معروف قانون دان، سماجی کارکن عاصمہ جہانگیر انتقال کر گئیں

اپ ڈیٹ 11 فروری 2018

ای میل

معروف سماجی کارکن اور سینئرقانون دان عاصمہ جہانگیر دل کا دورہ پڑنے کے باعث 66 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال کرگئیں۔

عاصمہ جہانگیر کے اہلخانہ کے مطابق انھیں آج صبح دل کا دررہ پڑنے پر نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ جاں بر نہ ہوسکیں اور خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

عاصمہ جہانگیر کے بیٹے نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ ان کی والدہ کی نمازِ جناہ کے حوالے سے جلد آگاہ کیا جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر نے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا۔

عاصمہ جہانگیر ایک جرات مند خاتون

عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952 کو لاہور میں پیدا ہوئی تھیں، انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی.

انھوں نے 1980 میں لاہور کورٹ اور 1982 میں سپریم کورٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد ازاں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بن گئیں۔

عاصمہ جہانگیر کو فوجی آمر ضیاالحق کی حکومت کے خلاف احتجاج اور بحالی جمہوریت تحریک کا حصہ بننے کے پاداش میں 1983 میں جیل بھیج دیا گیا۔

انھیں 2007 میں ایک اور فوجی مشرف کے دور میں وکلا تحریک میں سرگرم عمل بننے پر نظر بند رکھا گیا۔

انھوں نے مشترکہ طور پر ہیومن رائٹس کمیشن اور وومنز ایکشن فورم کی بنیاد رکھی۔

پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے خدمات پر انھیں 2010 میں ہلالِ امتیاز اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا اور اقوام متحدہ کے ادارے یونسیکو کی جانب سے بھی ایوارڈ سے بھی نواز گیا۔

عاصمہ جہانگیر کو 2014 رائٹس لائیولی ہوڈ ایوارڈ اور 2010 فریڈم ایوارڈ بھی دیا گیا۔

مزید پڑھیں: عاصمہ جہانگیر، سنوڈن کیلئے سویڈش اعزاز

یاد رہے کہ عاصمہ جہانگیر 9 فروری 2018 کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح کے مقدمے میں عدالت عظمیٰ میں پیش ہوکر دلائل دیے تھے۔

قوم کی جانب سے تعزیت کا اظہار

صدرِ مملکت ممنون حسین نے قانون دان اور انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے مرحومہ کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر اظہارِ افسوس کیا اور انہیں عدالتی نظام میں ان کی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

بعدِ ازاں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ بار کی سابق صدر کے گھر پہنچے جہاں ان کے اہلخانہ سے تعزیت بھی کی۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

لاہور سے جاری ہونے والے ایک تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت، قانون و انصاف، انسانی حقوق اور خواتین کے لیے مرحومہ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے آئین کی بالادستی اور قانون کی فرمانروائی کے لیے عمر بھر جدوجہد کی۔

انہوں نے کہا کہ ایک جرتمند قانون دان کے طور پر وہ آمروں کے خلاف ہر تحریک کے ہر اول دستے میں شامل رہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کی ناگہانی موت سے پیدا ہونے والا خلاء مشکل سے پُر ہو گا، آج آزمائش کی گھڑی میں اصولوں اور نظریات کی بنیاد پر اٹھنے والی ایک توانا آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔

نواز شریف نے عاصمہ جہانگیر کے بلند درجات کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز نے عاصمہ جہانگیر کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی اچانک وفات سے بہت صدمہ پہنچا۔

یہ بھی پڑھیں: عاصمہ جہانگیر اور اختلاف رائے کا تحفظ

سابق صدر آصف زرداری نے اس موقع پر کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا انتقال ناقابلِ تلافی نقصان ہے، وہ ایک فرد نہیں بلکہ انسانی حقوق کے لیے موثر آواز تھیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز نے سماجی کارکن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا خلا پر ہونا انتہائی مشکل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر عظیم پاکستانی اور مسلمہ قانون دان تھیں، کشمیر سمیت دنیا بھر میں انسانی حقوق کی فعال ترین علمبردار اب ہم میں نہیں رہیں، قانون و انصاف، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔

انھوں نے دعا کی کہ اللہ پاک مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور انھیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

سینیٹر میاں عتیق نے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر دنیا کی ایک بہادر خاتون تھی، ان کی ملک کے لیے اہم خدمات ہیں۔

