جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’نقائص‘ تھے، سپریم کورٹ

اپ ڈیٹ 24 اکتوبر 2020

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

اسلام آباد: سپرم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 209 (5) کے تحت صدر مملکت عارف علوی غور شدہ رائے نہیں بنا پائے لہٰذا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس میں ’مختلف نقائص‘ موجود تھے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے خود تحریر کردہ 174 صفحات پر مشتمل اکثریتی فیصلے میں کہا کہ چونکہ تحقیقات کے لیے درست اجازت نہیں لی گئی تھی لہٰذا جواب دہندگان (فریقین) نے جسٹس عیسیٰ کے ٹیکس ریکارڈز تک غیرقانونی رسائی حاصل کی۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے والی متعدد درخواستوں کی سماعت کرنے والے 10 رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ بھی آبزرو کیا کہ صدر اور وزیراعظم عمران خان کے ذریعے جسٹس عیسیٰ کے امور کی چھان بین کا کوئی اختیار نہیں تھا، اس کے بجائے وزیر قانون فروغ نسیم نے اجازت حاصل کی۔

خیال رہے کہ 19 جون کو اپنے مختصر حکم میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور ان کے اوپر اپنی اہلیہ اور بچوں کے نام پر 3 آف شور جائیدادوں کو ظاہر نہ کرنے پر لگائے گئے مس کنڈکٹ کے داغ کو صاف کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کالعدم قرار دے دیا

بعد ازاں اب عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ سرینا عیسیٰ کی ملکیت میں غیرظاہر شدہ لندن پراپرٹیز کی معلومات طلب کرنے کے علاوہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری شوکاز نوٹس اور ریفرنس کا دیگر مواد بغیر کسی بنیاد کے تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس کے مطابق نوٹس میں جج کی جانب سے مبینہ بدانتظامی (مس کنڈنکٹ) اور جواب داخل کرانے کے لیے ان کے لیے ہدایت اپنی طاقت کھو چکی اور اسے برقرار نہیں رکھا جاسکتا اور اس کا ختم ہونا ضروری ہے۔

عدالتی فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جج کے ابتدائی جواب پر سابق اٹارنی جنرل برائے پاکستان انور منصور کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب الجواب میں سخت زبان سے متعلق بھی خامیاں بیان کی گئیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے جج کے لیے اٹارنی جنرل کی جانب سے استعمال کی گئی زبان پر پسندیدگی کا اظہار کرنا چاہیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ سخت زبان کا استعمال ریفرنس میں نہیں بلکہ جواب الجواب میں استعمال کیا گیا، یہ صدر کے ریکارڈ کے حصے کے طور پر نہیں تھا، جس کے باعث یہ انکوائری کے لیے ریفرنس کو سپریم جوڈیشل کونسل بھیجنے کے صدر مملکت کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوا، لہٰذا ریفرنس اور اس کے خلاصے کی تیاری کے بعد ریفرنس دائر کرنے میں اٹارنی جنرل کے ریمارکس کو بدنیتی پر مبنی نہیں کہا جاسکتا۔

انہوں نے اس پر بھی افسوس کا اظہار کہا کہ سابق وزیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بذریعہ پریس کانفرنس عوام میں جسٹس عیسیٰ سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دیے، ساتھ ہی کہا کہ ان کے خلاف علیحدہ ایک آزاد توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی۔

اثاثہ جات ریکوری یونٹ (اے آر یو) کی تشکیل سے متعلق اکثریتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ اے آر یو کے قیام میں نہ ہی کوئی عیب تھا اور نہ ہی مرزا شہزاد اکبر کے بطور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب تقرر میں کوئی حرج تھا۔

ججز کی نگرانی سے متعلق اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس عیسیٰ کے وکیل یہ ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے کہ آیا ان کے موکل یا اہل خانہ (کی سرگرمیوں) کی نگرانی کی گئی یا ان کے روابط میں خلل ڈالا گیا۔

تاہم عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ اگرچہ یہ کہنا درست ہے کہ بینظیر بھٹو کیس میں غیرقانونی نگرانی اور آئین کے آرٹیکل 14 (ون) کی خلاف ورزی کی گئی، تاہم موجودہ کیس میں حقائق پر اسی طرح کا فیصلہ دینا اپنے دائرہ کار سے آگے بڑھنے کے برابر ہوگا۔

ریفرنس میں خامیوں (ہولز) کی نشاندہی کرتے ہوئے جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا کہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا جو ریفرس دائر کرنے سے قبل انکم ٹیکس آرڈیننس (آئی ٹی او) کی دفعہ 116 (ون) کے تحت ضروری ہے اور یہ خیال کیا گیا تھا کہ آئی ٹی او کے دفعہ 116 (ون) (بی) کے غیرمتعین اور متنازع تشریح کی بنیاد پر جسٹس عیسیٰ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اہلیہ اور بالغ بچوں کے اثاثے ظاہر کریں۔

عدالتی فیصلے میں جسٹس عمر عطا بندیال نے آبزرو کیا کہ جج کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام کی حمایت میں ریفرنس میں نہ تو کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی کوئی پریڈیکیٹ جرم کی نامزدگی کی گئی، مزید یہ کہ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں کہ درخواست گزار نے فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت رجیم کی خلاف ورزی کی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا کہ صدر مملکت نے ریفرنس کے چیف آرکیٹیکس اس وقت کے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی جانب سے ریفرنس کی طاقت اور کمزوریوں پر ناقابل قبول مشورہ لیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت ریفرنس میں قانون کے سوالات پر کسی تیسرے فریق کے مناسب، منصفانہ اور معقول مشورے پر غور نہیں کیا اور ریفرنس میں کئی قانونی اور طریقہ کار کے نقائص کو بھی دیکھنے میں بھی ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کون ہیں؟

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر نے لکھا کہا کہ فریقین (حکومت) کے ان غیرقانونی اقدامات نے قانون کو نظرانداز کرنے کو ظاہر کیا کیونکہ آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر ہونے والے ریفرنس جس میں صدر مملکت کے دستخط ہوں اور جو جج کے خلاف چارج شیخ کے طور پر پیش کیا گیا ہو اس میں اس کے تشکیل کرنے والوں کی طرف سے انتہائی ہوشیاری اور احتیاط کی ضرورت تھی

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ موجودہ کیس میں فریقین کے اقدامات نے نہ صرف آئین کی واضح دفعات، رولز آف بزنس 1973، آئی ٹی او اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی بلکہ اس میں 2010 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کیس میں وضع کردہ قانون کو بھی نظر انداز کیا گیا، جس میں خاص طور پر اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے لیے ایگزیکٹو کے من مانی اقدامات سے تحفظ کا تعین کیا گیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ لہٰذا فریقین نے صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے متعلقہ گورننگ قوانین کے مینڈیٹ پر بہت کم توجہ دی تھی، اس صورتحال میں ریفرنس کی تیاری اور فریمنگ میں ان کی جانب سے کی گئی غلطیوں کو محض غیرقانونی قرار نہیں دیا جائے، اس کے برعکس آئین کے آرٹیکل 209 کے تناظر میں ان کی غلطیاں ’قانون کو نظرانداز کرنے کے مترادف‘ ہیں۔