حبیب جالب ایوارڈ 2020 عاصمہ جہانگیر کے نام

اپ ڈیٹ 23 اکتوبر 2020

ای میل

سماجی کارکن انیس ہارون نے عاصمہ جہانگیر کی بیٹی کی جانب سے یہ ایوارڈ وصول کیا— فائل فوٹو: اقوام متحدہ
سماجی کارکن انیس ہارون نے عاصمہ جہانگیر کی بیٹی کی جانب سے یہ ایوارڈ وصول کیا— فائل فوٹو: اقوام متحدہ

آرٹس کونسل کراچی میں حال ہی میں منعقد کی جانے والی تقریب میں حبیب جالب ایوارڈ (2020) انسان حقوق کی نامور وکیل اور سرگرم کارکن مرحومہ عاصمہ جہانگیر کو دیا گیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق صحافی اور شاعر محمود شام، جنہوں نے تقریب کی صدارت بھی کی، انہوں نے کہا کہ جس سمت میں آج کل ہمارے ملک میں چیزیں جارہی ہیں اور 22 کروڑ لوگوں کو جس بند گلی کا سامنا ہے، اس میں ہر شہر اور گاؤں کو حبیب جالب جیسے کسی شخص کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت کا موسم ایک مرتبہ پھر عروج پر ہے، اگرچہ (مزاحمت کے لیے) مقامات لوگوں سے بھرے جارہے ہیں لیکن انہیں ایک سمیت دینے والا کوئی نہیں ہے۔

محمود شام نے کہا کہ تقاریر کی جارہی ہیں لیکن کوئی بھی انہیں توجہ سے نہیں سنتا، اگر جالب جیسے کسی نے ’ایسے دستور کو میں نہیں مانتا’ پڑھ لیا ہوتا ، تو ان سب نے اسے توجہ سے سنا ہوتا۔

مزید پڑھیں: معروف قانون دان، سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں میں بسوں میں سوار کرکے لایا جاتا ہے وہ ملک کی پرواہ نہیں کرتے۔

محمود شام نے حبیب جالب کے بھائی سعید پرویز کا بے حد شکریہ ادا کیا، جو ایسے پروگرامز کے باقاعدگی سے انعقاد پر ایوارڈز کی میزبانی کرتے ہیں۔

انہوں نے پرویز کی مرتب کردہ کتاب کا تذکرہ اور تعریف بھی کی جس میں انہوں نے حبیب جالب سے متعلق مواد شائع کیا ہے۔

محمود شام نے کہا کہ حبیب جالب کی شاعری پر تحقیق کی جاسکتی ہے اسے جمہوری حکومتوں کی جانب سے نصاب کا حصہ بنایا جاسکتا ہے لیکن ہمارے ’جمہوریت کے چیمپئنز’ مرحوم شاعر کو بھلا چکے ہیں کیونکہ جمہوریت سے نہیں کرسی سے پیار ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی جسٹس (ر) اے رضوی نے کہا کہ شرکا آرٹس کونسل میں ملک کی 2 عظیم شخصیات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، حبیب جالب اور عاصمہ جہانگیر جنہوں نے لوگوں کی بنیادی حقوق کی جنگ لڑی۔

انہوں نے کہا کہ ان دونوں کی جنگ اپنی خاطر نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کا عاصمہ جہانگیر کے لیے انسانی حقوق کا اعزاز

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ہماری ملک کی سیاسی تاریخ سے متعلق جاننا چاہتا ہے تو اسے حبیب جالب کو پڑھنا چاہیے اور انہیں یہاں آنے والے اتار چڑھاؤ کا علم ہوجائے گا۔

جسٹس رشید اے رضوی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے اپنی جدوجہد 1971 میں اس وقت شروع کی تھی جب وہ کالج میں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یحییٰ خان کا مارشل لا ختم ہونے کے بعد جو سول مارشل ایڈمنسٹریٹر آئے انہوں نے یحییٰ خان کے دور کے حراستی احکامات کو جاری رکھا، ایسی صورتحال میں کوئی درخواست گزار سامنے نہیں آرہا تھا لہذا عاصمہ (جو اس وقت عاصمہ جیلانی تھیں) سامنے آئیں تھیں۔

جسٹس رشید اے رضوی نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا دوسرا بڑا کردار یہ تھا کہ انہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) قائم کیا تھا۔

مزید پڑھیں: معروف وکیل عاصمہ جہانگیر کی وفات ’قومی نقصان‘ قرار

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا تیسرا اہم کام یہ تھا کہ وہ جس بھی ادارے کو دیکھتی تھیں وہ چاہتی تھیں وہ ادارہ آئین کی جانب سے بیان کردہ حدود میں رہ کر کام کرے۔

سماجی کارکن انیس ہارون نے عاصمہ جہانگیر کی بیٹی کی جانب سے یہ ایوارڈ وصول کیا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ حبیب جالب اور عاصمہ جہانگیر جمہوریے اور انسانی حقوق کی علامت ہے۔

انیس ہارون نے مزید کہا کہ عاصمہ جہانگیر ان کی قریبی دوست بھی تھیں اور کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب انہوں نے عاصمہ جہانگیر کو یاد نہ کیا ہو۔