

ڈولفن فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی ڈاکوؤں کی جانب سے فائر کی گئی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی جبکہ پیرو فورس اور ڈولفن فورس نے اپنے اسلحے کی رپورٹ بھی مرتب کرلی ہے۔

دونوں فورسز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاکوؤں کا تعاقب کرنے والی ڈولفن اور پیرو فورس کی ٹیم نے کوئی گولی نہیں چلائی اور پیرو فورس کو ایس ایم جی گن کے لیے 30 اور پستول کے لیے 20 گولیاں دی گئی تھیں۔

مزید پڑھیں: لاہور: 'معصوم' شہری پر فائرنگ کرنے والے ڈولفن اہلکاروں کے خلاف مقدمہ

رپورٹ کے مطابق ڈولفن فورس کو ایم پی فائیو گن کی 30 اور پستول کے لیے 20 گولیاں ملی تھی اور دونوں ٹیموں نے ایک گولی بھی نہیں چلائی اور 50،50 گولیاں واپس کر دیں۔

پولیس ٹیموں کی مرتب کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس مقابلے کے دوران ڈاکوؤں نے گولی چلائی اور اسی کے نتیجے میں 22 سالہ فاطمہ دم توڑ گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈولفن اور پیرو فورس نے اپنی جانوں پر کھیل کر ڈاکوؤں کو پکڑا۔

جاں بحق 22 سالہ فاطمہ کی پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتولہ کو دو گولیاں لگیں، ایک گولی کمر اور دوسری گولی گردن میں لگی اور لڑکی کی موت گردن میں لگنے والی گولی سے ہوئی۔

ایس پی انویسٹی گیشن عبدالوہاب کا کہنا تھا کہ مقتولہ کو لگنے والی گولی کس کی تھی اس کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے اور مقتولہ کے جسم سے نکلنے والی گولیوں کا فرانزک کروایا جائے گا، فرانزک میچ ہونے پر معلوم ہو گا کہ مقتولہ کس کی گولی سے جاں بحق ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ مقتولہ کے والد کے مطابق فاطمہ کو ڈاکوؤں کی گولیاں لگیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی کے قریب ڈولفن فورس اور مبینہ ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس دوران راہگیر لڑکی جاں بحق ہوئی تھی۔

جاں بحق لڑکی کی شناخت 22 سالہ فاطمہ کے نام سے ہوئی تھی جو ایک کال سینٹر میں ملازمت کررہی تھی اور ان کے والد اسلم حسن انہیں دفتر چھوڑنے جارہے تھے اور موٹر سائیکل پر سوار تھے، اسی دوران ان کی گردن پر گولی لگی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور: ڈولفن فورس کی مبینہ فائرنگ، 2 بچوں سمیت 4 راہ گیر زخمی

رپورٹ میں کہا گیا کہ دن دہاڑے پر ہجوم سڑک پر ہونے والے پولیس مقابلے سے ڈولفن فورس کی جرائم پیشہ افراد کو پکڑنے کے لیے شہر کی سڑکوں میں کارروائی کے لیے پیشہ ورانہ صلاحیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

پولیس نے مذکورہ واقعے میں فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔

اقبال ٹاؤن ایس پی آپریشن کیپٹن (ر) محمد اجمل نے دعویٰ کیا کہ فاطمہ ڈاکوؤں کی جانب سے ڈولفن فورس کے اہلکاروں پر کی گئی فائرنگ سے جاں بحق ہوئیں۔

ڈولفن اسکواڈ کے ترجمان نے کہا کہ تمام تین مشتبہ ڈاکوؤں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ان کی شناخت ارشد، فیصل اور حسن کے نام سے ہوئی، جو جرائم کی کئی وارداتوں میں ملوث ہیں اور مختلف تھانوں میں ان کے خلاف مقدمات درج ہیں۔

اقبال ٹاؤن پولیس نے تینوں مبینہ ڈاکوؤں کے خلاف پنجاب یونیورسٹی کے قریب لڑکی کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔

ایف آئی آر مقتولہ کے والد کی مدعیت میں درج کی گئی جس میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کو فاطمہ کو دفتر چھوڑنے جارہے تھے کہ ڈاکوؤں نے فائرنگ کی اور ایک گولی ان کی بیٹی کو لگی اور وہ مقامی ہسپتال میں دم توڑ گئیں جہاں انہیں رکشے میں پہنچایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مشتبہ ڈاکوؤں نے بھخی والا موڑ کے قریب ڈولفن اسکواڈ کی جانب سے موٹر سائیکل کا تعاقب کرنے پر گولیاں چلائیں۔

نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق لڑکی کے والد نے ان ‘دعوؤں’ کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مجھے معلوم نہیں میری بیٹی کو لگنے والی گولی کس نے فائر کی تھی۔

یاد رہے کہ 29 مئی 2018 کو لاہور کے علاقے شاد باغ ڈولفن فورس کے اہلکاروں اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں 14 سالہ لڑکا جاں بحق ہوگیا تھا۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی: ڈولفن فورس کے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

بعد ازاں جون میں سبزہ زار میں ہی ڈولفن فورس اور مشتبہ افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے 2 بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

لاہور کی نشترکالونی پولیس نے مئی 2019 میں ڈولفن اسکواڈ کے 4 اہلکاروں کو بلاتفریق فائرنگ میں ایک مسیحی خاتون کی ہلاکت میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کرلیا تھا۔

پنجاب پولیس کے سابق آئی جی کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے ڈولفن فورس کو مشتبہ افراد پر فائرنگ کے لیے موجود اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) پر نظر ثانی کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