پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلوانے میں 'ناکامی' پر پیپلز پارٹی نے حکومت سے وضاحت مانگ لی

اپ ڈیٹ 25 اکتوبر 2020

ای میل

شیری رحمٰن نے ایک بیان میں کہا کہ حکومتی ادارے اپنا کام وقت پر کیوں نہیں کرتے—فائل فوٹو: اے ایف پی
شیری رحمٰن نے ایک بیان میں کہا کہ حکومتی ادارے اپنا کام وقت پر کیوں نہیں کرتے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام اباد: اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے ملک کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکالنے میں 'ناکامی' پر حکومت سے 'وضاحت' مانگ لی۔

تاہم حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو مزید 4 ماہ تک گرے لسٹ میں رکھنے کے 'متفقہ فیصلے' کو سفارتی کامیابی قرار دیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی نے الزام عائد کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا فیصلہ ہوم ورک کے فقدان اور قانون کے مسودے میں لاپروائی برتنے کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو فروری تک گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما شیری رحمٰن نے ایک بیان میں کہا کہ 'حکومتی ادارے اپنا کام وقت پر کیوں نہیں کرتے؟ ایف اے ٹی ایف کے اندرونی ذرائع سے آنے والی خبروں کے مطابق قانون کا مسودہ تیار کرنے میں واضح طور پر لاپروائی برتی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ اپوزیشن کو ہدف بنانے کے بہانے کے طور پر کالے قوانین منظور کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی حقیقی شرائط کو نظر انداز اور ادھورا کام کیا گیا۔

وفاقی وزیر حماد اظہر کے ایک ٹوئٹر بیان کے تناظر میں پی پی پی کا کہنا تھا کہ 'یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ملک اب تک گرے لسٹ میں ہے اور وزرا مبارکباد کے پیغامات دے رہے ہیں'۔

یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کے لیے معاونت کی روک تھام (سی ایف ٹی) کے حوالے سے 27 نکاتی ایکشن پلان میں بقیہ 6 پر عملدرآمد کرنے کے لیے آئندہ 4 ماہ یعنی فروری 2021 تک گرے لسٹ میں برقرار رہے گا۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنا 'سفارتی کامیابی' ہے، حماد اظہر

ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے ٹاسک فورس کے 3 روزہ جائزہ اجلاس کے بعد ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران اس فیصلے کا اعلان کیا۔

مارکس پلیئر نے ورچوئل پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ جب پاکستان تمام 27 نکات پر عمل درآمد یقینی بنا لے گا تب ایک ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی جس کا مقصد زمینی حقائق کا جائزہ لینا ہوگا۔

ایف اے ٹی ایف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے ایکشن پلان کے 27 میں سے 21 نکات پر کامیابی سے عمل درآمد کر لیا جبکہ 6 پر جزوی عمل درآمد کیا گیا جن پر مکمل عملدرآمد کے لیے پاکستان کو فروری 2021 تک کی مہلت دی جارہی ہے۔

پاکستان نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'یہ پاکستان حکومت کی کوششوں پر ایف اے ٹی ایف کے اعتمان کا مظہر ہے'۔

تاہم شیری رحمٰن نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑے گی کہ یہ پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کروانے میں کیوں ناکام رہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت ہمیں ایف اے ٹی ایف بلیک لسٹ میں ڈلوانے کے عزائم میں ناکام ہوگا، وزیر خارجہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، ایسا پہلے بھی بہت آسانی سے کیا جاچکا ہے اور دوبارہ بھی ہوسکتا ہے'۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے متعدد قوانین روندے، پارلیمان کی بے عزت کی اور یہ قوانین منظور کروائے جو ایف اے ٹی ایف کو درکار بھی نہیں تھے۔

رہنما پی پی پی نے کہا کہ 'انہوں نے اس سے کیا حاصل کیا، اب بھی ایکشن پلان کے 6 نکات باقی ہیں جنہیں مکمل کرنے کی ضرورت ہے، عالمی واچ ڈاگ نے حکومت کو 2019 کے آخر تک ایکشن پلان پر عملدرآمد کا کہا تھا جس میں کووِڈ 19 کی وجہ سے توسیع ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ 'ہماری جانب سے کوئی خاص پیش رفت نہ ہونے کے باوجود حکومت کو اپوزیشن کا شکار بنانے کے بجائے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پورے کرنے پر توجہ دینی چاہیے'۔

شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ 'ہم نے کسی سرکس کے بغیر پاکستان کو کئی فہرستوں سے خارج کروایا ہے جبکہ زمینی صورتحال زیادہ سخت تھی'۔