سینئر اینکر پرسن مبشرزیدی نے کہا کہ ‘عاصمہ جہانگیر نے ہمیشہ آئین اور قانون کی سربلندی کی بات کی اور ڈٹ کر ہر دور میں آمریت اور غیر جمہوری قوتوں کا بے خوف ہو کر مقابلہ کیا اور بلوچستان کا مسئلہ ہو یا لاپتہ افراد کا معاملہ مرحومہ نے ہمیشہ حق کی بات کی۔

سنیئر وکیل خالد رانجھا نے عاصمہ جہانگیر کو اپنی ذات میں انجمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غیر معمولی قائدانہ صلاحیتوں کی حامل تھیں اور انھوں نے خواتین اور اقلیت کے حقوق کے لیے ہر گھٹن زدہ ماحول میں حق کا ساتھ دیا۔

خالد رانجھا کا مزید کہنا تھا کہ بطور صدر سپریم کورٹ بار انہوں نے نہایت بے باکی اور ہمت کے ساتھ ہر معاملے پر اپنا موقف اختیار کیا جس میں معمولی سا جھکاؤ بھی نظر نہیں آتا تھا۔

مزید پڑھیں: الطاف کیس:عاصمہ جہانگیرکا تحریری معافی سے انکار

سینئر تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے دیگر بڑے کارناموں میں ایک بڑا کارنامہ جنرل یحییٰ خان کے دور حکومت میں اپنے والد کو جیل سے رہا کروانا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماہر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے قید وبند کی اذیتیں بھی برداشت کیں اور جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں بھی جمہوریت اور مساوات کا جھنڈا بلند رکھا۔

واضح رہے کہ عاصمہ جہانگیر کو ان کی بے لوث خدامات کے عوض 2010 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر کہا کہ ‘پاکستانی قوم ایک دلیر بیٹی اور ماں کے انتقال پر غمزدہ ہے’۔

انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کا نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا.

پی پی پی کے سینئر رہنما اور سندھ کے صوبائی نثارکھوڑو نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی قانون اور انسانی حقوق سے متعلق خدمات قابل تعریف ہیں۔

سینئر سیاست دان شیری رحمٰن نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر سے ان کا گہرا تعلق تھا اور ان کا انتقال پاکستان، انسانیت اور خواتین کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت سے متعلق ان کا موقف واضح تھا اور وہ بہت سی چیزوں کے بارے میں منفرد سوچ رکھتی تھیں اور انہوں نے پاکستانی قوم میں انسانی حقوق کا شعور اجاگر کرنے میں بہت کردار ادا کیا۔

معروف قانون دان کے انتقال سینئر صحافیوں کی جانب سے بھی افسوس کا اظہار کیا گیا، صحافی امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے بہت مشکل ہے کہ میں دکھ کے اس موقع پر بات کرسکوں۔

انھوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے اقلیتوں کے لیے خواتین کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی اور انہوں نے انسانی حقوق کے لیے پے پناہ خدمات انجام دیں۔

امتیاز عالم نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر نے ہر دور میں مارشل لاء کی مخالفت کی، وہ چائلڈ لیبر کے خلاف تھی جبکہ انہیں کئی بات قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہوئیں۔

سینئر صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر بڑی قانون دان تھی اور ان کا خلا اتنی آسانی سے پورا نہیں ہوسکتا، وہ ہمیں اپنے اصولوں پر کھڑی رہیں اور کبھی ان پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

معروف سماجی کارکن کے انتقال پر اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کے انتقال سے ہم نے ایک آواز اور ایک مشورہ دینے والی خاتون کو کھو دیا، وہ ایک سخت خاتون تھیں اور انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

وکلا کا تین روزہ سوگ

پاکستان بارکونسل کی جانب سے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کی وفات پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے ارکین کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان بارکونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضیٰ اور چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی غلام شبیر شر نے گہرے غم کا اظہا کرتے ہوئے وکلا برادری کو12 فروری سے 14 فروری 2018 تک تین روزہ سوگ منانے کی ہدایت کی۔

وکلا 12 فروری 2018 کو عدالتوں میں پیش نہیں ہوں گے اور عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ میں شرکت کریں۔

پاکستان بار کونسل کے مطابق ملک بھر کے وکلا اپنے متعلقہ بار ایسوسی ایشنز میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد کریں گے۔