دوران حمل ماں کا ڈپریشن بچوں میں دمہ کا خطرہ بڑھائے

24 اکتوبر 2020

ای میل

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

دوران حمل خواتین متعدد جسمانی و جذباتی تبدیلیوں سے گزرتی ہیں، جس سے ان میں ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے۔

ایسے بچے جن کی مائیں دوران حمل ڈپریشن اور ذہنی بے چینی کا شکار رہی ہوں، ان میں لڑکپن میں دمہ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

اس تحقیق میں 4 ہزار سے زائد بچوں کے والدین سے حمل کی دوسری سہ ماہی کے دوران اور پھر 3 سال بعد نفسیاتی تناؤ کے حوالے سوالنامے بھروائے گئے۔

ماؤں سے سے یہ سوالنامے بچے کی پیدائش کے 2 سے 6 ماہ کے دوران بھی بھروائے گئے۔

طبی جریدے جرنل تھوریکس میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 362 خواتین اور 167 مردوں کو ماؤں کے حمل کے دوران نمایاں نفسیاتی مسائل کا سامناا ہوا تھا۔

محققین نے دریافت کیا کہ دوران حمل ماں کا ڈپریشن اور ذہنی بے چینی بچوں کے پھیپھڑوں کے افعال کو ناقص بنانے اور دمہ کی تشخیص سے جڑا عنصر ہے۔

تحقیق کے مطابق حمل کے دوران نفسیاتی مسائل بچے کے پھیپھڑوں کے افعال پر اثرانداز ہوتے ہیں تاہم پیدائش کے بعد والدین میں ذہنی صحت کے مسائل اور بچوں میں دمہ کے خطرے کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہیں ہوسکا۔

نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ میکنزم ممکنہ طو رپر مادرشکم میں ہوتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ حمل کے دوران ماں کی ذہنی تکلیف 10 سال کی عمر کے تک بچوں کے پھیپھڑوں کے ناقص افعال اور دمہ کے خطرے پر اثرانداز ہوتی ہے۔

نیدرلینڈز کی اراسموس یونیورسٹی کی اس تحقیق میں شامل ڈاکٹر ایولین آر وان میل کا کہنا تھا 'یقیناً یہ دمہ کی متعدد وجوہات میں سے محض ایک وجہ ہے، مگر ہم نے دریافت کیا کہ ایسا اثر صرف ماؤں سے بچوں میں منتقل ہوتا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ مارد شکم میں کچھ ہوتا ہے، مگر یہ مشاہداتی تحقیق تھی اور ابھی ہم اس کے اثرات کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے'۔